روس کا دست تعاون اور امریکا کی بے جا شکایات
19 اگست 2018 2018-08-19

عوامی حلقوں میں اس اقدام پر اظہار مسرت کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اور روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر ایک جیسے خیالات رکھنے کی بنیاد پر مضبوط شراکت داری قائم رکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔یہ انکشاف دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے گزشتہ دنوں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کے سوالوں کے جواب میں کیا۔ترجمان نے بتایا کہ روس اور پاکستان کے دفاعی تعلقات بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک باہمی تعاون سے دفاعی معاملات میں فروغ کے لیے کام کریں گے۔ ادھرروسی رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں روس پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی پیش کش کرچکا ہے۔ یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ ر وس بھارتی رویے کی وجہ سے پاکستان کے قریب ہو رہا ہے اور دوسری طرف بھارت نے اپنے رویے سے روس سے اپنی تمام اخلاقی ذمہ داریوں کو ختم کردیا ہے۔ ان حالات میں ناگزیر ہوچکا ہے کہ روس پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر خود سے لگائی پابندی کو ختم کرے۔ واضح رہے کہ ماضی میں روس نے اکثر پاکستان کے ساتھ منافع بخش معاہدوں کو رد کر دیا تھا لیکن اب روس کوتجارتی منافع کے اپنے مفادات پر عمل کرنا چاہیے۔ روس کے سینٹر فار انلاسس آف اسٹریٹجی اینڈ ٹیکنالوجیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر کانسٹینٹن میکنکو کا کہنا ہے کہ’’ روس نے اب پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ روس بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، تاہم ففتھ جنریشن پروگرام کے متعلق بھارتی رویے کی وجہ روس کو پاکستان میں ایس یو لڑاکا طیاروں کو فروغ دینا چاہیے،دوسری صورت میں، چین، جنوبی کوریا یا ترکی کی کمپنیاں تقریباً پانچ برس میں اس مارکیٹ پر چھا جائیں گی‘‘۔ زمینی حقائق سے آگاہ مبصرین بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کا ملٹری طیاروں کا فلیٹ امریکی اور چینی طیاروں پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان روس سے ایس یو 35خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو بھارت اس پیشرفت سے خوش نہیں ہوگا۔ روس پاکستان کے ساتھ ایم آئی 8اورایم آئی17ہیلی کاپٹرز میں بھی تعاون کررہا ہے جس سے بھارت کو کوئی مسئلہ نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ روس بھارت کے مفادات پر کم توجہ د ے۔کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی پالیسی بھارت کے لئے ایک سزا کی حیثیت رکھتی ہے، اگرچہ دونوں ممالک کئی دہائیوں کے لئے مثبت تعلقات رکھتے ہیں،تاہم سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔یہ کوئی راز نہیں کہ بھارت پہلے بھی اور اب بھی روسی ہتھیار وں کااہم خریداروں میں سے ایک ہے۔ا سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2000ء سے 2014ء میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا بھارت تھا ،جس میں روسی اسلحے کا75فیصد حصہ تھا۔ 2015ء میں بھارت کوروسی ہتھیاروں اور فوجی سامان کی ترسیل کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تھا۔ 2016 میں دو ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ 2017ء میں روسی ہتھیاروں کی مجموعی خریداری چار ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔تاہم بعد میں بھارت نے نہ صرف روس سے ہتھیار خریدنے کی کوشش کی بلکہ اسرائیل ، یورپی یونین اور امریکاسے بھی خریدنے کی کوشش کی ۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ واشنگٹن ماسکو اور دہلی کے درمیان دفاعی تعاون ختم کرنا چاہے گا۔جولائی کے آخر میں بھارتی وزیردفاع نرملہ سیتارمن نے کہا تھاکہ’’ بھارت اب رشئین انڈیا ففتھ جنریشن فائٹر ائیرکرافٹ پروگرام (ایف جی ایف اے) کی پارٹی نہیں اس پروگرام کے تحت پانچویں جنریشن کے طیارے بنائے جارہے تھے، ہم نے روس کو بتادیا کہ بھارت اس منصوبے میں حصہ لینے والا نہیں ، لیکن یہ بھی واضح کردیا کہ روس خود اس پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے،بھارت بعد میں کسی مرحلے میں اس کے ساتھ مل سکتا ہے‘‘۔اس موضوع پر بھارتی فضائیہ کی خصوصی رپورٹ میں کہاگیا کہ یہ پروگرام ہماری ضرور یا ت کو پورا نہیں کرتا کیونکہ اس کے تحت ایک بھی ایسا طیارہ تیار نہیں ہوسکتا جس کی کارکردگی امریکی لڑاکا طیارے ایف ایف 22 اور ایف 35 کے قریب ہو۔ روس اور بھارت نے 2007 میں اس پروگرام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ گزشتہ چند سالوں میں بھارت نے کئی بار اس پروگرام کی زیادہ لاگت اور عملدرآمد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔بھارتی مارکیٹ پر امریکی، فرانسیسی، اور اسرائیلی کمپنیاں چھائی ہیں۔ روس کا 25فی صد حصہ ہے۔ بھارت اسلحہ خریداری میں آزادانہ کام کرنا چاہتا ہے تو پھر روس نے کیوں محدود کررکھا ہے۔ تاہم اس میں سیاسی اور ملٹری خطرات ہیں، روس کے ستر ممالک کے ساتھ فوجی اور ٹیکنیکل تعاون ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر خالی از دلچسپی نہیں کہ مسلم دنیا میں سوڈان 2017ء میں روس سے چوتھی نسل کے سخوئی ایس یو 35 لڑاکا جیٹ خرید چکا ہے اور ا س کی پہلی کھیپ سوڈان پہنچ گئی ہے۔البتہ دونوں ملکوں کی جانب سے ان طیاروں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔سوڈان روس سے یہ لڑاکا طیارے حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دونوں ملکو ں کے درمیان دفاعی شعبے میں ایک سمجھوتے پر عمل درآمد سے صرف چار روز بعد سوڈانی صدر عمر حسن البشیر آیندہ جمعرات کو روس کے تین روزہ دورے پر پہنچے۔ یہ ان کا روس کا پہلا دورہ تھا۔واضح رہے کہ سوڈان کی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر صلاح الدین عبدالخالق سعید نے مارچ2017ء میں میں روس کے ساتھ لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق سودے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے روس کی خبررساں ایجنسی سپوتنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان طیاروں کے حصول سے سوڈان کے دفا ع کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی اور ان کے ذریعے کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے گا۔
پاکستان کے سابق وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے اپریل 2018ء کو بتایا تھاکہ پاکستان روسی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس سے ایس یو 35 لڑاکا طیاروں سمیت جدید ترین دفاعی و فوجی آلات خریدے گا۔ ماسکو میں روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِدفاع خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 2014 میں دفاعی شعبے کے حوالے سے پاکستان اور روس کے مابین دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے، دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقیں کیں اور روس سے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر بھی خریدے، پاکستان اب بھی جدید ٹیکنالوجی کے حامل روسی ہتھیاروں کی وسیع رینج میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ پاکستان اور روس کے مابین ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لئے مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ پاکستان فوجی مشقوں، جدید آلات اور خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت وسیع تر دفاعی تعاون کے لئے پرامید ہے۔ پاکستان طویل مدتی معاہدے کے تحت ٹی 90 ٹینک، لڑاکا جیٹ طیارے اور دفاعی نظام کی خریداری میں دلچپسی رکھتا ہے۔ اس حوالے سے روس سے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان اور روس خطے بالخصوص افغانستان میں امن و امان کے قیام اور مستحکم افغانستان کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان افغانستان میں استحکام کیلئے روس کے اقدامات کا معترف ہے اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی دعوت دے چکا ہے کہ وہ روس کی طرح دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کریں۔
ادھر چند روز قبل نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ وقت پاکستان، امریکہ تعلقات کی حالت خراب ہے، امریکہ نے پاکستان سے اپنی نیک تمنائیں ختم کر دی ہیں، چین کو سمندر تک رسائی دینے کی وجہ سے امریکہ، پاکستان سے ناراض ہے اور پاکستان کے گرد جال بنا جا رہا ہے،پاکستان چین معاشی راہداری کے ذریعہ پاکستا ن نے چین کو شمالی بحریہ عرب کے ساتھ جوڑ دیا ہے،یہ مختصر زمینی راستہ، چین کو اہم فوجی اور معاشی فوائد پہنچائے گا،بحیرہ چین میں امریکہ کی بڑی طاقت بیٹھی ہوئی ہے، ہم نے سی پیک بنا کر چین کو راستہ دیا جو امریکہ کو ناگوار گزرا ،ہمارے ارد گرد جال بچھایا جا رہا ہے جو نقصان دہ ہو گا، اب امتحان کا وقت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ امریکہ بھارت کی بڑھ چڑھ کر مدد کر رہا ہے چین کے مقابل کھڑا کر رہا ہے، حالانکہ امریکہ چین کا 3 ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے، ہمیں 5 سال کے لئے چین کو کچھ نہیں دینا، افغانستان تو محض بہانہ ہے چین اصل نشانہ ہے،دیتا، امریکہ نے پہلے جنوبی وزیرستان آپریشن کا کہا پھر شمالی وزیرستان کا کہا پھر مذاکرات کا کہا ہم نے سب کہا اب وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں‘‘۔ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی آنکھوں میں پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں اس کا جوہری اتحادی اور گلوبل پارٹنر روز اول سے سی پیک کی اندھا دھند مخالفت کر رہا ہے ۔گوادر ڈیپ سی پورٹ کا آغاز ہوتے ہی بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را نے دہشت گردوں کے ایک وسیع و عریض نیٹ ورک کو قائم کر دیا تھا جو گزشتہ 12 برسوں سے بلوچستان کو دہشت گردی اور تخریب کاری کے آتشیں حصار میں لیے ہوئے ہے۔ سی پیک کے علاوہ امریکہ اور بھارت کو گوادر ڈیپ سی کے متحرک اور ایکٹویٹ ہونے پر بے بنیاد اور بے جا شکایات اور تحفظات ہیں۔


ای پیپر