ڈاکو، لٹیرے اور کرپٹ افراد کا کڑا احتساب ہوگا
19 اگست 2018 2018-08-19

18 اگست 2018ء کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایوان صدر اسلام آباد میں 22 ویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ تقریب کے بعد نو منتخب وزیراعظم عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔تقریب حلف برداری میں نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک اور ان کی کابینہ کے وزراء، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان، نو منتخب وزیر اعظم کی اہلیہ، آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان ، غیر ملکی سفیروں ، بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز نوجوت سنگھ سدھو،1992 کے ورلڈ کپ کی فاتح قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں جاوید میاں داد، وسیم اکرم، مدثر نذر، انضمام الحق ،سینٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، سابق ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی سفراء و سفارتکاروں، سول و فوجی حکام، سابق سٹار کرکٹرز، غیر ملکی مہمانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
حلف برداری کے بعد وزیر اعظم عمران خان قوم سے خطاب میں اپنی حکمت عملی کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے کہ کس طرح پہلے 100 دنوں کے پلان پر عملدرآمد کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ نو منتخب وزیر اعظم ملکی بزنس کمیونٹی کو بھی پیغام دیں گے کہ وہ ملک کو کس طرح سے بہتر لیول تک لے جا سکتے ہیں جبکہ عمران خان معاشی اصلاحات سمیت دیگر پڑوسی ملکوں سے روابط بہتر کرنے کے حوالے سے بھی پیغام دیں گے۔عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے انتخاب کے بعدکہا کہ خواب ابھی پورے نہیں ہوئے۔ خواب ابھی باقی ہیں۔ کھیل ابھی شروع ہوا ہے ختم نہیں۔ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔ ملک اور قوم کو لوٹنے والے افراد کا کڑا احتساب کروں گا اور قوم کو مقروض کرنے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑیں گے اور ملک کا پیسہ واپس لائیں گے۔ عمران خان نے کرپشن اور اقربا پروری کے خاتمے کے لئے 22 سال جدوجہد کی۔ اب اس جدوجہد کا ثمر پانے کا وقت آگیا ہے۔ لہذا اب ان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ کرپٹ عناصر کو سزا دلواکر کرپشن سے پاک معاشرہ بنائیں۔ اسی سبب انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب میں کہا کہ کسی ڈاکو، لٹیرے ، کرپٹ بندے سے ڈیل نہ ہوگی۔ عمران خان نے برملا کہا کہ وعدہ کرتا ہوں وہ تبدیلی لائیں گے جس کے لئے قوم ترس رہی ہے۔ میں 22 سال کی جدوجہد کر کے اس مقام تک پہنچا ہوں۔ میں ان لوگوں کو جنہوں نے اقتدار میں آ کر اس ملک کے بچوں کا مستقبل لوٹا اور قوم کا پیسہ چوری کر کے باہر لے کر گئے میں ایک ایک آدمی کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کروں گا۔ وزیر اعظم نے وطن عزیز پر پڑنے والے قرضوں کے بوجھ کو کم کر نے کیلئے اعلان کیا کہ اس ملک میں ایسا نظام بنائیں گے کہ ہم اپنی قوم سے اتنا پیسہ اکٹھا کریں گے کہ ہمیں آئی ایم ایف یا کسی ملک کے آگے جھکنا نہ پڑے اور میں پوری کوشش کروں گا کہ اپنے نوجوانوں کا مستقبل ٹھیک کروں۔ پاکستانی نوجوانوں کو ملازمت کرنے کیلئے باہر نہ جانا پڑے۔ ہم اسی ملک میں انہیں نوکریاں فراہم کریں گے۔ اب 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی اپنی اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان کی معاونت سے اقتدار کی منزل حاصل کرنے میں سرخرو ہوگئی ہے اور خیبر پی کے میں بھی قطعی اکثریت حاصل ہوچکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں انکے نامزد کردہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے منتخب ہونے سے پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ اس طرح اب عمران خان پر نہ صرف سسٹم کی تبدیلی سے متعلق اپنے عزم اور ایجنڈے کو عملی قالب میں ڈھالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوچکی ہے بلکہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں اور عوام کیلئے روٹی‘ روزگار‘ مہنگائی‘ لاقانونیت‘ میرٹ اور انصاف کے قتل اور حکمران طبقات کی ناجائز بخشئیوں کے پیدا کردہ گھمبیر مسائل سے بھی عہدہ براہونا ہے۔ انہیں اپنے عزم کی بنیاد پر اقوام عالم میں اس ملک خداداد کا جھنڈہ بھی سربلند رکھنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے وطن عزیزمیں خطرناک صورتحال اور اس پر لٹکائی گئی گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کی تلوار کو ہٹوانے کیلئے بھی قومی خارجہ پالیسی کو ملکی سلامتی اور بہترین قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں بھارت کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی‘ تجارت اور بہتر دوطرفہ تعلقات کے حق میں ہیں تاہم اس کیلئے پہلے مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا ۔ بلاشبہ یہی ایک دیرینہ مسئلہ دونوں ممالک کے مابین سازگار تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے جس کے باہمی مذاکرات کے ذریعے حل سے اب تک بھارت ہی بدکتا رہا ہے۔
وہ 25 جولائی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی نشری تقریر میں پہلے ہی دوٹوک الفاظ میں اعلان کرچکے ہیں کہ ملک کا کوئی بھی حکمران بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی مفاہمت کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ کشمیر ہی پاکستان کی تکمیل‘ سلامتی اور استحکام و بقاء کی ضمانت ہے جس کی بھارتی تسلط سے آزادی اور تقسیم ہند کے ایجنڈا کے مطابق اسکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے کشمیری عوام گزشتہ 71 سال سے قربانیوں سے لبریز تحریک چلا رہے ہیں اور آج تک انکے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لغزش نہیں آئی۔ اس طرح کشمیریوں کے دل پاکستان اور اسکے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں چنانچہ کشمیر پر بھارت سے کسی قسم کی مفاہمت کرنا کشمیری عوام کا سفر کھوٹا کرنے کے مترادف ہوگا جس کی قوم اپنے کسی بھی حکمران کو اجازت نہیں دے سکتی۔ اس تناظر میں عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ بھارت سے سازگار تعلقات قائم کرنے کے عزم پر کاربند رہنا ہوگا اور اس کیلئے قومی جذبات اور امنگوں کی بھی بھرپور ترجمانی کرنا ہوگی۔اس ساری صورتحال میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر عمران خان اپنے اقتدار کے پانچ سالوں میں اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ملک اور عوام کا مقدر سنوارنے میں کامیاب ہوگئے اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر انہوں نے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرالیا اور اسی طرح انہوں نے قومی اتفاق رائے کی بنیاد پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر بھی ممکن بنا دی اور ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنادیا تو وہ کھیل کے میدان کی طرح سیاست کے میدان میں بھی قوم کے ہیرو بن جائینگے۔قوم ان کو کرپشن زدہ ماحول میں نجات دہندہ سمجھ کر برسراقتدار لائی ہے لہذا امید ہے کہ وہ عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔


ای پیپر