Dr Zahid Munir Amir, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
19 اپریل 2021 (11:35) 2021-04-19

دوبرس پہلے 18اپریل 2019ء کو ہمارے عہدکے غیرمعمولی دانش ور، محقق، مصنف اور منتظم ڈاکٹرجمیل جالبی ہم سے جداہوئے تھے۔ انہوںنے کراچی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ کی حیثیت سے ملک و قوم کی گراں قدر خدمات انجام دیں، علاوہ ازیں علم و ادب کی دنیا میں ان سے چالیس کتابیں یادگار ہیں۔ پاکستان کی قومی زبان اردو کے ادب کی تاریخ جس شرح و بسط کے ساتھ انہوںنے قلمبندکی ہے ، اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کی تیارکردہ قومی انگریزی اردولغت قومی زبان کو بین الاقوامی منظرنامے میں قابل اعتبار مقام دینے کا باعث بنی۔ انہوںنے جدید ادبی تصوارت اور تھیوری سے اردودنیاکو متعارف کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر انگریزی ادب سے اردومیںتراجم کیے جن کے ذریعے ہمارے ادب کو جدید تنقیدی تصوارت سے آگاہی کا موقع ملا۔

زندہ قومیں ایسے محسنوں کو یادرکھنے کا اہتمام کرتی ہیں، ان کی یاد گاریں قائم کی جاتی ہیں، ان کے علوم و افکار کوعام کیاجاتاہے، ان کے کاموں کو زندہ رکھاجاتاہے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے کاموں سے روشنی حاصل کریں اور آنے والے زمانوں میں بھی ان جیسے رجال کار پیداہوسکیں جن کے سامنے وہ ایک روشن مثال کے طور پر موجود رہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے عظیم اسکالرزکو یادرکھنے کے لیے وہاں کی یونی ورسٹیوں میں ان کے نام سے منسوب چیرزقائم کی جاتی ہیں جو ان کے افکار اور ان سے متعلقہ علوم کو زندہ رکھنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف کے لیے راقم نے وطن عزیز کی قدیم ترین دانش گاہ پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر جمیل جالبی چیرکے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ اعلیٰ جامعاتی سطح پر ان کے علوم و افکار کے فروغ و اشاعت کا اہتمام ہو سکے ان پر مزید تحقیق کی راہیںہموارکی جا سکیںاور آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ ایک شخص کس طرح ملک و قوم کی ایسی خدمات انجام دے سکتا ہے جو آنے والے زمانوں کے لیے بھی مشعل راہ کی حیثیت اختیار کر جائیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی نے عمربھر پاکستان کی قومی زبان اردو کی خدمت انجام دی۔ انھوں نے اردو دنیا کوچھ سو سال پہلے لکھی جانے ولی اردو کی پہلی 

شعری تصنیف ’’مثنوی کدم رائو پدم رائو‘‘ سے متعارف یا۔ملک الشعرائے بیجاپور نصرتی اورحسن شوقی جیسے گم شدہ کلاسیکی شعراکے متون کو دریافت کرکے مدوّن کیا۔قدیم اردو کی لغت مرتب کی، فرہنگ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ کی صورت میں جدید سائنسی علوم کو اردومیں منتقل کرنے کی راہ ہموار کی۔ اس لیے یہی مناسب تھاکہ ان کی خدمات کا اعتراف اردودنیاکی جانب سے کیاجائے اور پاکستان کی قومی زبان ہونے کی حیثیت سے وطن عزیز کی سب سے بڑی اور قدیم ترین یونی ورسٹی پنجاب یونی ورسٹی میں ان کے نام سے منسوب ڈاکٹر جمیل جالبی اردوچیر قائم کی جائے۔راقم نے یہ تجویز 6جنوری2020ء کوپنجاب یونی ورسٹی کے اساتذئہ شعبہ اردوکاایک اجلاس منعقدکرکے بہ حیثیت صدرشعبہ اردو، اس میں پیش کی۔ یہ تجویزدراصل ایک بڑی تجویزکا حصہ تھی جس کی بنیاد پنجاب یونی ورسٹی میں ڈیڑھ سو برس سے جاری تدریس اردوکے سلسلے کو ایک نئی جہت سے ہم کنارکرتے ہوئے شعبہ اردوکو انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دینے کا تخیل تھا۔راقم نے اس تخیل کا باقاعدہ خاکہ تیارکیا جس کے مطابق شعبہ اردوکوادارئہ زبان وادبیات اردو/ انسٹی ٹیوٹ آف اردولینگوایج اینڈ لٹریچر کا درجہ دے کر اس میں غالب، اقبال، ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے منسوب مساندقائم کی جائیں۔ نیز اس میں ایم اے ، ایم فل/ پی ایچ ڈی اور غیرملکیوں کی تدریس کے پروگراموں کو الگ الگ سیکشنزمیں تقسیم کر دیا جائے۔ تین شعبوں، چارمسانداور تین مراکزکے قیام کی یہ تجویز 7اگست 2020ء کو منعقدہونے والے اردوبورڈ آف اسٹڈیزکے اجلا س میں پیش کی گئی۔راقم کی صدارت میں منعقدہونے والے اردوبورڈ آف اسٹڈیز پنجاب یونی ورسٹی کے اس اجلاس میں یہ تجویزمعمولی ترمیم کے ساتھ منظورکرلی گئی ۔تجویزکی نئی صورت میں سنٹرزاور شعبوں کے ناموں کو سیکشنزاور پروگراموں سے بدل دیاگیا اور اس تجویز کا مکمل خاکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر صاحب کو بھجوا دیا گیا۔ وائس چانسلرصاحب نے یونیورسٹی میں زیرغورتشکیل نوکے دوسرے کیسزکے ساتھ اس تجویزکو اکیڈیمک کونسل میں بھجوا دیا۔ اکیڈیمک کونسل کے اجلاس منعقدہ 27 اکتوبر 2020ء میں یہ کیس زیربحث آیا۔راقم نے اپنی تجویزکے حق میں اکیڈیمک کونسل سے خطاب کیا۔ اس تجویزکووائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اخترصاحب کی راہ نمائی میںاکیڈیمک کونسل نے منظور کر لیا۔ اکیڈیمک کونسل کی منظوری کے بعد حسب ضابطہ ایسی تجاویزکو یونی ورسٹی سنڈیکیٹ اور بعدازاں سینیٹ میں بھیجاجاتاہے چنانچہ اکیڈیمک کونسل کی منظوری کے بعد یہ تجویز11نومبر2020ء کو سنڈیکیٹ میں اور26نومبر2020ء کو سینیٹ کے اجلاس میں پیش کی گئی ۔راقم نے جہاں بہ حیثیت رکن ،اکیڈیمک کونسل میں اس تجویزکے بارے میں اظہارخیال کیاتھاوہاں ۱۱؍نومبر کوسینیٹ کے رکن کی حیثیت سے گورنرپنجاب چودھری محمدسرور کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بھی اپنی تجویزکے حق میں اظہارِخیال کیا ۔ بالآخریہ ساری جدوجہدبارآورہوئی اور سینیٹ کے اجلاس سے منظوری مل جانے کے بعد شعبہ اردوکا درجہ بڑھاکر اسے انسٹی ٹیوٹ آف اردولینگوئج اینڈ لٹریچربنادینے کی تجویزمنظور کرلی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ادارئہ زبان و ادبیات اردومیں ڈاکٹرجمیل جالبی ریسرچ چیر قائم ہوگئی جس پر پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر صاحب مبارک بادکے حق دار ہیں۔وائس چانسلرصاحب کی جانب سے حکم نمبر ڈی 1913 ای ایس ٹی ون کے تحت راقم الحروف کو اس چیرکاپہلاسربراہ مقرر کرنے کے احکام جاری کیے گئے۔راقم نے اس چیرکے موسس کی حیثیت سے اس چیر کے درج ذیل مقاصدمتعین کیے: 

ڈاکٹر جمیل جالبی چیرکے تحت سب سے پہلے ڈاکٹر جمیل جالبی کی چالیس تصانیف و تالیفات و تراجم کی ازسرنو تدوین و اشاعت اور ان کے تراجم پر کام کیاجائے گا نیز ترقی یافتہ ممالک کی بڑی یونی ورسٹیوں میں قائم چیرزکی طرح ان تمام علوم پر تحقیق کی جائے گی جن سے ڈاکٹر جمیل جالبی کو مدت العمردلچسپی رہی ۔قومی و بین الاقوامی مذاکروں اور کانفرنسوں کے انعقاد کے ذریعے بھی ان مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کی جائے گی تاکہ عالمی سطح پر وطن عزیز کا سوفٹ امیج ابھارنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہو اورعالمی ادبی منظرنامے کی تشکیل میں پاکستان کے کردارکو واضح کیاجاسکے۔ 


ای پیپر