The banned Tehreek-e-Libek released the hostages
کیپشن:   فائل فوٹو
19 اپریل 2021 (07:30) 2021-04-19

لاہور: کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے یرغمال بنائے گئے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس بھیج دیا ہے۔

خبریں ہیں کہ ٹی ایل پی کی جانب سے رہا کئے گئے افسروں اور اہلکاروں کی تعداد 11 ہے جن کی رہائی کے بعد کی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے۔

ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ایک اہم ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے بات چیت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی سے بات چیت کا پہلا دور اچھا رہا جس میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں، سحری کے بعد دوسرا راؤنڈ ہوگا۔ وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یرغمال بنائے گئے 11 پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے لوگ مسجد رحمتہ اللعالمین میں چلے گئے ہیں جبکہ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔ قوی امید ہے کہ دوسرے راؤنڈ میں باقی معاملات کو بھی طے کر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے مذاکرات کو خوش اسلوبی سے ہینڈل کیا گیا۔ پہلی میٹنگ کا دور کامیابی سے مکمل کر لیا گیا تھا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ مذاکرات کو دوسرا راؤنڈ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کا علاقہ چوک یتیم خانہ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا تھا۔ پولیس کے حکام مذاکرات کیلئے کالعدم ٹی ایل پی کے دھرنے میں پہنچے تو انھیں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

حالات مزید خراب ہونے پر پولیس کی بھاری نفری کو موقع پر طلب کیا گیا جس نے صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن تصادم کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا جاتا رہا۔

پولیس کی جانب سے جواباً مشتعل ہجوم کیخلاف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے متعدد لوگ زخمی ہو گئے تھے۔


ای پیپر