Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
19 اپریل 2021 (11:31) 2021-04-19

آج میرا کالم سیاست کے بجائے انسانیت سے پیار پر مبنی ہے۔ رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں لوگ اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خیرات کرتے ہیں۔ غریب لوگوں کے گھروں میں راشن بھجوا دیتے ہیں۔ عید کی خوشیوں میں شامل کرتے ہوئے کپڑے یعنی سوٹ کے تحائف دیئے جاتے ہیں۔ سٹیٹس کو لوگ ہزاروں کا افطار ڈنر کرا کر کروڑوں اور اربوں کی ڈیلیں کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اس موقع پر انسان خود کو مردہ محسوس کرتا ہے۔ تیسرے روزے کے ایک افطار ڈنر پر میں خود بھی موجود تھی۔ وہاں انواع و اقسام کے کھانوں کی اتنی ڈشز تھیں۔ کہ ایک عام انسان کے لیے ان ڈشز کو کھانا تو دور کی بات چکھتے ہوئے بھی پیٹ میں جگہ کم پڑ جائے۔ مگر کھانا ختم نہ ہو۔ میں نے وہاں سوچا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس وقت میں یہاں کے بجائے کسی غریب کے ساتھ افطار کر رہی ہوتی۔ وہاں میں تصنع اور بناوٹ کے اس ماحول میں خود کو یوں مردہ سمجھنے کے بجائے زندہ محسوس کرتی۔ اپنی اس سوچ کی تکمیل کے لیے میں نے چوتھا روزہ بہاولپور کے پسماندہ علاقے موضع پٹڑی میں ایک عام شہری کے گھر افطار کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے حسن اتفاق کہئے کہ اسی وقت سوشل میڈیا پر ترکی کے صدر طیب اردوان اور رمضان کے نام سے ایک تصویر دیکھی جس میں طیب اردوان اور انکی بیوی عام شہری کے گھر جا کر روزہ افطار کرتے ہیں۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ وہ کیوں گئے ہونگے حالانکہ وہ اپنے پاس بلا کر افطار کرا سکتے تھے۔ اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے میں نکل گئی۔ جب میں افطاری کا سامان اور بچوں کے لیے تحائف لے کر بتائے بغیر عام شہری کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ کسی معروف کمپنی کا مشروب خریدنے کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ آلو املی کا شربت بنا رہے تھے۔ ان کی روزانہ آمدن چار سو روپے، مطلب مہینے کا ساڑھے نو ہزار روپے ہے۔ میں نے اس گھر میں غربت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اللہ سے معافی مانگی کہ یہی وہ غریب ہیں۔ جن کا حق ہے کہ میں ان کی مدد کروں مجھے ان کے پاس پہلے آنا چاہئے تھا۔ اس موقع پر خود سے نادم تھی۔ میں نے اللہ سے بھی معافی مانگی۔ یااللہ میری کمی کوتاہی کو معاف کر دے اور درگزر فرما۔ میری آمد پر اس غریب گھرانے کی سربراہ خاتون خوشی سے رو پڑی اور بچوں کی آنکھوں میں طمانیت دیکھ کر میری آنکھیں بھی جذبات اور خوشی سے آبدیدہ ہو گئیں۔ مجھ پر یہ حقیقت پھر واضح ہوئی کہ خوشیاں دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سے بڑھتی ہیں۔ پھر مجھے جلد احساس ہوا کہ طیب اردوان کیوں عام شہری کے 

گھر جا کر افطاری کرتے ہیں۔ کیوں کہ اگر دنیا میں ملک کا نام پیدا کرنا ہے تو عام شہری کے گھر جا کر براہ راست دعا لیں۔ وہ لیڈر کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ ہی اپنے اور اپنے بچوں کے نام بے نامی جائیدادیں بنائے گا۔۔۔ میں آپ سے ترک صدر طیب اردوان کے رمضان کے معمولات شیئر کرنا چاہتی ہوں۔

ایک دن افطار سے چند منٹ پہلے ترک دارالحکومت انقرہ کے ایک غریب علاقے میں واقع مزدور کے گھر کی گھنٹی بجاتے ہیں۔ گھر کے مالک 53 سالہ ’’یلدریم جلیلک‘‘ جب دروازہ کھول کر دیکھتے ہیں تو ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا، انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا، وہ دیکھتے ہیں کہ دروازے پر ملک کے صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ سیدہ امینہ اردوان کھڑے ہیں۔ یلدریم جلیلک کی حیرت کو بھانپتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان انہیں تسلی دے کر کہتے ہیں کہ آج ہم آپ کے مہمان ہیں، آپ کی فیملی کے ساتھ افطار کریں گے۔ یہ سن کر میزبان خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ وہ فوراً واپس جا کر اپنے گھر والوں کو ایک عظیم مہمان کی آمد کی خوشخبری سناتا ہے۔ غریب یلدریم کے اہل خانہ نے اپنے محدود وسائل کے مطابق افطار کا معمولی انتظام کر رکھا تھا۔ گھر کے 8 افراد دسترخوان پر بیٹھے تھے اور افطار کے لئے کھجور، پانی، دودھ اور سنگترہ کے علاوہ دسترخوان پر اور کچھ نہیں تھا۔ اس لئے اہل خانہ کے چہروں پر عظیم مہمان کی آمد پر خوشی کے ساتھ ساتھ پریشانی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ مگر صدر اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ بلا کسی تکلف کے یلدریم کے اہل خانہ کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔ یلدریم کے اہل خانہ کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ صدر اردوان اور ان کی اہلیہ ان کے گھر میں موجود اور ان کے ساتھ افطار میں شریک ہیں۔ یہ ناقابل یقین منظر دیکھ کر یلدریم جلیلک اور ان کے اہل خانہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل آئے اور انہوں نے صدر اردوان اور ان کی اہلیہ کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ یلدریم جلیلک انقرہ کے علاقے ’’اولوس‘‘ کی سبزی منڈی میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور انہیں یومیہ 60 لیرہ (ترک کرنسی) دیہاڑی ملتی ہے، جو کہ 22 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یلدریم کے گھر میں ترک صدر کی آمد کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں، جس کا کرایہ وہ ماہانہ 360 لیرہ ادا کرتے ہیں، جو کہ 135 امریکی ڈالر یا ساڑھے 13 ہزار پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ افطار کے بعد صدر اردوان اور ان کی اہلیہ یلدریم کے اہل خانہ کے ساتھ گھل مل گئے اور ان سے ان کے مسائل بھی پوچھے۔ یلدریم نے صدر اردوان کو بتایا کہ ان کے 5 بچے ہیں، چونکہ ان کی آمدنی بہت محدود ہے، اس لئے وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچویں روزے کے دن افطار کے وقت صدر اردوان یلدریم کے مہمان بنے، اسی روز یلدریم کے سب سے چھوٹے بیٹے کی روزہ کشائی بھی تھی۔ اس موقع پر اچانک صدر مملکت کی آمد نے یلدریم کے اہل خانہ کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔ صدر اردوان نے پہلا روزہ رکھنے پر یلدریم کے بچے کو نقد انعام کے ساتھ قیمتی تحائف بھی دیئے، جس پر یلدریم کے دیگر بچوں نے للچائی نظروں سے صدر اردوان کو دیکھا تو انہوں نے گھر کے دیگر بچوں کو بھی ایک ایک لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ سے نوازا۔ افطار کے بعد یلدریم کے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے ان کے پڑوسیوں کو بھی صدر اردوان کی اچانک آمد کا پتہ چل گیا تھا۔ اس لئے یلدریم کے بہت سارے پڑوسی بھی ان کے گھر میں جمع ہو گئے اور صدر اردوان کے ساتھ عشاء کی نماز تک طویل نشست کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس دوران صدر اردوان کے سیکریٹری سمیت کچھ سرکاری عہدیدار بھی یلدریم کے گھر پہنچ چکے تھے۔ ترک پریس کے مطابق، رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ نے اپنی پہلی افطار ترکی میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کے ساتھ کی تھی، اس کے بعد انہوں نے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے ساتھ افطار کرنے کا معمول بنا لیا ہے۔ صدر اردوان اور ان کی اہلیہ افطار سے کچھ دیر پہلے اپنی گاڑی میں صدارتی محل سے نکل کر شہر کے کسی متوسط یا غریب علاقے کا رُخ کرتے ہیں، جہاں وہ کسی بھی شہری کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اہل خانہ کے ساتھ مل کر افطار کرتے ہیں۔

ہر بار اردوان اور ان کی اہلیہ محترمہ امینہ صاحبہ کا رمضان میں یہی معمول ہوتا ہے۔ دوسرا روزہ انہوں نے انقرہ کے ایک عام شہری کے ساتھ افطار کیا۔ اہل خانہ کے ساتھ گھل مل گئے۔ اس گھر کے تینوں بچوں کو ہدایات و تحائف سے نوازا۔ اپنے عوام کے اسی گہرے تعلق کا نتیجہ ہے کہ لوگ بغاوت کے خلاف نا صرف سڑکوں پر نکلے، بلکہ ٹینکوں کے نیچے بھی لیٹ گئے۔ وزیراعظم پاکستان بھی چند دن پاکستان کے عام شہریوں کے گھر روزے افطار کریں گے تو لوگوں کے دلوں میں مزید گھر کریں گے۔ میری دلی آرزو ہے۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان بھی اس ماہ رمضان المبارک میں ہر روزہ کسی غریب کے گھر افطار کریں۔ ان میں گھل مل جائیں۔ غریبوں کو سچی خوشی دینے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ رب راضی تو جگ راضی۔


ای پیپر