کانگو، جانور ، منڈیاں اور قربانی کی کھالیں
19 اگست 2018 2018-08-19

بنیادی طورپر چیچڑوں کی دو اقسام ہیں ، ایک نرم جسم والے اور دوسرے سخت جان ۔ کانگو کا وائرس اس سخت چیچڑ کی آگے ایک قسم Hyalomma میں پایا جاتا ہے۔ یہ چیچڑ خون چوستے ہیں اور مختلف جانوروں کے جسم پر رہ کر زندگی گزارتے ہیں۔ جب یہ چیچڑ کسی انسان کو کاٹتے ہیں تو وائرس جسم میں منتقل ہو جاتا ہے جس کے بعد سے بیماری شروع ہوتی ہے۔ اسی طرح متاثرہ جانور کے خون اور گوشت وغیرہ سے بھی بیماری لگ سکتی ہے۔ مگر ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ نہ تو ہر جانورپر چیچڑ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر چیچڑ میں کانگو کا وائرس موجود ہوتا ہے۔ چیچڑوں کی ایک مخصوص قسم ہے جس میں یہ کانگو کا جرثومہ پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے کیسزعام دکھائی نہیں دیتے۔ اس لئے بہت زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ، ہاں چند احتیاطیں جو بتائی جاتی ہیں ان پر ضرور عمل کر لینا چاہئے۔

کانگو اور چیچڑوں کے برعکس ہمارے کچھ شوق ہیں جو ہر سال عید الاضحی پر چھوٹے چھوٹے مسائل اور بعض دفعہ بڑے مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم جانور کی ہینڈلنگ ہے۔ خریداری کے بعد منڈیوں سے لوگ جانور کو گھر لانے کی خود کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ جانور اتنی زیادہ ٹریفک، ٹرانسپورٹیشن اور لوگوں کے ہجوم کے عادی نہیں ہوتے، اس لئے گھبرائے ہوتے ہیں۔ اب منڈی سے گھر لانے کے دوران اکثر جانور بے قابو ہو جاتا ہے اور پھر نہ صرف خریدارکا نقصان کرتا ہے بلکہ ارد گرد کے لوگوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ یہ خاص طور پر بڑے جانور کی صورت میں ہوتا۔ کوشش کرنی چاہئے کہ خریدار ی کے وقت کسی ایسے شخص کو ساتھ لے جائیں جسے جانوروں کو سنبھالنے کا تجربہ ہو تاکہ وہ کسی حد تک جانورکو قابو کر سکے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر جس شخص سے جانور خریدا ہو، اسے تھوڑا بہت خرچہ دے کر گھر تک پہنچانے کی درخواست کر لینی چاہئے ۔

منڈی جاتے ہوئے کوشش کرنی چاہئے کہ پوری آستین والے کپڑے پہن لئے جائیں۔ اس میں جوتوں کے ضمن میں خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔ رات کے وقت کھلی جگہ پر پاؤں پر کچھ کاٹ سکتا ہے۔ اسی طرح کسی کِلّے یا رسی سے ٹھوکر لگنے یا جانور کا کھر چڑھ جانے سے پاؤں زخمی بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ بند جوتے اور اگر ممکن ہوتو جوگر شوز پہن کر جایا جائے۔ چھوٹے بچوں کو منڈی میں ہر گز نہ لے جائیں کیونکہ یہاں جانور کے بے قابوہونے سے بڑے بڑے واقعات بھی ہو جاتے ہیں اور ان حالات میں بچوں کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ شرعی اصولوں کے مطابق اور صحت مند جانور کی خریداری کے لئے بہتر ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا دوست ساتھ ہو جسے قربانی کے جانور کی خریداری کا تجربہ ہو۔ اگر کوئی ایسا ساتھی میسر نہ ہو تو کسی باعلم سے اس بارے معلومات خود حاصل کر لینی چاہئیں۔

جانور گھر لانے پر اسے کسی ایسی جگہ باندھیں جہاں زیادہ پھسلن نہ ہواور بڑے جانور کی صورت میں جگہ کا انتظام پہلے سے کر رکھیں۔ دودھ، دہی، کوک ، ٹافی ، پاپڑ، چپس، نمکو، بسکٹ اور دیگر اس طرح کی غیر فطری چیزیں جانورکوہرگز نہیں کھلانی چاہئیں۔ کوشش کریں کہ صرف تازہ چارہ اور تازہ پانی دیں۔ اگر کسی ایسے شخص سے جانور خریدا ہو جس نے کچھ عرصہ اسے پاس رکھا یا خود پالا تو اس سے پوچھ لیں کہ یہ کیا کھلاتا تھا اور پھر کوشش کریں کہ اس کے مطابق خوراک کا اانتظام کریں۔ جانور بیمار ہونے کی صورت میں فوراََ اپنے قریبی ویٹرنری ہسپتال سے رابطہ کریں یا منڈیوں میں لگے محکمہ لائیوسٹاک کے کیمپ سے رجوع کر لیں۔

عید کے دن قصائی کا اہم مسئلہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس سے متعلقہ مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری ایک بڑی اچھی روایت کہ لوگ جانور خود ذبح کر لیتے ہیں۔ایسے گھر وں میں ایک دو لوگ موجود ہوتے ہیں جنہیں جانور ذبح کرنے کا نہ صرف شوق ہوتا ہے بلکہ وہ اس میں مہارت بھی رکھتے ہیں۔ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں وہ انہی سے سیکھتے جاتے ہیں اور جوانی میں پھر نئی نسل جانور ذبح کرنے کی ماہر بن جاتی ہے۔ اس روایت سے ہم پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔ کوشش کرنی چاہئے کہ جن گھروں میں آج بھی لوگ جانور ذبح کرنے اور گوشت بنانے کا طریقہ جانتے ہیں وہ اگلی نسل کو بھی سکھائیں اور ان میں شوق پیدا کریں، تاکہ یہ روایت زندہ رہے۔اس سے چھوٹے جانور کے لئے قصائی سے متعلقہ مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب قصائی چاہے جو بھی ہو، جانور کی کھال اتارنے میں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے۔ ہر سال ہزاروں کھالیں کٹ لگنے سے کم قیمت ہو جاتی ہیں۔ گرمی کے باعث خراب ہونے سے بھی کھالوں کا نقصان ہوتا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ کٹ کم سے کم لگیں۔ کھال اتارنے کے بعد اسے ہوادار جگہ پر پھیلا دیں او را س پر اندر کی جانب نمک چھڑک دیں۔ اس چھوٹے سے کام سے ہم ملکی معیشت کو بڑے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔


ای پیپر