The situation is under control, people should not listen to rumors: Punjab Chief Minister Usman Bazdar
کیپشن:   فائل فوٹو
19 اپریل 2021 (08:17) 2021-04-19

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عملداری حکومت کے فرائض میں شامل ہے، اسے بخوبی سرانجام دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک ہے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر تمام ادارے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔

سردار عثمان بزدار نے کہا کہ لاہور میں صرف ایک مقام پر کچھ عناصر نے سڑک بلاک کر رکھی ہے، اس کے علاوہ پنجاب بھر میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری عوام سے اپیل ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر غیر تصدیق شدہ ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات پر کان نہ دھریں۔ ذمہ دار حکومتی ذرائع صوبے بھر میں امن وامان کی مجموعی صورتحال سے عوام کو آگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے یرغمال بنائے گئے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس بھیج دیا ہے۔

خبریں ہیں کہ ٹی ایل پی کی جانب سے رہا کئے گئے افسروں اور اہلکاروں کی تعداد 11 ہے جن کی رہائی کے بعد کی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ایک اہم ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے بات چیت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی سے بات چیت کا پہلا دور اچھا رہا جس میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں، سحری کے بعد دوسرا راؤنڈ ہوگا۔ وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یرغمال بنائے گئے 11 پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے لوگ مسجد رحمتہ اللعالمین میں چلے گئے ہیں جبکہ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔ قوی امید ہے کہ دوسرے راؤنڈ میں باقی معاملات کو بھی طے کر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے مذاکرات کو خوش اسلوبی سے ہینڈل کیا گیا۔ پہلی میٹنگ کا دور کامیابی سے مکمل کر لیا گیا تھا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ مذاکرات کو دوسرا راؤنڈ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کا علاقہ چوک یتیم خانہ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا تھا۔ پولیس کے حکام مذاکرات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی کے دھرنے میں پہنچے تو انھیں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

حالات مزید خراب ہونے پر پولیس کی بھاری نفری کو موقع پر طلب کیا گیا جس نے صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن تصادم کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا جاتا رہا۔

پولیس کی جانب سے جواباً مشتعل ہجوم کیخلاف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے متعدد لوگ زخمی ہو گئے تھے۔


ای پیپر