عدلیہ سے قوم کی اصل توقعات
19 اگست 2018 2018-08-19

ابھی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج میاں ثاقب نثار کے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان کا عہدہ سنبھالنے میں دو تین ماہ باقی تھے جب انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں دانشوروں اور طلباء سے ایک خصوصی خطاب کیا۔ سینئر جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کی یہ تقریر نہایت موثر اور دل میں اترجانے والی تھی۔ خصوصاً اس وقت حاضرین کی حالت دیدنی تھی جب آپ نے پاکستان کے عدالتوں کی خستہ کارکردگی پہ روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر اس حد تک ہورہی ہے کہ چند روز پہلے میں نے ایک 54 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ پھر جب 31 دسمبر 2016ء کے ایک سرد دن کو انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ پاکستان کا حلف اٹھایا تو ہماری خوشی انتہا پر تھی کہ اب انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہیں ہوا کرے گی۔ پھر جب مختلف مواقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انصاف کی فوری فراہمی کا اعادہ کیا تو پاکستان کے اس کے وجود میں آنے کے روزِ اول سے انصاف سے محروم عوام کو یقین ہوگیا کہ بالآخر وہ دور آن پہنچا جب انہیں کچہریوں اور عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے پوری عمر نہیں گزارنا پڑے گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انصاف انہیں اب گھر کی چوکھٹ پہ نہیں تو کم از کم تاخیر سے نہیں ملا کرے گا۔ لیکن اب دکھ کے ساتھ دست بستہ عوام کی مایوسی میں ڈوبی ہوئی آواز اوپر پہنچانے پہ مجبور ہوں کہ انصاف کی فراہمی جس قدر مشکل پہلے تھی، ویسی ہی آج بھی ہے۔ کلمۂ حق تو یہ ہے کہ اب عوام انصاف کی فراہمی کو ناممکن سمجھنے لگے ہیں۔ ایک ستم یہ ہوا کہ میڈیا جو عوام کی آواز نشر کرنے کا پابند ہوتا ہے، اس کا بڑا حصہ عوام کے اس عظیم دکھ کو پس پشت ڈال کر سیاستدانوں اور ان کے انتخابات سے متعلق مسائل کو اس ملک کا اصل مسئلہ گرداننے لگا۔

انصاف کی فر اہمی سے جڑی عو ام کی عد لیہ سے ایک تو قع ان کی غر بت دو ر کر نے سے متعلق تھی۔ لیکن کیا ہوا؟ کیا عوام کی غربت میں کسی طور کمی آئی؟ کمی آنا تو دور کی بات، ہوا یہ کہ عوام اس حد تک مایوس ہوچکے ہیں کہ انہوں نے اپنی غربت کو تسلیم کرلیا ہے۔ وہ یوں کہ انہیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ غریب پیدا ہوئے تھے، غریب رہیں گے اور غریب مر جائیں گے۔ لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ روزمرہ جتنی محنت کرتے ہیں، ایک مجبوری کے سے عالم میں صرف زندہ رہنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ وہ اپنے حق کے بارے میں سوال کرنا بھولتے جارہے ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کسی ترقی کرنے کے جذبے سے عاری عوام کا یوں اپنی ہڈیاں رگڑنا ان کو کہاں لے جانے کو ہے۔ بے شک وہ کسی قسم کی گرفت میں آنے سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی بڑا اجتماعی احتجاج نہیں کرتے، مگر اپنے خاموش ہونٹوں سے عدالتِ عالیہ سے اس کے کیے گئے وعدے کے جواب میں یہ ضرور کہتے ہیں :

جو دیس کے ہوتا ہے خوشی کا دشمن

دیتا نہیں آب و نان و کافور و کفن

جس دیس سے ملتا نہیں پیغامِ حیات

اس دیس میں اگتی ہی نہیں حب وطن

غربت دور کرنے ہی کے زمرے عد لیہ نے عوام کے ان کے لیئے روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس دیکھنے میں آرہا ہے۔ وسائل کی کم دستیابی کی بناء پر یا چلیں وجہ کچھ بھی ہو، ہم دیکھتے ہیں کہ ملوں اور فیکٹریوں میں مزدوروں اور کاریگروں کی چھانٹی کا عمل ترقی پذ پر ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ بہت سی ملیں اور فیکٹریاں وسائل کی عدم دستیابی کی بناء پر مستقل طور پر بند ہوتی جارہی ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر پریس کلبوں کے سامنے بے روزگاروں کے جلوس جھلسا دینے والی دھوپ اور حبس زدہ موسم میں کھلے آسمان کے نیچے احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ کاش ہم ان کے چہرے پڑ سکتے۔ مگر پنجابی زبان کے ایک شاعر نے ان کے چہروں کو پڑھ لیا اور پڑھ کر کہا ؂

جس دن نہ مزدوری لبے

بوئے الوں گھر نئیں وڑ دا

مطلب یہ کہ جس روز بھی مجھ مزد ور کو مزدوری نہیں ملتی، میں گھر الوں سے آنکھ ملانے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ میں سیدھے راستے یعنی دروازے کے راستے سے گھر میں داخل ہونے کی بھی ہمت نہیں کرسکتا کہ جب اہل خانہ آس بھری نگاہوں سے میری راہ دیکھ رہے ہوں گے تو میں انہیں کیا جواب دوں گا۔ اسی بات کو آج سے قریباً پون صدی پہلے ہماری قومی رہنما حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے ایک مصرعے میں کچھ یوں بیان کردیا تھا کہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات۔ کیا عد لیہ کا عوام سے انہیں روزگار مہیا کرنے کا وعدہ پورا ہوسکے گا؟ فی الحال تو اس کے دور دور تک کوئی اثرات نہیں آ تے ۔

عدلیہ کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے روزِ اول سے چیف جسٹس صاحب ملک میں صحت کے متعلق مسائل پر متفکر دکھائی دیئے۔ اس بارے انہوں نے ملک بھر کے ہسپتالوں کے دورے کیے۔ انہوں نے خود دیکھا کہ ہسپتالوں میں ایک ایک بستر پر دو دو، تین تین مریض لیٹے ہوئے تھے اور جنہیں وہاں بھی جگہ نہیں مل رہی تھی، وہ ہسپتالوں کے برآمدوں میں دراز تھے۔ کیا اب تک ہسپتالوں کچھ بہتری ہوسکی؟ افسوس کہ یہاں بھی پہیہ الٹا گھوما۔ یعنی پہلے مریض پھر ہسپتال کے برآمدوں تک ہی محدود تھے، اب تو حالات کی خستگی کی بات اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ مریض اب ہسپتالوں کے باہر سڑک پر دراز ہیں۔ صحت کی بہتری کہاں اپنی تکمیل کو پہنچ سکتی ہے جب ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو اٹینڈ کرنے کی بجائے کسی ٹریکٹر کی مرمت کرتے ہوئے اس کے لیے پرزے خرید رہے ہوں۔ ڈاکٹر ایسا کرنے پہ اس لیے مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنی تنخواہ سے اپنے گھر کا چولہا جلانا جاری نہیں رکھ سکتے۔ صحت کو بہتر بنانے کے علاوہ عد لیہ کا ایک وعدہ ملک کے بیرونی قرضوں میں کمی لانے کا تھا۔ مگر یہاں تو حالات اس حد تک ابتر ہوچکے ہیں کہ آئندہ کے ممکنہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پیغام دے دیا کہ ملک کی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینا ناگزیر ہے۔ جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسی مچ ریٹنگ نے پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کے سبب ریٹنگ میں کمی کردی ہے۔ اس ایجنسی نے پاکستان کی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ معاشی سطح پر بیرونی ادائیگیوں کے بگڑتے ہوئے توازن کو درست کرنے اور سنگین معاشی صورتِ حال پر قابو پانے کے سلسلے میں پاکستان کو سخت پریشر کا سامنا ہوگا۔

اوپر بیان کیے گئے ان قومی مسائل کا اثر نیچے کی جانب سفر کرتا ہوا عام شہری تک آکر رہتا ہے۔ یہ اثر ان کے ذہنی مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ گو چیف جسٹس صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں عام آدمی کو ذہنی آسودگی میسر آئے گی اور وہ اپنے گھر میں چین کی نیند سوسکے گا مگر اوپر بیان کیے گئے بڑھتے ہوئے مسائل اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تو عام آدمی کا بچا کچھا ذہنی سکون بھی غارت کرکے رکھ دیا ہے۔


ای پیپر