اساں .... قیدی تخت لہور.... تے

19 اگست 2018

ہمار ے جنوبی پنجاب کے ایک مزاحمتی شاعر عاشق بُزدار کی مشہور سرائیکی نظم ” اساں قیدی تخت لہور دے “ ایک زمانے میں بے حد مشہور ہوئی تھی اب بھی اس نظم کے عنوان کو ایک اکھان اور ” بولی “ کا درجہ حاصل ہے ۔ آخری سطریں کچھ یوں ہیں :
ساڈی اکھیں رَت مینہ ترمدیاں
ساڈے من ماندے ڈینہہ رات
ساڈے منہ تے جندرے جبر دے
ساڈے ہتھ کڑیاں وچ بند
اساں قیدی تخت لہور دے
اساں قیدی تخت لہور دے۔۔۔
اس علاقے کی پسماندگی ،پیاس ،غربت اور بدحالی کے علاوہ پنجاب کے حکمرانوںکی ناانصافی ،اور نظر اندازکئے جانے پر شاعروں اور ادیبوں نے بہت کچھ لکھا ۔عاشق بزدار کی نظم تو ” روہی “ او ر ” تھل “ کی زبان بن گئی۔ آج اسی روہی اور تھل دیس کے ایک بیٹے سردار عثمان بزدار کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے لاہور کے اسی تخت پر براجمان کرنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے ۔وہ جو اپنے آپ کو لاہور کا باغی یا قیدی کہتے تھے انہی میں سے ایک کو پنجاب کا تخت سونپا جا رہا ہے۔ گویا ایک مدت بعد اس علاقے کے لوگوں کی سنی گئی ہے۔ ویسے تو اس علاقے سے کئی نامور لوگ حکومت میں شامل رہے مگر یہ سب جاگیردار، وڈیرے،اور مخدوم قسم کے لیڈرز تھے جنہوں نے عہدے اور اختیار ملنے پر واپس اپنے لوگوں کو پلٹ کر بھی نہ دیکھا ۔ویسے بھی خاص طور پر وزیر اعلیٰ کا عہدہ صادق قریشی کے بعد شاید پہلی بار اس علاقے کے کسی شخص کو مل رہا ہے اور سردار عثمان بزدار اگر چہ سردار بھی ہیں مگر کہا یہی جا رہا ہے کہ یہ مڈل کلاس سردار ہیں اور وہاں کے عام لوگوں میں سے ہیں ،بقول عمران خان عثمان بزدار خوب جانتے ہیں کہ ان کے علاقے کے لوگ کس قدر تلخ زندگی سے نبرد آزما ہیں ۔
عمران خان کا یہ فیصلہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا کہ بہت سے سرکردہ اور اہم افراد پنجاب کی اس کرسی پر نظریں جمائے ہوئے تھے ۔عمران نے اگر ڈپٹی سپیکر کا عہدہ بلوچستان کو دیا تو پنجاب جیسی اہم وزارت اعلیٰ جنوبی پنجاب کے اس پسماندہ اور محروم طبقہ کے نمائندے کو دی ہے تاکہ اس علاقے میں ترقی ہو سکے، اس علاقے کی محرومیاں کسی حد تک کم ہو سکیں ۔ اس سلسلے میں عمران خان نے اپنے ضمیر کا کہا مانا ہے ۔
گل مَن کے ضمیر دی ٹُرئےے
کُلی دا بھانویں ککھ نہ رہوے
عمران اِس اہم عہدے پر نامزدگی کے سلسلے میں کسی دباﺅ میں نہ آئے ۔اور بالکل میرٹ پر فیصلہ کیا۔ عمران خان کو قومی اسمبلی میں ایک طاقتور اپوزیشن کا سامنا ہے ۔ اگلے روز اپوزیشن نے عمران خان کو سکون سے تقریر بھی کرنے نہ دی ۔اسمبلی واقعتاََ مچھلی منڈی بنی ہوئی تھی اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ عمران نے تقریر تو کچھ اور کرنی تھی مگر مسلم لیگ نون کے مسلسل شور اور نعروں سے زچ ہو کر عمران بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ۔اسمبلی میں سب سے اچھی تقریر اُس نوجوان کی تھی جو پہلی بار ایوان میں آیا تھا ،جی ہاں بلاول بھٹو نے اردو اور انگریزی کے حسین امتزاج سے ایک پر وقار خطاب کیا ۔اپوزیشن کو احتجاج کا حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مسلسل شور ہی کرتے رہیں اور کسی کی بات ہی نہ سنیں۔مسلم لیگ کی اس طفلانہ حرکت کو کسی نے بھی پسند نہ کیا ۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کام کرنے دیا جائے گا تو اسے وقت تو دیں ۔عمران نے اپوزیشن کا ہر مطالبہ مان لینا تھا ۔ اس نے کمیشن کی بات بھی کرنی تھی۔ پھر آپ کو شکوہ تو الیکشن کمیشن سے ہے جو آپ نے خود بنایاتھا ۔عدالتیں موجود ہیں اگر کہیں دھاندلی ہوئی ہے تو قانون کا سہارا لیا جا سکتا ہے ۔ جمہوریت بھی کیا سوچتی ہوگی یہ میں کس دیس میں زندہ رہنے کی کوشش میں ہوں ۔
نی میں دیس پنجاب دی رانی
تے جھڈوواں دے وس پے گئی
( یعنی میں دیس کی رانی تھی اور احمقوں کے ہتھے چڑھ گئی ہوں )
عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے ۔حلف لیتے وقت اردو پڑھنے میں خاص طور پر مشکل الفاظ کی ادائیگی میں انہیں دشواری ہوئی اگر اس تحریر کو حلف سے پہلے ایک دو بار پڑھ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اب وہ وزیر اعظم ہیں ان پر ساری دنیا کی نظریں ہیں۔ بعض معاملات میں انہیں پروٹوکول کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ وہ وزیر اعظم ہاﺅس میں رہ کر بھی بے جا اخراجات پر نظر رکھ سکتے ہیں ،اپنی رہائش گاہ ملٹری سکریٹری کے مکان میں رکھنے سے بھی انہیں سخت تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے ۔اس پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔انہیں اب پہلے بھی زیادہ احتیاط کرنی ہوگی ۔پہلے وہ صرف ہیرو تھے اب ایک سیاست دان اور پاکستان جیسے ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم ہیں۔ احتجاجی جلسوں میںوہ اپوزیشن اور اپنے مخالفین کو، جو منہ میں آیا کہتے رہے ہیں ،اب اپنی کہی بات کو انہیں خود بھی سننا ہوگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ بے جا طنز کسی بڑے عہدے پر براجمان شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔اب انہیں اور ان کی پارٹی کے ممبران کو اس طر ح کے مخول سے اجتناب کرنا ہو گا ؛پھر ایک پنجاب کی بولی یاد آگئی معمولی ترمیم کے ساتھ :
کرے ککڑیاں نال مخولاں
تے بطخا پی ٹی آئی دا
( مراد یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی بطخے کو (مسلم لیگی ) مرغیوں سے مذاق بھی سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا )
فیثا غورث کے پیروکاروں کے لئے ضروری تھا کہ وہ پانچ برس تک خاموش رہیں ،اور صرف اس کی گفتگو سنیں ،اور ان برسوں میں کبھی اس سے نہ ملیں ،پانچ برس بعد ہی انہیں فیثا غورث کے گھر داخل ہو کر ملاقات کی اجازت ہوتی تھی ۔فیثا غورث اپنے پیروکاروں کی تربیت کا قائل تھا ۔اپنے ماننے والوں کے لئے اس کی ہدایات دلچسپ اور فکر انگیز تھیں ۔مثلاََ خوراک کے حوالے سے اس کا حکم تھا کہ صبح کی سیر سے واپس آکر شہد سے ناشتہ کریں ،دوپہر میں باجرہ اور جو کی روٹی لازم تھی،کبھی صرف سبزیاں ابال کر کھائی جاتیں،خود اس نے کبھی شکار کا گوشت نہ کھایا ،وہ کہتا تھا کہ بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا جائے ،وہ ریوڑ کو راستہ دینے کے حق میں تھا( یعنی ہجوم سے مت ٹکرائیں ) آبشاروں میں پتھر پھینکنا جرم تھا( یعنی اچھے لوگوں کو اذیت دینا جرم تھا)اس کا کہنا تھا :
اس سانپ کو مت مارو جو آپ کی دیوار سے لپٹا ہو( گویا پناہ میں آنے والے دشمن کو مت مارا جائے )اس کا خیال تھا انسانوں کو عزت دی جائے ،اعتدال اور ضبط نفس کی تعلیم ضروری ہے ۔
عمران خان فیثا غورث نہیں ہیں پھر بھی انہیں کچھ اصول بنانے اور ان پر عمل کرنا ہوگا کہ ان سے قوم کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں ۔ انہیں قوم سے براہِ راست منسلک رہنے کا بھی بندبست کرنا ہوگا ،سوشل میڈیا اور اخبارات اور کتب کا مطالعہ بھی حکمرانی کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے ،ورنہ سابق حکمرانوں کی طرح آپ بھی خوشامدیوں میں گھر کر عام لوگوں سے دور ہو جائیںگے۔آپ نے ایک بھاری بھرکم گٹھڑی ( پنڈ) اٹھالی ہے اور اب حوصلے اور ہمت سے پاﺅں اٹھانا ہوگا۔ بقول میاں محمد بخش:
سب سیاں پانی نوں چلیاں کوئی کوئی مڑ سی بھر کے
جنہاں نے بھرکے سر تے دھریا اوہ پیر رکھن ڈر ڈر کے
(یعنی سب سہیلیاں پانی بھرنے جا رہی ہیں کوئی کوئی پانی بھر کے واپس آئے گی۔جس نے گھڑا پانی سے بھر کے سر پر رکھا وہ ڈر ڈر کے پاﺅں اٹھاتی ہے) ایک پنجابی بولی پر ختم کرتا ہوں :
پَنڈ چا کے دُکھاں دی بھاری
تے علی علی کر بیلیا۔۔۔۔۔

مزیدخبریں