کیسی اپوزیشن کون سی اپوزیشن
19 اگست 2018 2018-08-19

2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف سے شکست کھانے والی سیاسی پارٹیوں نے جوش میںآکر متحدہ اپوزیشن الائنس بنایا لیکن ہوش میں آتے ہی اپنے ہی ہاتھوں سے اسے توڑ دیا، ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اتحاد کا اعلان کیا لیکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹ دیتے وقت اتحادیوں سے ہاتھ کر گئے۔ ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں اپوزیشن کا شیرازہ بکھر گیا بقول شخصے۔
باہم لڑائی نے یہ دن دکھائے
گھٹ گئے ارکاں بڑھ گئے سائے
کیسی اپوزیشن ، کہاں کی اپوزیشن ، دو پارٹیوں کے غیر جانبدار ہوجانے سے موسم بدلا ’’اور موسم کے بدلنے سے بدل جاتا ہے منظر۔‘‘ کے بموجب وزیر اعظم کے انتخاب میں عمران خان کو واک اوور مل گیا، اپوزیشن کو ہارنا تھا متحد ہو کر لڑتی تو عزت سے ہارتی، ووٹوں کا فرق بڑھ گیا، پی ٹی آئی کی خوشی دیدنی تھی اتنے مارجن سے جیتنے پر عمران خان کو خود بھی حیرت ہوئی، خوشی سے آنسو چھلک پڑے، 22 سال کی محنت کام آئی اور وہ 22 ویں وزیر اعظم منتخب ہوگئے مبارک، سلامت، خدا کرے کہ انہیں شہر اقتدار کی ہوا نہ لگے، سادہ انسان عیاروں میں پھنس گیا تو عیاری اور مکاری کی نذر ہوجائے گا ،کسی نے کہا کہ ن لیگ اگر زندہ رہی تو ان شاء اللہ عمران خان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی، اپنے اندرونی بگاڑ درست کر لے پھر کسی کا کچھ بگاڑے، پنجاب اسمبلی کے وہ 12 ارکان کون تھے جنہوں نے اسپیکر کے انتخاب میں مسلم لیگی امید وار کو ووٹ نہیں دیے ،کہنے والے سچ کہتے تھے کہ ن لیگ اپنے فارورڈ بلاک کو سنبھال لے تو بڑی بات ہے، رانا ثناء اللہ کو یقین نہیں آتا تھا، 66 انتخابات سے پہلے دوڑ لگا گئے تھے، حیرت ہے پنجاب اسمبلی میں ن لیگ اپنے 159 ارکان کو بھی قابو میں نہ رکھ سکی۔ یہ انتشار ہے فرمان امروز ہے یا پھر عارضی سیٹ اپ کہ ن لیگ ڈھلان کی طرف جا رہی ہے، کوئی چوہدری محمد اقبال کا مخالف کوئی حمزہ کا دشمن، بیشتر رانا ثناء اللہ سے نالاں عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ میں ازلی بیر، چوہدری نثار نواز شریف کے ذکر سے الرجک، لگتا ہے نواز شریف کے بیانیے کا ساتھ دینے والے ایک ڈیڑھ درجن لیڈر ہی شہباز شریف کے ساتھ رہ جائیں گے، باقی آہستہ آہستہ جہانگیر ترین کے جہاز میں بیٹھ جائیں گے، اپوزیشن اتحاد سے بات چلی تھی اتحاد نے اپنے اجلاس میں شہباز شریف کو وزیر اعظم، خورشید شاہ کو اسپیکر کا امیدوار نامزد کیا تھا ،چند روز میں نشیمن پر کیا بجلی گری کہ آشیانے کے تنکے بکھر گئے، ن لیگ نے خورشید شاہ کو ووٹ دیے پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا، فائدہ کس کو ہوا، نقصان کس کو، خورشید شاہ نے صاف انکار کردیا کہ شہباز کو ووٹ نہیں دیں گے، دشمنی نواز شریف سے غصہ شہباز شریف پر ،کمال کی سیاست ہے، ن لیگ کے 6 رکنی وفد نے زرداری سے ملاقات کی ایک سے زائد بار کوششیں کیں ادھر سے صاف انکار، قومی اسمبلی میں بلاول کو سمجھانے کی کوششیں بھی ناکام ،دشمنی نہیں تو کوئی مجبوری ہوگی، لیکن صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں، چلمن سے لگے بیٹھے بربادیوں کا تماشہ دیکھ رہے ہیں، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس پس منظر میں پیش منظر واضح ہوگیا صدر کے انتخاب میں بھی کوئی ابہام نہیں سینیٹ کے چیئرمین بھی بحمدللہ سلامت رہیں گے اپنے ہاتھوں سے لگایا ہوا پودا ہرگز برباد نہیں کیا جائے گا، اندرونی اتحاد اور بیرونی مخالفت جاری رہے گی آصف زرداری کی جمہوریت کا یہی حسن ہے کیا کمال کی جمہوریت ہے کہ ’’جاہ و جلال‘‘ کی موجودگی میں الیکشن ہوئے گزشتہ دنوں ملتان جانا ہوا شاہ محمود قریشی کے حلقے میں ن لیگ کے حامیوں نے بتایا کہ پولنگ کے بعد گنتی ہو رہی تھی 9 بجے تک صرف 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج ایجنٹوں کے حوالے کر کے باہر نکال دیا گیا ،گھر آکر ٹی وی دیکھا تو شاہ محمود جیت چکے تھے، اسی شاہ محمود کو نمکو تیار کرنے والے کارخانے کے 24 سالہ نوجوان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہرا دیا، دروغ برگردن راوی ’’نمکین نوجوان‘‘ نے اپنے الیکشن میں 17 کروڑ خرچ کئے،21 کروڑکی امداد جہانگیر ترین کی طرف سے ملی ،کیوں؟ تاکہ شاہ محمود کا وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا خواب چکنا چور کیا جاسکے، دوسرے ہی دن ’’نمکین نوجوان‘‘ جیتی ہوئی نشست پلیٹ میں رکھ کر بنی گالہ پہنچ گیا اور چاندی کے ورق لگا کر اپنی نشست عمران خان کے حوالے کردی، عمران خان مقدر کا سکندر، خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد پنجاب پر حملہ آور ہوا، سکندر اعظم سے زیادہ بہادر اور ذہین،سکندر اعظم تو گجرات تک پہنچتے پہنچتے تھک گیا تھا اور راجہ پورس سے لڑائی کے بعد زخم خوردہ واپس لوٹ گیا ہمارے سکندر اعظم نے گجرات کے’’ مہاراجہ ‘‘کو اپنے ساتھ ملایا جنوبی اور وسطی پنجاب کے ’’مہاراجوں‘‘ کو اپنی ’’فوج ظفر موج‘‘ میں شامل کیا اور تخت پنجاب پر حملہ آور ہوگیا، پنجاب کے راجہ پورس کے ’’66 ہاتھیوں‘‘ نے اپنی ہی فوج کو روند ڈالا۔ بڑے بڑے ہاتھیوں نے منہ پھیر لیا اپنے سکندر اعظم نے پنجاب فتح کرلیا۔
اپوزیشن اتحاد بنا تو کم از کم ہم جیسے کم عقل و کم نظر سیاسی طالب علموں کو یقین نہیں آیا تھا ،پتا نہیں شہباز شریف کیوں سب کو گلے لگاتے پھر رہے تھے ،گلے لگنے والے چند دنوں ہی میں ہی گلے پڑ گئے، اپوزیشن میں بیٹھنا بری بات نہیں لیکن اپوزیشن میں بیٹھ کر ’’چولیں‘‘ مارنا تکلیف دہ ہے، آج سے زیادہ مضبوط اپوزیشن کبھی نہیں آئی، 2013 میں پی ٹی آئی کی صرف 32نشستیں تھیں لیکن انہوں نے 173 بلکہ دو تہائی نشستوں والی حکومت کو ناکوں چنے چبا دیے پانچ سال تک نہ صرف نچائے رکھا بلکہ تباہ و برباد کردیا،، یہ کیا کم ہے کہ ن لیگ کا قائد اور تین بار وزیر اعظم رہنے والا اور 2013ء میں ایک کروڑ 48 لاکھ ووٹ لینے والا لیڈر اڈیالہ جیل میں اپنی طویل قید اور باقی ماندہ زندگی کے دن حبس زدہ ماحول میں گزار رہا ہے، 32 نشستوں کا کرشمہ اپنی جگہ لیکن اس وقت کی اپوزیشن نے بھی اپنے تیر تلوار سے اسیگھائل کیے رکھا، اس وقت سب نے مل کر مارا لیکن جب بلے نے ایک کروڑ 66 لاکھ ووٹ لے کر سب کی پٹائی کی تو سارے روتے دھوتے ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، لیکن ان سروں میں الگ الگ سودے سمائے ہوئے تھے، سب کو اپنے سودے بیچنے تھے چند ہی دنوں میں خریدار مل گئے، اچھے دام مل رہے تھے محفوظ مستقبل کی نوید سنائی جا رہی تھی ایسے میں ڈوبتی کشتی اور گرتی ہوئی دیوار کو کون سہارا دے، عمران خان نے 176 ووٹ لیے وزیر اعظم بن گئے، اپوزیشن متحد رہتی تو صرف تین جماعتوں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کو ملا کر 169 ووٹ بن جاتے مزید 6 یا 8 ووٹ حاصل کرنا کون سا مشکل تھا لیکن سودے بازی نے 96 سے آگے نہ بڑھنے دیا، آئندہ کیا ہوگا؟ یقین کیجیے کچھ نہیں ہوگا ،پیپلز پارٹی ن لیگ کی دشمنی میں ڈانواں ڈول رہے گی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قانون سازی میں حکومت کی بھرپور مدد کرے گی زور و شور سے مخالفت ہوگی خورشید شاہ جیسا لیڈر اپنے ’سچ‘ سے حکومت کو ’زچ‘ کرے گا لیکن اس سچ کی کوکھ سے آصف زرداری کو فائدہ پہنچانے والے قوانین جنم لیں گے اور وہ اس مرتبہ جلیلہ پر فائز ہوجائیں گے جہاں طلبی اور وارنٹ نہیں پہنچ پاتے بلکہ لے جانے والوں کے بھی پر جلتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ن لیگ کا ساتھ نہ دے کر دور اندیش فیصلہ کیا ہے پیپلز پارٹی کھپے ہی کھپے بلکہ ہر جگہ کھپے، ان تمام قیاس آرائیوں کے باوجود عمران خان نے اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ سب کا کڑا احتساب ہوگا کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ پانچ سال دس سال کی آس امید لے کر آنے والا وزیر اعظم اپنے وعدے کی پاسداری کرے گا۔


ای پیپر