مناسب رویہ جناب
19 اگست 2018 2018-08-19

یہ بات نہایت اطمنان بخش ہے کہ مسلسل تیسری بار اقتدار کی منتقلی پُرامن طریقہ سے ہوچکی ہے اور مواقع کے باوجود کسی غیر جمہوری طاقت نے رخنہ اندازی سے گریز کیا ہے اب یہ سیاسی قیادت کی زمہ داری ہے کہ بچگانہ حرکتیں چھوڑ کر بالغ نظری کا مظاہرہ کرے مناسب رویہ اپنائے خود غرضی اور جماعتی مفاد کی بجائے اصولی اقدار پروان چڑھائے اگر اب بھی زات پر قومی مفاد کو ترجیحی نہ دی گئی تو سیاسی سمندر میں جواربھاٹے کی کیفیت پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی سیاسی قیادت نے امتحان کے وقت کبھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا مگر ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جس سے نجات کسی غیر سیاسی قوت کا فرض نہیں تو پھر کیوں سارے سیاستدان ملک کے مفاد کے لیے ایکا نہیں کرتے؟سر پھٹول میں ہی کیوں لگے رہتے ہیں ایک دوسرے کو بدنام کرنے کی بنا پر سیاسی چہرے تکریم سے محروم ہو رہے ہیں کوئی اپنی زات کا آسیر ہے کوئی جماعت کے مفاد کے خول میں بندہے کوئی لسانی وعلاقائی تعصب کے زریعے کامیابی کا متلاشی ہے خود غرضانہ رویے اور جماعتی تعلق دار ی کو ہی سب کچھ تصور کرلینے سے شخصیت پرستی کو عروج ملا ہے لیکن یہ سوچ یا رویہ مناسب نہیں اورنہ ہی یہ طرزِعمل سیاسی استحکام کا باعث بن سکتاہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں عوام ہی اقتدار د لانے کا زریعہ ہیں لیکن ہماری قیادت کے زہن میں ساتھ ہی یہ بھی راسخ ہو گیا ہے جیسے عوام ہی کسی کو اقتدار دلاتے ہیں اُسی طرح وہی اقتدار سے نکال بھی سکتے ہیں اِس کے علاوہ کو ئی اور طریقہ نہیں حالانکہ دنیا بھر میں پارلیمانی جمہوریت رائج ہے یا صدارتی نظام وہاں حکمرانوں پر نظر رکھنے والے ایک سے زائد اِدارے ہیں تاکہ حکمرانوں کو کرپشن سے روکا جا سکے مقصد اُنھیں عوامی و ملکی مفاد کا خیال رکھنے کا پابند بناناہے اگر کرپشن ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز کیا جاتا ہے اور عوام و ملک کے مفاد سے متصادم فیصلے ہوتے ہیں تو محاسبے کا اختیار رکھنے والے اِدارے حرکت میں آجاتے ہیں اور سخت بازپُرس کی جاتی ہے جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائیں بھی دی جاتی ہیں عوام کو تو معینہ مدت کے بعد ہی محاسبے کا اختیار ملتا ہے ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اور غرباکی تعداد نصف آبادی سے زیادہ ہے اسی لیے عوام احتساب کے دستیاب مواقع سے کم ہی استفادہ کرتی ہے چاہے سارا سال افلاس کا شکار رہیں اکثریت کی کوشش ہوتی ہے حقِ رائے دہی کے عوضانے میں چاہے چند دن ہی سہی کھانے پینے کے اخراجات سے نجات پالیں انھی حالات کی بنا پر حکمران خود سر ہوجاتے ہیں اور کوئی اِدارہ پوچھ تاچھ کرے تو اُنھیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ یا د آجاتا ہے یہ سوچ کسی طو مستحسن نہیں ووٹ کی عزت تو یہ ہے کہ اقتدار میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں خوارک اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ملک کو مضبوط اور خوشحال بنایا جائے ملک کو لوٹ کر اپنی اولاد کو خوشحال بنانے والے توووٹ کو بے توقیر کرتے ہیں۔
اپوزیشن اور اقتدار میں بڑا فرق ہے اپوزیشن میں آپ جلسے جلوس کر سکتے دھرنے دے سکتے ہیں قانون ساز اِداروں کے اجلاسوں میں نہ بھی جائیں تو مضائقہ نہیں ہر موضوع پر بے تکان اظہارِ خیال کر سکتے ہیں آپ تنقید کے سوا کچھ بھی نہ کریں تب بھی کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر اقتدار میں آکر آپ پر کچھ پابندیاں لاگو ہوجاتی ہیں معیشت کیسے بہتر بنانی ہے آپ نے لائحہ عمل بنانا ہے بے روزگاری کا خاتمہ آپ کی زمہ داری میں شامل ہوجاتا ہے صنعت وزراعت کی تباہی آپ کی ناکامی شمار ہو گی خوراک اور صاف پانی کی فراہمی حاکمِ وقت کا فرض ہے اندرونی امن اور ملک کی سرحدوں کا تحفظ کا بوجھ بھی حکمران کے کندھوں پر ہوتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اقتدار آکرجلسے جلوسوں اور دھرنوں تک خود کومحدود کرلیں اور پارلیمنٹ سے بے نیاز ہوجائیں کیا ہماری سیاسی قیادت کو بدلے حالات کا احساس ہے یا نہیں اگر ہے تو ملک اور قوم کے مفاد کے نقطے پر سب کو ایک ہو نا پڑے گا ایک دوسرے کو ناکام بنا کربحرحل سیاسی استحکام نہیں لایا جا سکتانہ ہی خوشحالی کی منزل مل سکتی ہے۔
انتخاب کے دوران سب نے ایک دوسرے کے لتے لے لیے جی بھر کر بُرا بھلا کہہ لیا دشنام طرازی کی جنگ میں اپنی ہنر مندی کا لوہا منوا لیاآوے آوے اور جاوے جاوے کے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا لیے لیکن انتخاب کے بعد سب پُر سکون ہو جائیں اپنے فرائض کی بجا آوری کی طرف دھیان دیں کسے سڑکوں پر گھسیٹنا ہے اور کس کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت واپس لینی ہے یہ باتیں جلسوں کے شرکا کو گرمانے کی حد تک رکھیں جب جلسوں کا زمانہ ختم ہو گیا تو ملک و ملت کے لیے بھی جوہر دکھائیں جمہوریت سے اخلاص ہے تو جمہوری اقدار کو مضبوط کریں کارکنوں کی فکری تربیت کریں آخر کار نتائج کے ثمرات سے جماعت کے ساتھ آپ کی شخصیت بھی مضبوط ہوگی یاد رکھیںآپ کی ساکھ بہتر ہوگی تو لوگ آپ کی باتوں کو دھیان سے سُنیں گے اور اہمیت دیں گے۔
اقتدار پھولوں کی سیج نہیں صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے اقتدار اہم پیمانہ ہے کسی کو این آر او نہ دینے کا عزم بہت اچھا ہے لیکن حریفوں کو ڈاکو کا لقب دینا کسی طور مناسب نہیں ایسے انداز جلد ہی پارلیمنٹ میں آپ کو تنہا کر دیں گے اقتدار میں لوگ دوست بناتے ہیں آپ دشمنوں میں اضافہ کرکے کسی طور پُر سکون نہیں رہ سکتے اگر سبھی کو للکارتے رہے طعنے دیتے رہے الفاظ کے نشتر چبھوتے رہے تو بکھری اپوزیشن متحد ہوسکتی ہے مخالف یکجا ہو نے سے رائے عامہ کو آپ کے خلاف کرنے کا باعث بنیں گے ہر خاص و عام کو حکومتی خامیاں بتائیں گے لوگ جب کان دھرنے لگیں گے تو تحریک کا آغاز ہو گا انجام کار اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑیں گے وہی اقتدار جس کے لیے آپ نے بڑی تگ ودو کی شب وروز بھاگ دوڑ کی وہی اقتدار آپ سے چھن جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کو سلام کرنے والے کورنش بجا لانے والے اور آپ کے راستے میں آنکھیں بچھانے والے آپ سے کترانے لگیں گے تعریف و توصیف کے قصیدے کوئی نہیں پڑھے گا تو صاحب حالات کا ادراک کریں اور زہنی بلوغت کا مظاہرہ کریں برداشت اور رواداری سے کام لیں کانٹے بو کر پھول کی تمنا .....؟قبل اِس کے کہ کوئی آپ کو اپنی بساط پر چلائے بہتر حکمتِ عملی اپنا کر سب کو اپنی سوچ کے مطابق چلائیں اِس طرح اقتدار کا دورانیہ بھی طویل ہو گا اور دشمنوں کی تعداد میں کمی بھی ۔ملک و ملت کی خدمت کا موقعہ بھی دستیاب رہے گا۔


ای پیپر