پاکستانی معیشت اور نیا پاکستان
19 اگست 2018 2018-08-19

جب تک یہ سطور قارئین تک پہنچیں گی تب تک تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پاکستان کے نئے وزیر اعظم کا حلف لے چکے ہوں گے۔ بلکہ ان کی کابینہ کے اہم وزراء بھی سامنے آ چکے ہوں گے۔ عمران خان اس لحاظ سے تو خوش قسمت ہیں کہ وہ 22 سال کی مسلسل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وزیر اعظم بن رہے ہیں۔ مگر ملک کی خراب معاشی صورت حال کے پیش نظر ان کی حکومت کے پاس ہنی مون کے لیے زیادہ وقت نہیں ہو گا ۔ انہیں معیشت کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان اقدامات اور فیصلوں سے واضح ہو جائے گا کہ وہ ملک کی معیشت کو نئے راستے پر ڈالتے ہیں یا پھر روائتی راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیونکہ معاشی فیصلوں اور پالیسیوں سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ہمیں پرانے پاکستان میں ہی گزارہ کرنا ہو گا یا پھر نیا پاکستان وجود میں آئے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ معاشی ڈھانچے اور پالیسیوں کی بنیاد پر تو نیا پاکستان وجود میں نہیں آ سکتا۔ اس کی بنیاد پر تو محض پرانے پاکستان کو رنگ روغن کر کے خود کو تسلی دی جا سکتی ہے۔ جس طرح عام جہاز یا راکٹ پر بیٹھ کر چاند پر نہیں جایا جا سکتا اسی طرح پرانے معاشی اور انتظامی ڈھانچے کی بنیاد پر نیا پاکستان وجود میں نہیں آ سکتا۔ اگر تو نئے پاکستان سے مراد صرف یہ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بن گئے ہیں اور تحریک انصاف نے پنجاب میں حکومت بنالی ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی 10 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر محض چہروں کی تبدیلی کا نام پاکستان اور تبدیلی ہے تو پھر واقع تبدیلی آ گئی ہے اور نیا پاکستان بن گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے دو باتیں تو بہت واضح ہیں۔ ایک تو یہ کہ تین دہائیوں سے جاری نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی معاشی پالیسیاں جاری رہی گی ۔ نج کاری کے نام پر پبلک سیکٹر کے چند بچ جانے والے اداروں کی فروخت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری یہ کہ اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والی معاشی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے گا۔ تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کو بنانے میں فیصلہ کن کردار کارپوریٹ سیکٹر اور روایتی افسر شاہی کاہی رہے گا۔ امیروں کو امیر ترین اور غریبوں کا خون نچاڑنے والی معاشی پالیسیاں جاری رہیں گی۔اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف پاکستان کے تمام مسائل جو کہ انتظامی معاشی، سیاسی اور سماجی نوعیت کے ہیں۔ ان کو نہایت سادگی سے محض بد عنوانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ملک میں جاری بد ترین معاشی و سماجی استحصال کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے محنت کشوں اور کسانوں کو زبردست استحصال کا سامنا ہے۔ جس کے خاتمے کی نئی حکومت سے کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ہمارے ہاں بد عنوانی کے بیانیے کو محض سرکاری وسائل کی لوٹ مار سے منسوب کر دیا گیا ہے ۔ اس لیے کم از کم تنخواہ نہ دینا، ٹیکس چوری کرنا اور اپنی سیاسی اور سماجی معیشت سے نا جائز فائدہ اٹھا کر دولت کے انبار لگانے کو بد عنوانی نہیں سمجھا جاتا۔ در اصل سماجی و معاشی استحصال بد عنوانی لوٹ مار اور جبر کی انتہائی بد ترین اور بھانک شکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک محنت کش 12 سے 6 گھنٹے کام کرنے کے با وجود اپنے خاندان کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ محنت کش کی خراب قسمت یا ہڈ حرامی نہیں ہے جیسا کہ عموماً تصور کیا جاتا ہے بلکہ اس کی وجہ اجرتوں کے تعین کا پیمانہ اور معیار ہے۔ جس کے تحت محنت کشوں، ہاریوں اور کھیت مزدوروں کو منافوں میں سے اجرت کے نام پر ایک معمولی سا حصہ دیا جاتا ہے اور ان کو اپنے خاندان سمیت محرومیوں اور غربت ختم نہ ہونے والی لا متناہی دلدل کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ واقعی پاکستان سے غریب کا خاتمہ چاہتے ہیں اور عام لوگوں کی زندگی کو بہتربنانے کے خواہش مند ہیں تو اس ملک سے استحصال اور جبر پر مبنی انتظامی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تبدیل کر دین۔ اس ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات متعارف کرا دیے۔ جب کت موجود ہ ڈھانچہ بر قرار رہے گا اس وقت تک غربت میں کمی اور عام لوگوں کے حالات میں سدھار ایک خواب ہی رہے گا۔ نئی حکومت کے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر اب تک اپنی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ترجیحات کا جو خاکہ پیش کر رہے ہیں اس ی روشنی میں تو یہ واضح ہے کہ عمران خان کی حکومت پرانے معاشی ڈھانچے پر ہی نئے پاکستان اور تبدیلی کے بلند و بانگ وعدوں اور دعوؤں کی عمارت تعمیر کرنے کے خواہش مند ہیں۔

ہمارے روایتی ماہرین معیشت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی تمام تر توجہ کو مرکز ہمیشہ اعدادوشمار ہوتے ہیں۔ ان کی معاشی پالیسیوں اور منصوبوں کا محود ہمیشہ خوش کن معاشی اعدادو شمار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محکوم اور استحصال زدہ محنت کش عوام کی حالت میں بہتری ان معاشی ماہرین کی توجہ کا مرکز نہیں بنتی۔ ہر نئی حکومت قوم کو یہ بتاتی ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ معاشی صورت حال کو بہتر بنانے اور معاشی اعشاریے ٹھیک کرنے کے لیے مشکل اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ جب معیشت کی حالت ٹھیک ہو جائے گی اور معاشی اعشاریے درست ہو جائیں گے تو پھر عوام کی بہتری کے لیے اقدامات ہوں گے۔ مگر معاشی اعشاریوں کی درستگی میں ہی 5 سال گزر جاتے ہیں۔ مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ بر آمدات میں اضافے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ در آمدات میں بے تحاشا اضافے کو معاشی ترقی میں تیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ کشکول توڑنے اور خود انحصاری کے دعوے کر کے ملک پر قرضوں کا ہمالیہ نما بوجھ لادا جاتا ہے۔ پہلے فرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں پاکستانی معیشت اب اڑان بھرنے کے قابل ہو گئی ہے اور بلندی کی طرف سفر بس شروع ہوا چاہتاہ ے۔ مگر یہ تمام دعوے اور ترقی کا سفر ہمیشی رن وے پر اڑان بھرنے سے قبل ہی دم توڑ دیتا ہے ۔ اور نئی حکومت وجود میں آ جاتی ہے اور پہلے کے تمام مراحل اور سلسلے دوبارہ سے شروع ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کا نام بدلتا ہے ۔ مگر معاشی پالیسیاں پرانی ہی جاری رہتی ہیں۔ مجھے اپنی کم مائیگی اور کم عملی کا پوری طرح احساس ہے کیونکہ میں نہ تو کیمبرج سے پڑھا ہوں اور نہ ہی آکسفورڈ کی ڈگری میرے پاس ہے اور نہ ہی میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں ماہر معیشت ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیںآتی کہ ہر حکومت کے دور میں ہونے والی ترقی اس کی رخصتی کے ساتھ ہی کیوں چلی جاتی ہے اور ہر دفعہ ہم وہیں سے ترقی کا سفر کیوں شروع کرتے ہیں جہاں ہم 5 سال پہلے کھڑے ہوئے ہیں۔ہرنئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دوست ممالک سے قرضوں اور مالی امداد کے حصول کے لیے کوششیں کیوں شروع کر دیتی ہے۔ ہم 71 سال گزارنے کے باوجود کیوں ایک ہی مشق کو دہراتے جا رہے ہیں۔ ایک ہی طرح کا تجربہ بار بار کیے جاتے ہیں اور ہر دفعہ مختلف نتائج کی توقع کرتے ہیں۔اگر عمران خان واقعی نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور حقیقی تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں تو انہیں اس معاشی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہو گا اور ان پالیسیوں کو بدلنا ہو گا جو کہ محض اشرافیہ اور حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ معاشی اعدادوشمار کی بجائے انسانوں کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ پاکستان میں صنعتی اور زرعی پیداوار جمود کا شکار ہے۔ بے روزگاری کو کم کرنے اور بر آمدات کو بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔ پیداواری صلاحیت اور استعداد میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بڑے زمینداروں ، جاگیرداروں اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکسوں کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ معیشت پر غیر پیداواری قوتوں کے غلبے اور اجارہ داری کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ معیشت پر اشرافیہ اور حکمران طبقے کی جکڑ بندی اور تسلط کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست محض منصوعی اقدامات اور حکمرانوں کی روایتی پالیسیوں کے نتیجے میں ہر گز وجود میں نہیں آئے گی۔ بلکہ اس کے لیے ملک میں ایسا معاشی اور سماجی نظام قائم کرنا ہو گا جس کی بنیاد مساوات، برابری، سماجی و معاشی انصاف، انسونوں کے احترام اور رواداری پر ہو ۔ پاکستان میں ایک ایسے معاشی نظام کی ضرورت ہے جس میں سب کو برابری مساوی مواقع میسر ہوں۔ ایک ایسی معیشت جس کے ثمرات اور فوائد محض مٹھی بھر اشرافیہ تک محدود نہ رہیں بلکہ اس کے ثمرات سے ملک کے کروڑوں انسان مستفید ہو سکیں۔ ایسی معیشت کی بنیاد پر ہی نیا پاکستان تعمیر ہو سکتا ہے۔


ای پیپر