کرونا سے لڑنا ہے یا آپس میں؟
19 اپریل 2020 2020-04-19

بولا یہ جا رہا ہے کہ کرونا سے لڑنا ہے اورکیا یہ جا رہا ہے کہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سارا قصور حکومت کا ہے مگر ملک میں ہم آہنگی اور یک جہتی برقرارر کھنے کی ذمے داری کسی بھی دوسرے شعبے سے کہیں زیادہ حکومت ہی کی ہے۔ وفاقی حکومت، سندھ حکومت سے ہی نہیں لڑ رہی بلکہ اس کے اشاروں پر حرکت میںا ٓنے والا نیب بھی قائد حزب اختلاف کو طلب کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی ترجمانی کے دعوے دار ایک بے روزگار صاحب روزانہ ٹوئیٹر پر ایک نیا محاذ کھولتے ہیں، سچ اور جھوٹ کے فائر کرتے ہیں ، وہ اپنی روٹیاں تو پکی کر لیتے ہیں مگر ملکی ماحول کو بھی پراگندہ کرتے ہیں۔

چلیں، سیاست کی لڑائیاں چلتی ہی رہتی ہیں مگر کیا اس وقت حکومت اور ڈاکٹروں کی لڑائی بنتی ہے۔ ڈاکٹروں کے چار بنیادی مطالبات ہیں جن کے لئے وہ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نبیل اعوان کے دفتر میں بھوک ہڑتال کئے بیٹھے ہیں، ان مطالبات میں سب سے بڑا اور اہم مطالبہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایس او پیز کے مطابق پی پی ایز ( پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپیمنٹس) کی فراہمی ہے کہ اس وقت کرونا سے متاثر ہونے والے ہیلتھ پروفیشنلز کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے مگر حیرت ہے کہ جہاںسرکاری ہسپتالوں میں تمام ہیلتھ کئیر پروفیشنلز کو حفاظتی لباس مہیا نہیں کئے جا رہے وہاں ان کی سکریننگ کا مطالبہ بھی مسترد کیا جا رہا ہے۔ کیاآپ کسی مہذب معاشرے میں حکومت کی طرف سے اس سے انکار کی توقع رکھ سکتے ہیں جب کئی ہسپتال ایسے ہوں جہاں مریضوں سے زیادہ ڈاکٹروں کے بیمارہونے کی اطلاعات مل رہی ہوں اور حکومت پی آئی سی سمیت متعدد ہسپتالوں کی رپورٹیں چھپا رہی ہو۔ جی ایچ اے، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا مخفف ہے جس میں محکمہ صحت کے تمام شعبوں کی تنظیمیں شامل ہیں، جی ایچ اے کے باقی دو مطالبات میں رسک الاو¿نس تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈکس کو دینا اور گجرات میں شہید ہوجانے والی نرس صدف کو سرکاری طور پر شہید کا درجہ دیا جانا شامل ہے۔

میں نے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا موقف سنا ہے، وہ اپنے موقف کے لئے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کے موقف کی محتاج ہیں یعنی وہ جس فوج کی سربراہ ہیں ان کے پاس ان کی بات سننے کا دماغ اور وقت بھی نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی پی ایز کروناوارڈز میں فراہم کی جار ہی ہیں جبکہ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ ایمرجنسیوں میں کام کرنے والا سٹاف اس وقت کہیں زیادہ ایکسپوزڈ ہے اور دھڑا دھڑ وائرس کا شکار ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں خدانخواستہ تمام ہیلتھ پروفیشنلز ہی اس وائرس کا شکار نہ ہوجائیں۔ وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ کے منہ میںیہ الفاظ بھی ڈالتی ہیں کہ وائے ڈی اے اپنے برطرف کئے گئے ڈاکٹروں کو بحال کروانا چاہتی ہے جو ان کی نظر میں ایک غیر اخلاقی مطالبہ ہے جبکہ یہی مطالبہ لے کر وہ شہباز شریف دور میں ٹی وی پروگراموں میں خطاب کرتی رہی ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جنگوں میں بھی باہمی اعتماد کے لئے سی بی ایمز ہوتے ہیں یعنی کانفیڈنس بلڈنگ مئیرز، یہ پولیٹیکل سائنس کی ایک تھیوری ہے جو تنازعات حل کرنے بارے ہے۔ یہ کامن سینس کی بات ہے کہ کرونا سے جنگ کے دوران نئے محاذ نہ کھولے جائیں مگر ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ سیکرٹری ہیلتھ کا انداز انتہائی مغرورانہ ہے۔ ان کی میٹنگوں کی صدارت کرتے ہوئے جو تصویریں وائرل ہوئی ہیں جو ان کے غیر سنجیدگی اور آمرانہ روئیے کو ظاہر کرتی ہیں۔ بتایا جا تا ہے کہ وہ چئیر پر تقریبا لیٹے ہوتے ہیں، ایک ٹانگ دوسری پر ہوتی ہے، ہاتھوں میں جہاں سگریٹ سلگ رہا ہوتا ہے وہاں وہ اپنی باتوں سے دوسروں کو سلگا رہے ہوتے ہیں۔

ہیلتھ رپورٹرز کے مطابق ،وزیر صحت کسی کو ملنے کے لئے تیار ہی نہیں اور سیکرٹری ہیلتھ سمجھتے ہیں کہ وہ عقل کل ہیں، جس نے ان کے خلاف احتجاج کرنا ہے کر لے، دھرنا دینا ہے دے لے،بھوک ہڑتال کرنی ہے کر لے اور پھر یہی ہوا کہ بھوک ہڑتال شروع ہو گئی ۔ محکمہ صحت کے ایک کلرک کے ایک لیٹر پر لاہور کے سی سی پی او نے عقل اور منطق کو کچرے کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے ڈاکٹروں پر پولیس چڑھا دی ، ہیلتھ پروفیشنلز کو گارڈ آف آنر کی غلطی کا ازالہ کرتے ہوئے انہیں تھپڑ، گھونسے، مکے، دھکے سب مارے گئے حالانکہ یہی ڈاکٹر پی ٹی آئی کے دیوانے اور مستانے ہوا کرتے تھے۔ شہباز شریف دور میں وائے ڈی اے کے سربراہ ڈاکٹر حامد بٹ اب اتنے ینگ نہیں رہے لہٰذا انہوں نے ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن بنا لی، ان کا موقف وائرل ہوچکا ، وائے ڈی اے کے سرپرست اعلیٰ عاطف مجید چودھری بھی گذشتہ انتخابات سے پہلے ڈاکٹروں کی سیاسی مہم جوئی پر معافی مانگ چکے اور اب وائے ڈی اے پنجاب کے نائب صدر ڈاکٹر شعیب نیازی مجھے بتا رہے تھے کہ ہم ’ دوائی دو وقت لیں، ووٹ پی ٹی آئی کو دیں‘ جن نسخوں پر لکھ کر دیتے رہے اور ان نسخوں کی پرچیاں ہمارے پاس اب بھی موجود ہیں۔

بہرحال ! باتیں تو لمبی ہوتی چلی جائیں گی اور ہمیں واپس عمل کی طرف جانا چاہئے اور عمل یہ ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں تادم تحریر ہمارے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈکس ہیلتھ سیکرٹریٹ میں بھوک ہڑتال کئے بیٹھے ہیںمگر کوئی ان کی سننے والانہیں۔ مجھے وہ بھوک ہڑتال یاد آ گئی جو ڈاکٹر عامر بندیشہ وغیرہ نے کی تھی او رمیں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے درخواست کی تھی کہ ڈاکٹروں سے بات چیت کی جائے، یہ آپ کے دشمن نہیں، آپ کے اپنے بھائی، بیٹے، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ ہمارے موجودہ حکومت کو تو ’ کریڈٹ‘ جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی مقدس سرزمین پر حملہ آور ابھی نندن کو بھی مزے دار چائے پلا کے مقدمہ چلائے بغیر واپس بھجوا سکتی ہے تو پھر برطرف کئے گئے ڈاکٹر بحال کیوں نہیں ہوسکتے کہ کیا ان کا جرم ابھی نندن سے بھی بڑا ہے، ڈاکٹروں کو پی پی ایز کیوں نہیں دیئے جا سکتے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ کرونا کے خلاف ہماری آرمی ہمارے ہیلتھ پروفیشنلز ہیں تو پھر عزیز بھٹی شہید ہسپتال کی شہید نرس کو شہید کا درجہ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ اس آرمی کو ابھی نندن کے برابر ہی پروٹوکول دے دیجئے ، آپ پوری دنیا سے اربوں اور کھربوں بٹور رہے ہیں تو ایک، دو مہینے میڈیکل کمیونٹی کو رسک الاونس کے طور پر اضافی تنخواہیں کیوں نہیں دیں جا سکتیں؟

سب سے اہم تو یہ ہے کہ حکمرانوں کے لہجے میں نرمی اورروئیے میں شفقت کیوں نہیں ہے۔ انہیں ایسا کون سا خدائی اختیار مل گیا ہے جو اس سے پہلے تخت نشینوں کے پاس نہیں تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ محکمہ صحت کے کچھ ذمے داروں سے بات کر سکوں مگر وہ خدائی لہجے میں بات کرتے ہیں۔ میں نے جناب جمشید اقبال چیمہ صاحب کی وساطت سے پیشکش کی ہے کہ آپ سابق حکومت والے فارمولے پر آجائیں کہ جو باتیں ڈاکٹروں کی درست ہیں وہ آپ مان لیں اور جو مجبوریاں آپ کی ہیںان کا خیال ڈاکٹر رکھیں۔ میں نے کہا کہ یہ ینگ ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈکس میرے اپنے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس موقعے پرہم باہم دست و گریباں نہ ہوں۔ اگر آپ کی عزت اور شان میڈیکل پروفیشن اور مریضوں کی صحت سے بھی اونچی اور بڑی ہے اور مجھے حکم کریں۔ میں ان کے پاس گھٹنوں کے بل چلا جاتا ہوں، ہاتھ جوڑ لیتا ہوں مگر اتنا تو ہے کہ دوسری طر ف کوئی بات سننے والا ہو، بات کرنے والا ہو۔ ورنہ اس وقت حکومتی حلقوں کی صورتحال ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی جنرل سیکرٹری مقدس تسنیم کی سوشل میڈیا وال پر شئیر کئے گئے شعر کے مطابق ہے۔

دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا

عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے


ای پیپر