Cruel action against banned TLP is state terrorism: Maulana Fazlur Rehman
کیپشن:   فائل فوٹو
19 اپریل 2021 (08:06) 2021-04-19

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کیخلاف پولیس ایکشن کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشتگردی قرار دیدیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے اپنا نقطہ نظر دے رہا ہوں، اس سوچ سے پی ٹی آئی یا اس کے سرپرست اختلاف کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد مسلم دنیا کی ریاستوں کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ دینی حلقوں کو کچل ڈالو۔ مغربی دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔ دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہیں کہ حکمران دہشت گرد ہیں، ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہونے تک جنگ جاری رہے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدوں کے فریقین کون ہیں؟ معاہدے پر دستخط کرنے والے کون ہیں؟ تفصیلات پارلیمنٹ میں لائی جائیں۔ صورتحال کو عقلمندی کیساتھ حل کیا جائے۔ اب بھی وقت ہے، مسئلے کو سنبھال لو۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں واضح اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ٹی ایل پی نے اگر شہدا کے جنازے اسلام آباد روانہ کیے تو ہم ساتھ ہونگے۔ ہمیں ہاتھ ڈالا گیا تو حکمرانوں کیلئے مشکل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملہ ریاست کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ ہم کب تک برداشت کریں گے۔ اگر مغربی دنیا کو یہی کھیل دیکھنا ہے تو ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ فرانس کے سفیر کے مسئلے کو عزت کا مسئلہ کیوں بنایا گیا؟ پنجاب پولیس اپنے بڑوں کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دے، یہ پنجاب پولیس کی نجات کا راستہ ہے۔

https://www.naibaat.pk/17-May-2021/43966

ان کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم انتہائی دکھ اور اضطراب میں ہے۔ ناموس رسالت کے لیے آواز اٹھانے والوں کو بھون دیا گیا۔ پی ٹی آئی نے 126 دن کا دھرنا دیا لیکن فرانس میں گستاخانہ خاکوں پر احتجاج کیا جائے تو پاکستان مذبہہ خانہ بن جاتا ہے۔ آج عمران خان فرانس کا ہیرو بنا ہوا ہے، انھیں شرم آنی چاہیے، اس ایجنڈے کی تکیمل کے لیے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا تھا، آج وہ چہرے بھی بے نقاب ہو گئے۔


ای پیپر