Khalid Minhas, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
19 اپریل 2021 (11:41) 2021-04-19

2006ء کی بات ہے میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے لیے سفر کر رہا تھا۔ اسلام آباد ائیر پورٹ سے امارات ائیر لائین کے ذریعے دبئی پہنچا۔ دبئی ائیر پورٹ سے فرینکفرٹ کے لیے پرواز لینی تھی۔ دبئی ائیر پورٹ دنیا کے چند بڑے اور مصروف ترین ائیر پورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ خوب گھومنے کے بعد جب تھک گیا تو سوچا چلو لائونج میں چلتے ہیں ۔ میں لائونج میں پہنچنے والا پہلا مسافر تھا۔ چیک ان کرنے والے عملے نے میرا سبز پاسپورٹ لے لیا۔ مسافر آتے گئے اور لائونج بھرنا شروع ہو گیا۔ ہر نسل اور ہر رنگ کے لوگ تھے۔ان کے پاسپورٹ کلیئر ہوتے گئے اور وہ جہاز کی طرف روانہ ہوتے گئے۔ میرا پاسپورٹ ابھی تک ان کے پاس ہی تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے پاسپورٹ کو وہ بڑی باریک بینی سے دیکھ رہے تھے ۔ عملے نے کسی اور کو بھی بلا لیا تھا اس نے بھی میرے پاسپورٹ کو بڑے غور سے دیکھا اور اس کے بعد مجھے کلیئر کر دیا گیا۔ میں جہاز میں سوار ہونے والا آخری مسافر تھا۔ جو سلوک میرے ساتھ دبئی کے ائیر پورٹ پر ہوا اس نے سارا مزہ کرکرا کر دیا ۔ مجھے امید تھی کہ جرمنی کے ائیرپورٹ فرینکفرٹ پر بھی مجھے اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امیگریشن پر مشکل پیش آ سکتی تھی۔ پریشانی اس لیے نہیں تھی کہ میں جرمن حکومت کے مہمان کے طو ر پر وہاں جا رہا تھا۔ اس برس جرمنی میں ہاکی کا عالمی کپ ہو رہا تھا اور میں پاکستان سے واحد صحافی تھا جسے جرمنی کے سفارتخانے نے بطور خاص اس ایونٹ میں شرکت کے لیے بھیجا تھا۔ فرینکفرٹ ائیر پورٹ پر مجھ سے صرف ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ آپ جرمنی کس مقصد کے لیے آئے ہیں میں نے انہیں بتایا کہ میں ہاکی کے عالمی کپ کو دیکھنے کے لیے آیا ہوں اور مجھے بغیر کسی تاخیر کے انٹری دے دی گئی۔ دبئی میں ہونے والا سلوک مجھے آج بھی یاد ہے اور میں زیر لب اس لیے بھی مسکرا رہا تھا کہ مجھے اس بات کاکوئی ڈر نہیں تھا کہ میرے ویزے میں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو ساری دنیا ہی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور دنیا کے ہر بڑے ائیر پورٹ پر اس پاسپورٹ کے حامل افراد کو اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے پاسپورٹ کو عز ت کون دلائے گا یہ وہ سوال ہے جو ہمیں اپنے آپ سے بھی کرنا ہے اور حکومتوں کو بھی اس بارے میں سوچنا ہے۔حالات تو یہاں تک خراب تھے کہ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب امریکہ کے نجی دورے پر گئے تو وہاں ان کی پینٹ تک اتروا لی گئی اور انہیں اس بات پر کوئی ندامت نہیں۔ کیا پاکستان کے کسی ائیرپورٹ پر کسی امریکی شہری کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا رکھا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں ناں ساڈا کتا کتا ایناں دا کتا ٹومی۔ جو لوگ بیرون ملک رہتے ہیں یا دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ 

پاکستان کا پاسپورٹ کتنا مضبوط ہے۔ ہر ایک کی خواہش ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ بھی دیگر ممالک کی طرح مضبوط ہو جائے۔ مضبوط پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں صاحب حیثیت افراد دوسرے ممالک کے پاسپورٹ کے لیے اپنی ساری جمع پونجی اٹھا کر دوسرے ممالک میں جا رہے ہیں۔ ایک طرف سرمایہ دوسرے ممالک میں منتقل ہو رہاہے اور دوسری طرف برین ڈرین بھی ہو رہا ہے۔

یہ ساری کہانی اس لیے یاد آئی ہے کہ پاسپورٹ کی مضبوطی کے حوالے 2021ء کی عالمی درجہ بندی سامنے آئی ہے اور پاکستان کو دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹ میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا۔ عمران خان جب اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے بہت سے وعدے کیے تھے۔ ان میں ایک وعدہ پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو دنیا میں عزت دلانے کا بھی تھا۔ دوسرے دعوؤں اور وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی پورا نہیں ہو سکا۔ تازہ ترین رینکنگ کے مطابق پاکستان دنیا کا چوتھا بُرا ترین پاسپورٹ ہے۔ اور ہم شام افغانستان اور عراق کی صف میں کھڑے ہیں۔ کاش کوئی ان کو سمجھاتا جن کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔

ہر برس ہنلے پاسپورٹ انڈیکس جاری ہوتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس ملک کے پاسپورٹ رکھنے والے دنیا کے کتنے ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ دنیا کا برا یا کمزور ترین پاسپورٹ افغانستان کا ہے اس کے بعد عراق کا نمبر آتا ہے تیسرے نمبر پر شام ہے اور چوتھی پوزیشن پر پاکستان براجمان ہے۔ 2021 کی تازہ ترین رینکنگ کے مطابق پاکستان کے پاسپورٹ پر 32 ممالک میں بغیر ویزے کے جایا جا سکتا ہے۔ یمن ،صومالیہ، فلسطین ،نیپال، لیبیا ،شمالی کوریا، ایران اور بنگلہ دیش کے پاسپورٹ ہم سے مضبوط قرار پائے ہیں۔ 

شکیل بدایونی یاد آ رہے ہیں جن کی غزل کے چند اشعار آپ کے ساتھ شیئرکرتا چلوں

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے

آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ

منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

میانمار جیسا ملک بھی پاکستان سے بہتر ہے جہاں پرحال ہی میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ انڈیکس میں میانمار کا نمبر 94 ہے۔ ہمارا روایتی حریف بھارت 84 ویں اور بنگلہ دیش 100 ویں نمبر پر ہے۔جاپان کے پاسپورٹ کو دنیا کا مضبوط ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے جس کے شہری بغیر ویزے کے 193 ممالک میں جا سکتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ ساری دنیا بغیر ویزے کے گھوم سکتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر سنگاپور ہے۔ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ اس کے پاسپورٹ کے حامل افراد دنیا کے 192 ممالک کا سفر بغیر ویزے کے کر سکتے ہیں۔ جرمنی اور جنوبی کوریا تیسرے نمبر پر ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بہت بڑا جمپ لگایا ہے اور 65 ویں پوزیشن سے 15ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا پاسپورٹ ساتویں نمبر پر ہے۔ یورپی ممالک ٹاپ ٹین کی صف میں شامل ہیں۔

ہر مسئلہ کو عمران خان کی حکومت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ ہماری مسلسل تنزلی کا شاخسانہ ہے کہ ہم دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے اور دنیا کے ہر ائیرپورٹ پر پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو شک کی نگا ہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ قوم معاشی اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو گی تو ہمارا پاسپورٹ بھی دنیا کی نظر میں معتبر قرار پائے گا۔ جعلی ویزوں کے کاروبار نے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہر کوئی یہاں سے بھاگنے کے لیے تیار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ملک کی امیگریشن کے کائونٹر پر بیٹھا ہوا شخض پاکستان سے آنیو الے کے حوالے سے یہی سمجھ رہا ہے کہ ملک کے اندر آ گیا تو واپس نہیں جائے گا۔ پاسپورٹ تبھی مضبو ط ہو گا جب ہم دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ پاکستانیوں کے پاس یہاں مواقع ہیں اور وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا ہنر جانتے ہیں ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم افعانستان کی جگہ لے لیں گے۔


ای پیپر