Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
19 اپریل 2021 (11:45) 2021-04-19

آج سے قریباً دس سال قبل موجودہ وزیراعظم عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا جس نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ دراصل یہ نعرہ عمران سے چند سال قبل باراک اوباما نے "Change we need" کے نام سے لگایا تھا جو کہ امریکہ میں بھی کامیاب ہوا۔ سیاست میں آنے سے قبل عمران خان کو جب گوگل پر سرچ کیا جاتا تھا تو ان کا تعارف ایک سابق کرکٹر کے علاوہ Motivational Speaker کے طور پر کرایا جاتا تھا اور عوام کو عمومی جبکہ نوجوانوں کو خصوصی طور پر اپنی تقاریر سے متاثر کرکے ایک بڑا ووٹ بینک بنا کر عمران خان نے اپنا Motivational Speaker ہونا درست ثابت بھی کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس ووٹ بینک نے عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ تک پہنچادیا۔

اب آتے ہیں عمران خان کی عملی سیاست کی طرف۔ جہاں پر صرف ایک اچھا مقرر ہونا کافی نہیں تجربہ بھی ضروری ہے۔ خاندانی نظامِ سیاست قابل ستائش ہرگز نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جو بچے سیاست دانوں کے زیرسایہ تربیت پاتے ہیں ان کو عملی سیاست کی کسی حد تک سوجھ بوجھ آ ہی جاتی 

ہے۔ جبکہ عمران خان کے لیے سیاست خالصتاً ایک نیا میدان تھا جو کہ کرکٹ کے میدان سے یکسر مختلف تھا۔ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے سے قبل عمران خان کا خیال تھا کہ جب اُوپر سے معاملات درست ہوں تو نچلی سطح پر خودبخود درست ہوجاتے ہیں۔ یہ خیال بھی غلط نہیں تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دو سالہ دورِ حکومت بنو اُمیّہ کے 90 سالہ جابرانہ دور کو امن و امان اور خوش حالی میں بدل گیا۔ لیکن عمران خان کا تین سال میں کامیابی حاصل نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ معاملات عمران خان کے کابینہ میں بار بار تبدیلی ہرگز وہ تبدیلی نہیں ہے جس کا عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا۔ فواد چودھری کو شروع میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کا قلمدان دینا مناسب فیصلہ تھا۔ فواد چودھری بہرحال ذہین آدمی ہیں، سیاست کی سمجھ رکھتے ہیں اور ان کی سیاسی تربیت پیپلز پارٹی کی گود میں ہوئی جو کہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ لیکن ان سے یہ وزارت لے کر سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنانا احمقانہ فیصلہ تھا۔ اب دوبارہ وزارت اطلاعات و نشریات دینا عمران خان کی جھلاٹ کو ظاہر کرتاہے جو انہیں کسی سیکٹر میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی وجہ 

سے ہورہی ہے۔ حماد اظہر کو وزیرِ خزانہ بنا کر فقط تین ہفتوں کے بعد شوکت ترین کو وزارت خزانہ کا چارج دینا اور حماد اظہر کو توانائی کا وزیر بنادیا گیا۔ عمر ایوب سے توانائی کی وزارت لے کر اکنامک افیئر جبکہ خسروبختیار سے اکنامک افیئر لے کر صنعت و پیداوار کی وزارت دے دی گئی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر شبلی فراز کو اطلاعات ونشریات میں ناکامی کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دے دی گئی ہے۔ اب سوال یہ پید اہوتا ہے کہ ناکام وزیر کوایک وزارت سے ہٹا کر دوسری اور دوسرے ناکام کو تیسری وزارت دینا دانش مندی ہے؟ ہرگز نہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ عمران پر دباؤ ہے کہ انہی لوگوں سے وزارتیں چلاؤ، کامیاب نہیں ہوتے تو وزارت تبدیل کردو لیکن بندے تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یا پھر یہ عمران خان کی اپنی خواہش ہے جیسا کہ عثمان بزدار کے معاملے میں۔ لیکن عوام الیکشن کے موقع پر پوری حکومت ہی تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کیونکہ عمران خان کی تبدیلی محض وزارتوں کی تبدیلی تک محدود لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وزیر بھی تبدیل نہیں ہوتے صرف ان کی وزارتیں تبدیل ہوتی ہیں۔ یا شاید عوام کو عمران خان کی تبدیلی والی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔ فیصلہ عوام پر۔ 

انگریزی کی ایک کہاوت ہے "Right man for the right job" اپنے اتحادی پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب کی بجائے سپیکر پنجاب اسمبلی بنانا عمران کی اپنے نظریئے کے ساتھ پہلی بے وفائی تھی۔ کیونکہ اگر پرویز الٰہی عثمان بزدار کی جگہ ہوتے تو اب تک مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں کافی حد تک کمزور اور پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ق) کو مضبوط کرچکے ہوتے۔ مستقبل میں مسلم لیگ (ق) اور زیادہ سیٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی کی اتحادی ہوتی۔ لیکن عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پی ٹی آئی کے پنجاب میں کمزور ہوجانے کے خوف سے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ نہیں بنایا۔ حالانکہ پنجاب کے حالات بہتر ہونے سے پی ٹی آئی کو بھی اس کا بھرپور فائدہ ہوتا نا کہ صرف مسلم لیگ (ق) کو۔ دوسری طرف نیب کے خوف سے بیوروکریسی کا کھل کر کام نہ کرنا بھی وزراء بشمول وزیراعلیٰ پنجاب کی زبوں حالی کا موجب ہے۔ نیب کی طاقت بڑھانے سے بادیٔ النظر میں عمران خان کو دونوں طرح سے نقصان ہورہا ہے۔ سیاسی مخالفین پر کرپشن ثابت نہیں ہورہی اور بیوروکریسی کام نہیں کر رہی۔البتہ ایک با ت ہے، اور وہ یہ کہ اگر عمران خان کسی طوربیو رو کر یسی سے کا م لینے کے قابل ہو جا تے ہیں تو بہت حد تک ممکن ہے کہ وہ اپنے سیا سی مخا لفین پہ کر پشن ثا بت کر دیں۔ وگر نہ بیو رو کر یسی سے کا م لیئے بغیر سیا سی مخا لفین پہ کر پشن ثا بت کر نا ان کے لیئے نا ممکن کا م کو ممکن بنا نے کا خوا ب دیکھنے وا لی با ت ہو گی۔ جہا ں تک عثما ن بز دا ر کو وزا رتِ عظمیٰ کے عہد ے پہ قا ئم رکھنے کے عز م وا لی با ت ہے تو کا ئنا ت کے بہت سے سربستہ راز وں کی طر ح یہ بھی ایک سمجھ میں نہ آ نے وا لا راز ہے۔ چند ایک مخصو ص صحا فیوں کو چھوڑ کر کسی ایک صحا فی کا نا م تو بتا ئیں جو بز دا ر صا حب کو سنجید ہ لینے پہ تیا رہو۔ تبد یلی کا لفظ جو عمران خان کی شہر ت کو مسلسل نقصا ن پہنچا ئے چلا جا رہا ہے ، ایک صو رت میں ان کی نیک نا می کا با عث بھی بن سکتا ہے اگر وہ عثما ن بز دا ر کو تبد یل کر دیتے ہیں تو۔


ای پیپر