19 اگست 2018 2018-08-19

خدا گواہ ہے کہ میں صرف اس وجہ سے نہیں کہ اے آر وائی کے حاجی عبدالرﺅف صاحب سے میرے تعلقات انتہائی برادرانہ اور احترام وتکریم والے ہیں، جن کو بے شک آپ دوستانہ بھی کہہ سکتے ہیں، ان کو صرف میں ہی دوستانہ نہیں کہتا کہ میں ذرا ”حساس“ طبیعت کا مالک ہوں ، قرآن ٹی وی چلانے والے سے بھلا کون مسلمان پیار نہیں کرے گا، ملک وملت کی پائندگی کا ہرمتمنی شخص اور ”ادارہ“ ان سے پیار کرتا ہے ۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتایا تھا، کہ قرآن ٹی وی کو میں خسارے میں ہونے کے باوجود بند نہیں کرتا، کیونکہ میں سمجھتا ہوں، کہ یہی میری زادراہ ہے، اور ان کی واقعی یہ بات سوفی صددرست ہے، کچھ اہل دانش دائرودائم ودانا اور دانیان ودرویش و دامن گیر وفقیر ، دامن امیدو آرزوئے گوہر امید لیے، رات دن قرآن ٹی وی لگائے رکھتے ہیں، مشہور اینکر نورالحسن بابا فیض صاحب نے بتایا تھا، کہ میں صرف قرآن ٹی وی دیکھتا ہوں اے آروائی کے ویسے تو اے آر وائی، نیوز، اے آروائی، ڈیجیٹل ، اے آروائی فیملی ،اے آر وائی زندگی ، اے آر وائی میوزک وغیرہ بے شمار چینلز ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کی ہے، حاجی عبدالروف صاحب، اور حاجی عبدالرزاق صاحب کی وجہ شہرت اور وجہ امتیاز یہی ہے کہ وہ پاکستان بھر میں بلکہ برصغیر کے ہربزرگ کے عرس کی تقریب کی کوریج کرتے، براہ راست دکھاتے، بلکہ مالی مدد بھی کرتے ہیں۔ خصوصاً جمعے والے دن نماز جمعہ اور نماز عیدین پہ بھی درود وسلام، اور حضرت علی عثمان ہجویریؒ کے مزار پہ رات کو دس بجے دعا مانگی جاتی ہے، جو خاصی لمبی ہوتی ہے، وہ بھی براہ راست دکھائی جاتی ہے۔ اس چینل کی نشریات رات دن جاری رہتی ہیں، جس میں محفل نعت ، ترجمہ قرآن مفتی صاحبان اور علماءکرام تفسیر قرآن سے لے کر مسائل کے حل غرضیکہ اس چینل کا اوڑھنا ، بچھونا تعلیمات اسلامی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ان سے شکوہ کیا، کہ آپ کے خاندان سے یہ توقع نہیں تھی، کہ وہ اتنی نیکی کا کام کرنے کے بعد ”نیکی کردریا میں ڈال“ کی باتوں کو سچ ثابت کرتے ہوئے واقعی اپنے نیکی کے کام کو اے آر وائی میوزیک چینل چلا کر اپنا سارا ثواب اس اندھے کنویں میں ڈال دے، تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ میرا کسی دوسرے چینل سے کوئی سروکار نہیں نہ ہم ان کے کام، اور نہ وہ ہمارے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔
ایک ان کا چینل ہے، جیتو پاکستان ، جس میں وہ طارق عزیز کے پروگرام نیلام گھر کے پروگرام کی طرح، عوام میں ہزاروں کی تعداد میں موٹرسائیکل، کاریں، اور الیکٹرونکس کی بے شمار چیزیں بانٹ چکے ہیں، جو ان کی سخاوت کا بین ثبوت ہے۔ لگتا ہے وہ اکیلے ہی پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا چاہتے ہیں۔ چونکہ ان کا تعلق میمن خاندان سے ہے، اس لیے ان کو تجارتی گر وراثت میں ملے ہیں پنجابی کہاوت مشہور ہے، خاناں دے خان پُرونے ،یعنی امیر، امیروں کے دوست ہوتے ہیں، اسی لیے ان کی دوستی کچھ عرصے سے بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض صاحب سے خاصی گاڑھی ہے ، شاید ان کے مفادات تجارت مشترکہ ہوں اس حوالے سے شاید آپ مجھ سے شکوہ کریں.... کہ کچھ تو ”بول“ مگر میں کیا بولوں ”میں بولوں گا تو بولوگے کہ بولتا ہے “ مگر اتناضرور بولوں گا، کہ پاکستان کی فوج کے سپہ سالار نے سرسبز وشاداب پاکستان کا نعرہ لگایا، تو پاک فوج، اے آروائی تحریک انصاف فی الفور ایک ہی ”پیج“ پہ آگئے یہ یاتو حسن اتفاق ہے یا پھر ”اتفاق“ کی برکات سمیٹنے کا ایک بہانہ، خیر جو بھی ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہمیشہ پھلتا پھولتا اور ہرا بھرا رکھے، بقول حفیظ تائب صاحب
یارب وادی وادی بستی ، بستی مہکے
نورپُھوہاریں برسیں، ہرسو سبزہ لہکے
چمکیں اس کے پربت، جھرنے، جنگل، دریااورمیدان
پاکستان مری پہچان
پاکستان میں ستر سال کے بعد پہلی مرتبہ شجرکاری کے بارے میں عوام میں عمران خان نے بلاشبہ ایک قابل تعریف کام کیا ہے، عمران خان کے کسی کام کی تعریف کرنا قارئین یہ تبدیلی عمران خان کے حلف اُٹھانے کے بعد مجھ میں نہیں آئی، شجرکاری کے بارے میں جو حدیث مبارکہ ہے، اسی فرمان رسول اللہ ﷺ پہ جو بھی عمل کرے گا، میرے نزدیک وہ قابل تعریف وتوصیف ہے اب اس پر عمل کرتے ہوئے، اے آر وائی کے حاجی عبدالرﺅف صاحب نے سولہ لاکھ درخت کراچی میں لگوادیئے ہیں، سپہ سالار نے شجرکاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے بیس لاکھ درخت لگوائے، عمران خان نے کراچی میں ایک کروڑ درخت لگوانے کا وعدہ کیا تھا، امید ہے جہانگیر ترین کے ملک سے باہر جانے کے باوجود بھی کراچی کے عوام کو وہ ضرور خوش کریں گے، ورنہ تو کراچی میں حکومت کرنے والی جماعتیں درخت لگانے کی بجائے ”بوٹے ہی پٹتے رہی ہیں “۔
حضورﷺ کا فرمان ہے کہ درختوں کو بھی درد ہوتا ہے، اور غالباً انہوں نے یہ بھی فرمایا تھاکہ یہ بھی جاندار ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ درخت دن میں آکسیجن اور رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتے ہیں، درختوں سے سلوک کے بارے میں جو فرمان رسول ﷺ ہے، وہ قارئین آپ سن لیں ،انہوں نے فرمایا ہے، کہ جنگ کے دنوں میں بھی، کسی عورت، بچے، بزرگ اور بیمار کو نہ ماریں نہ انہیں اذیت دیں۔
(2) کسی پھل دار درخت کو نہ جلائیں، اور نہ کاٹیں ، اور دوسرے درختوں کو بھی نہ کاٹیں کسی بھیڑ ، بکری، اونٹ، گائے، بھینس یعنی جانوروں کو کھانے کی غرض کے علاوہ نہ ماریں۔
عبادت گاہوں، میں بیٹھے لوگوں کو بھی نقصان نہ پہنچائیں اور نہ ماریں باغات، کھیتوں، کھلیانوں کو بھی تباہ نہ کریں۔
رہائشی علاقوں، گاﺅں، دیہاتوں اور شہروں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جانوروں کے ریوڑ، اور غلے بھی محفوظ رکھیں یعنی ان کی حفاظت کریں خود جنگ کی خواہش کبھی نہ رکھیں، اگر جنگ مسلط کردی جائے، اور جنگ کے بعد جو قیدی ، آپ کی قید میں آجائیں، ان کے ساتھ حسن سلوک کریں (حدیث صحیح مسلم )
امید ہے ، بائیس سال کی جنگ کے بعدبائیس کروڑ قیدی، جو نئے حکمران کی تحویل میں ہیں، وہ ان سے حسن سلوک کریں گے، اور ان پر مزید ٹیکس نہیں لگائیں گے کیونکہ عوام کا ردعمل ٹیکس کے حوالے سے فوری اور بہت شدید ہوتا ہے، اور وہ اسے ریلیف کی بجائے ظلم سمجھتی ہے، اگر اس کا جواب یہ ہو، کہ حکومت، عوام اور خصوصاً بزرگوں کو اس کے بدلے بہت سی مراعات دے گی، تو وہ اسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہی کی ایک قسم سمجھیں گے۔
میں اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں، پچھلے دنوں مارگلہ کی پہاڑیوں سے لے کر مری کے مضافات کے جنگلوں میں لاہور رجسٹرار کواپریٹو سوسائٹی کے چھٹے فلور پہ لگی آگ کی طرح اچانک بھڑک اٹھی تھی، اس کی وجوہات کیا تھیں، شاید ان کی مماثلت بھی اسلام آباد میں سی ڈی، اے کے دفتر میں لگنے والی آگ جیسی نہ ہو۔
آخر میں عرض ہے کہ اگر ملک میں واقعی درخت لگانے ہیں، تو یہ ہدف محکمہ انہار کو دے دیا جائے، اور وہ نہر کا پانی اس زمیندار کو دے، جو ایک ایکڑ میں کم ازکم دودرخت ضرور لگائے کیونکہ ٹھیکے پہ لینے والے کاشتکار درختوں کو فصلوں کے لیے نقصان دہ سمجھ کر اسے تلف کرنے کی عمداً کوشش کرتے ہیں، اگر وہ اسے نہ بھی کاٹیں تو اس کی جڑوں میں کیمیکل لگاکر اسے سکھادیتے ہیں ۔
قارئین کرام، جنگ عظیم دوم سے پہلے لاہور کا درجہ حرارت 100درجہ فارن ہائیٹ سے کبھی بھی نہیں بڑھا تھا، چونکہ اس وقت ایندھن کا متبادل کوئی نہیں تھا، لہٰذا لاہور سے بڑی تعداد میں جنگلات بے دردی سے کاٹ کر انگریز ملک سے باہر لے گئے، اس وقت سے لے کر اب لاہور کا درجہ حرارت ہرسال بڑھتا ہی جارہا ہے۔ جنرل مشرف نے گرمیوں میں بھی سوٹ، یعنی کوٹ پینٹ پہننے کا رواج تو ڈال دیا .... مگر رعایا کے دلوں میں ” ٹھنڈ“ نہ ڈال سکا، درخت اگر بفرض محال ضرورت کے وقت کاٹنے بھی پڑیں، تو قانون بنایا جائے، کہ اس کے بدلے دوگنی تعداد میں درخت لگائے جائیں کیونکہ درخت لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے، اگر اس سے پرندے بھی کھائیں تو بھی ثواب پہنچتا ہے، اور اگر گھر میں لگایا جائے اور جو حصہ ہمسائے کے گھر میں ہو، تو اس پھل کا حق دار ہمسایہ ہوتا ہے، حضورﷺ نے ایک دفعہ جنوں کو مسلمان بنانے کے لیے فرمایا کہ کون ہے، جو گواہی دے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں، وہاں متصل ایک درخت تھا آپ نے فرمایا کہ اگر یہ درخت شہادت دے تو تم مانو گے، انہوں نے کہا ہاں، آپﷺ نے درخت کو حکم دیا، اور اس نے گواہی دی تو تمام کے تمام جن مسلمان ہوگئے.... باقی پھر انشاءاللہ
آپ کی رائے کے لیے رابطہ نمبر 0300-4383224


ای پیپر