سفر اور سیاح
19 اگست 2018 2018-08-19

فلک بوس پہاڑ، بہتے جھرنے، موسیقیت سے لبریزآبشاریں، ابلتے چشمے ، بلند وبالا درخت، گہر ے سکوت میں کوئل کی گونجتی آواز، لہلہاتے پھول، ندی کا بہتا پانی، بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور ان کے درمیان سادہ لوح افراد کی رواں زندگی ، افسانوی اور کتابی مناظر بچشم خود دیکھنے کی خواہش نے جنم لیا موسم گرما کی تعطیلات کو غنیمت جان کر شمالی علاقہ جات جانے کا قصد کیا۔حلقہ احباب میں سے پروفیسر محمد طارق گجرات سے اسکے روح رواں ٹھہرے۔دیگر میں رانا ثناء اللہ ، محمد نعیم مرزا ، چوہدری ارتقاء ، محمد آصف اور محمد محسن پروفیسر صاحبان بہاولپور سے جبکہ راقم کے علاوہ پروفیسر افضل بھلی ملتان سے اس مختصر قافلہ کا حصہ تھے۔پروفیسر محمد آصف اسکے امیر ٹھہرے۔ ملتان سے رخت سفر باندھا۔ پہلا پڑاؤ اسلام آباد میں کیا۔ناشتہ سے فراغت پاتے ہی ناران کی جانب نکل کھڑے ہوئے ،ہزارہ انٹر چینج سے ایبٹ آباد ، مانسہرہ کی جانب موٹروے پے تھے لیکن زیرتکمیل شاہراہ کی بدولت شاہ مقصود انٹر چینج سے رخ ایبٹ آباد شہر کی جانب موڑ لیا۔ شہر کی واحد بڑی شاہراہ پر ٹریفک کا اژدھام تھا یہی راستہ مانسہرہ کو جاتا ہے گاڑیاں سست روی سے چل رہی تھیں امکان غالب ہے مانسہرہ تک موٹروے کی تکمیل سے ہر مسافر کو اس اذیت سے نجات ضرور ملے گی جنکی منزل بالا کوٹ یا ناران تک ہوگی۔ سید احمد شہید کے شہر بالاکوٹ سے گذرتے 2005ء المناک زلزلہ کے مناظر تخیل میں تھے جواں ہمت مکینوں کی بدولت یہ ٹاؤن اب پورے قد کے ساتھ دوبارہ کھڑا تھا۔ بالا کوٹ شہر سے ناران کی جانب سفر درپیش تھا شاہراہ کے اک جانب دریائے کنہار کا یخ بستہ پانی پتھروں کے درمیان سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے بہہ رہا تھا دوسری جانب بڑا پہاڑی سلسلہ تھا مختلف مقامات سے جھرنے سبک رفتار سے برا ہ راست سڑک پہ گر رہے تھے جسکی بناء پر جگہ جگہ سے سڑک گڑھوں میں تبدیل ہورہی ہے بل کھاتی شاہراہ پے موجود کھڈے ڈرائیور صاحبان کی مشکلات میں اضافہ کا باعث تھے نیز دریا کی جانب ریلنگ کی عد م موجودگی عدم تحفظ کا احساس دلارہی تھی۔ بلند مقام اور پہاڑوں سے گرتے پانی کو پائپ کے ذریعہ زیرزمین دریا میں پھینکناکاغان ترقیاتی ادارہ کی ذمہ داری تھی ۔سڑک کی حالت زار شہادت دے رہی تھی کہ اسے مرمت کرنے اور شاہراہ کو محفوظ بنانے میں اس ادارہ کو خاص دلچسپی نہیں۔پتھروں کے بیچ بہتا پانی لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتا ہے جو سڑک کے گڑھوں سے زیادہ خطر ناک تھا البتہ دریاکے کنارے ریلنگ کی تنصیب اور پہاڑوں کے ساتھ درختوں کے اگاؤ سے لینڈ سلائیدنگ کی شدت میں کمی ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے احساس اطمینان ضرور بن سکتی ہے۔جب مقامی افراد سے اس بابت بات ہوئی تو انکا موقف تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی صورت راستہ کی بحالی کا کام ٹھیکیداران کو سونپ دیا گیا ہے شاید اس لئے مذکورہ ترقیاتی ادارہ نے ایمرجنسی کی صورت کیلئے سیاحوں کی مدد کیلئے کوئی ہدایاتی بورڈبمعہ نمبر کسی شاہراہ پے نصب نہیں کیا تھا۔ناران کا بازار مری کی مال روڈ کا روپ دھار رہا ہے، کہا جاتا ہے کہ موسم برسات کی آمد کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو اگست کے آخر تک جاری رہتا ہے بعدازاں برف باری کی بدولت زندگی کی رونقیں بتد ریج مانند پڑتی جاتی ہیں جب پورے ماحول کو برف ڈھانپ لیتی ہے تووہاں کے مکینوں کو اپنے مال و متاع کے ساتھ ہجرت کا دکھ اٹھانا پڑتا ہے انہیں بھی رومانوی کہانیاں صرف کتابوں میں بھلی لگتی ہیں۔ نئی صبح پہاڑوں کے اوٹ سے طلوع ہورہی تھی ناشتہ سے فراغت پاکر ہم لالہ زار اور جھیل سیف الملوک کی جانب چل پڑے مقامی ڈرائیور نے بتایا کہ یہاں موسم کا کوئی اعتبار نہیں اگر بارش ہوگئی تو لالہ زار سے واپسی ناممکن ہے ۔پُر خطر اور کچہ راستہ آپکے پاؤں کی زنجیر بن جائے گا ہمیں مجبوراً الالہ زار کی جانب رخت سفر باندھنا پڑا ۔مٹی اور پتھروں سے بنا تنگ ٹریک کسی پل صراط سے کم نہ تھا اس ٹریک پے آتے ہر سیاح کی دل کی دھڑکن تب تیز تر ہوجاتی ہے جب وہ اونچائی سے گہرائی اور ٹریک کاموازنہ کرتا ہے مقامی افراد نے بتایا ہے کہ پچاس کی دہائی سے یہ اسی طرح سے چلا آرہا ہے بہت سے سیاح اس خوف کیوجہ سے اس خوبصورت تفریحی مقام کا دور ہ کرنے سے محروم رہتے ہیں ۔سابقہ حکومت کے مذہبی وزیر اس حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں کئی بار منتخب ہوچکے مگر اس کی حالت زار سنوارنے میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ یہ مقام قدرت کی لازوال نعمتوں کاآشکار تھا ،پر فریب مناظر ہر سو تھے۔ ملکہ تربت برف سے ڈھکی اور اس پے سورج کی کرنیں ’’ قوس قزح ‘‘ کا منظر پیش کررہی تھیں مقامی افراد نے بتایا کہ اس کے پہلو میں دنیا کی حسین جھیل سیف الملوک ہے یہی ہماری اگلی منزل تھی مقامی افراد سے جب تذکرہ ’’ تبدیلی ‘‘ کیا تو پرشکوہ انداز میں بولے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری نے ہماری مشکلات میں اضافہ کردیا ہے نئے درختوں کے اگاؤ کی حفاظت کے نام ہمارے جانوروں کو تھانوں میں بند کر دیا جاتا ہے ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا روزگار نہیں البتہ نظام تعلیم کی اصلاح پر شاداں تھے۔ماضی کی نسبت جھیل سیف الملوک کو جانے والا راستہ ہموار اور کشادہ کیاجارہا تھا افراد کا وہاں جم غفیر تھا بلند و بالا پہاڑوں سے گذرتے بادل شرارت کا سماں باندھ رہے تھے سرسبز و شاداب پہاڑ فطرت کے نظارہ میں خوبصورت اضافہ تھے ۔جھیل سے منسوب بہت سی باتیں ہماری ادبی تاریخ کا حصہ ہیں لیکن بے زبان جھیل ہمارے سلوک کی چغلی کھا رہی تھی اسکا شکوہ پراگندہ پانی سے عیاں تھا، اس کے بہتے جھرنوں سے وہ سب کچھ برآمد ہورہا تھا جو سیاح اس میں پھینک سکتے تھے دن بھر یہاں قیام کرنے والے سیاحوں کیلئے نماز کی ادائیگی کا کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں تھا نہ ہی بارش آنے کی صورت میں کوئی جائے پناہ تھی۔غیر معیاری اشیاء سے بھری واجبی سی دکانیں اس خوبصورت مقام پے بڑی بدصورتی کا چہرہ لیے ہوئی تھیں۔

اگلی صبح ہمیں بابو سر ٹاپ روانہ ہونا تھا تیرہ ہزار سے زائد بلند صحت افزاء مقام ہمار ی توجہ کامرکز تھا کہا جاتا ہے کہ ماضی میں راستہ بڑا ہی پر خطر تھا اب نئی شاہراہ کی تعمیر نے سیاحوں کیلئے آسانی پیدا کردی تھی یہ شاہراہ ناران سے گلگت تک سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے تاہم پر خطر شاہراہ پر کسی بھی قسم کی حفاظت کا اہتمام ناپید تھا ریلنگ کی عدم موجودگی سیاحوں کو خوف میں مبتلا کرنے کاباعث تھی اس مقام پر آکسیجن کی کمی معمول کی بات ہے اس کا احساس گیس کے چولہے جلانے سے ہوا جب ہم نے اجتماعی کاوش کرکے چائے نوش فرمانے کی سعی کی۔مقامی افراد کاکہنا تھا کہ سانس کی بحالی کیلئے پیاز کا چھلکا بہت فائدہ دیتا ہے اس راستہ پر قدرتی مناظر اور جھیلیں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں جنہیں دیکھے بغیر گذرنا محال ہے اک بنیادی مسئلہ جو سیاحوں کو درپیش ہوتا ہے وہ ’’جائے ضرورت ‘‘کا ہے ہوٹلوں کے علاوہ مساجد میں بھی صاف ٹوئیلٹ حاجت کیلئے میسر نہ تھے بعض تفریحی مقامات پر اس مقصد کیلئے فی کس پچاس روپے وصول کیے جارہے تھے اگر کاغان اتھارٹی انکی تعمیر کا فریضہ سیاحتی مقام پر انجام دے تو سیاح بلیک میلنگ سے نجات پاسکتے ہیں۔دورانِ سفر مشاہدہ میں آئی والدین کی طرف سے لاپرواہی قابل توجہ تھی اکثر گاڑیوں میں نوعمر بچے اور بچیاں گاڑیوں کی کھڑکیوں سے ان پرخطر راستوں پے باہر ڈھلک رہے تھے کچھ بچے گاڑی کی چھت کے درمیان سے اوپر لڑھک رہے تھے انکی رضامندی خود حادثات کو مدعو کرنے کی مترادف تھی انتظامیہ کو اس حماقت کا کم از کم نوٹس ضرور لینا چاہیے۔ پاک چین سی پیک معاہدہ کی اک جھلک اس علاقہ میں بھی دکھائی دی مقامی افراد نے بتایا کہ کیوائی سے کاغان کے مابین پہاڑوں کے درمیان سرنگ نکال کر دریائے کہنار کے مقام پر ایک ڈیم کی تعمیر کاسلسلہ جاری ہے جسکا مقصد ناران کے ملحقہ علاقہ جات کو بجلی کی فراہمی بھی ہے۔ کمپنی میں کام کرنے والے نوجوان اس منصوبہ پر شاد تھے جسکی بدولت انکے روزگار کی راہ نکلی تھی یہ بھی شنید تھی کہ مانسہرہ سے ناران تک وسیع شاہراہ کی تعمیر کامنصوبہ بھی اس کا حصہ ہے اس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل بعید میں سیاحوں کو سفر کی محفوظ سہولیات دستیاب ہوں گی۔اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو وہ خوبرو قدرتی مناظر عطا کیے ہیں جو ہر ملک کامقدر نہیں اگر ہماری انتظامیہ انہیں پرکشش اور محفوظ قابل دید تفریحی مقامات میں بدلنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ہم آبادی سے زرخیز ہمسایہ ممالک کے سیاحوں کو فطری مناظر دیکھنے پے آمادہ کرسکتے اور سیاحت کو فروغ دے کر کمزور معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں تبدیلی کے علمبرداروں نے نسل نو کروڑوں نوکریاں دینے کا جو وعدہ کیا یہ اسکا ایک راستہ سیاحت کے فروغ سے بھی ہوکر گذرتا ہے بشرطیکہ ہم سفر اور سیاح کے تحفظ کی ضمانت دے سکیں۔


ای پیپر