شیخ رشید پیپر کیوں آو¿ٹ کرتے ہیں؟
19 اپریل 2020 2020-04-19

بچپن میں دیکھا اور سنا بھی کہ جب بھی امتحانات کا وقت قریب آتا ہے اسکول یا محلے میں ایک ایسا نالائق لیکن چلتا پرزہ ضرور اچانک سے منظر عام پرآجاتا جو مشکل میں پھنسے دوستوں کے لیے پرچی اور پیپر اآوٹ کرنے میں ملکہ رکھتا ہو۔

بس پھر کیا ہر کس و ناقص اس کے گرد چکر لگانا شروع کر دیتا۔

اس کی خاص آو بھگت ہوتی کہ ایک دو سوال ہی بتا دے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے ساتھ بھی ہے جناب بھی بیان بازی ،آئے روز کی پیش گوئیوں اور بڑھکیں مارنے میں شہرت رکھتے ہیں۔

میڈیا پر رہنے کا گر ان سے بہتر کوئی سیاستدان نہیں جانتا گو کہ ان سے پہلے یہ ہنر ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی خوب جانتی تھی لیکن غیر ضروری اور زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے وقت نے انہیں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔

شیخ رشید احمد نے لاہور میں نیوز کانفرنس کی، بظاہر یہ کانفرنس ریلوے کی صورت حال، ملازمین کی تنخواہوں اور امداد پر تھی لیکن وزیر موصوف پھر اسے اپنی تعریفوں اور سیاست کی طرف لے گئے۔

شیخ رشید نے سب کو مفت مشورے دیے، یہ وقت لڑائی اور سیاست کا نہیں، سب کو متحد و یکجا ہو کر کورونا کی وبا کا مقابلہ کرنا ہے۔

دوسروں کوسیاست نہ کرنے کا قیمتی مشورہ دیتے رہے لیکن خود وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پرکھلی تنقید کر دی۔

شیخ رشید بولے سب سے پہلے سیاست اور بیان بازیاں مراد علی شاہ نے شروع کی ہیں۔

غالبا شیخ رشید بھول گئے وزیر اعلی سندھ کی وہ نیوز کانفرنس جس میں انہوں نے بار بار ہاتھ جوڑ کر میڈیا اور سب سے معافی مانگی اور سب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔

شیخ صاحب کی صرف ایک ہی کوشش اور خواہش کہ کسی نا کسی طرح انھیں بقراط کا شاگرد مان کر عمران خان کے قریب ہی بٹھایا جائے تا کہ وہ ہمہ وقت ان کی قربت اور خاص مشوروں سے مستفید ہوتے رہیں۔

موقع غنیمت جانتے ہوئے انہوں نے پھر چینی اسکینڈل پر وزیراعظم کی تعریفوں کے پل باندھ ڈالے۔

پاکستان میں کسی کو ہمت نہ ہوئی کبھی اس طرح کے اسکینڈل منظر عام پر لانے کی یہ عمران خان ہی ہیں جنہوں نے سب کو بے نقاب کر دیا۔

شیخ رشید پھر خود ہی گویا ہوئے کہ جب عمران خان اپنے دیرینہ دوست جہانگیر ترین سے دوری اختیار کر سکتا ہے تو پھر کسی اور کیا اہمیت، وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

اس سے پہلے بارہا اپنی نیوز کانفرنس میں وزیر ریلوے خود سے کہتے رہے ہیں جہانگیر ترین سے عمران خان کا گہرا تعلق جو اس رپورٹ کی وجہ سے ختم نہیں ہو سکتا۔

ابھی تو اس رپورٹ کا فارنزک چل رہا اور 25 اپریل کو حتمی رپورٹ آنی ہے جہانگیر ترین کہیں نہیں جارہے ان کا ساتھ رہے گا۔

لاہور پریس کانفرنس میں آج ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا، اب کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین سے دوری کر لی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ رشید نے آج جو کہا ہے وہ سچ ہے کیا پھر اس سے پہلے جو کہتے رہے ہیں وہ سب کچھ جھوٹ تھا؟

اسی طرح انہوں نے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف پر بھی تنقید کر ڈالی۔

کہتے ہیں شہباز شریف کو پہلے ہی کینسر ہے اور اس وقت کورونا کی وبا ہے جس نے انہیں بچا لیا۔

وہ تو پاکستان آنا ہی نہیں چاہتے تھے اور اگر میں کل دم نہیں کرتا تو وہ پکڑے جاتے۔

یہی نہیں شیخ صاحب نے نیوز کانفرنس میں مفاہمت کا پرچہ بھی آو¿ٹ کر دیا کہ حکومت میڈیا کے ساتھ دوستی کرنے جارہی ہے۔

وزیرا عظم کو میں منا لیا ہے میڈیا نے کورونا کی وبا کے دوران بہت اچھا کام کیا ہے اس لیے ساری تلخیاں دور ہو جانی چاہئیں۔

انہوں نے بین السطور بتادیا کہ جنگ گروپ کے ساتھ مفاہمت ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشتہار کا اجرا دوبارہ سے شروع کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید احمد صاحب نے محض چند روز پہلے نجی ٹی وی کے پروگرام میں دھماکا کیا کہ پاکستان فارغ ہو گیا تھا ڈیفالٹ کر چکا تھا۔

وہ عمران خان خوش قسمت ہے کہ یہ موقع مل گیا ورنہ کچھ نہیں بچتا۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے عالمی اداروں سے غریب ملکوں کا قرضہ معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قرضہ تو معاف نہیں ہوسکا لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے پاکستان کو مہلت دیدی۔

ساتھ ہی پاکستان کو آئی ایم ایف نے ایک ارب 40 کروڑ ہنگامی قرضہ دینے کی منظوری دے دی۔

اس کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں اور ممالک نے قرضہ کی ادائیگی میں بھی چھوٹ دے دی ہے۔

لیکن ملک ڈیفالٹ کرنے سے متعلق اس دھماکے پر کہیں سے وہ شٹ اپ کال دی گئی اور نہ کسی نے اس کی تردید کرنا گوارا کی۔

شیخ رشید کو پرچہ جلدی آو¿ٹ کرنے کا کیا شوق ہے یہ ایک معمہ ضرور ہے لیکن اس مرتبہ تو انہوں نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے سے متعلق پرچہ آوٹ کر دیا، لیکن اس پر بھی ہر جانب سے خاموشی کیوں رہی؟

باتیں کہنے کا بھی کوئی سلیقہ ہوتا ہے عمران خان کو خوش قسمت کہہ کر کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ تمام ادارے سو رہے ہیں؟

کسی کو ملک کی پروا نہیں؟

کیا یہ ملک عمران خان کی خوش قسمتی کی وجہ سے چل رہا ہے؟

شیخ رشید احمد نے گزشتہ سال انتہائی خطرناک پیش گوئی کی تھی کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا۔

خدا کا شکر ہے ایسا نہیں ہوا لیکن وزیر موصوف بارہا اس کا اعلان کرتے رہے تھے۔

شیخ رشید کی نیوز کانفرنسیں کور کرنے والے صحافی کہتے ہیں وزیر موصوف عموما ًاسی طرح کیا کرتے ہیں۔

عوام میں تیزی سے مشہور ہونے والی باتیں وہ زیادہ کیا کرتے ہیں۔

اکثر ذومعنی باتیں بھی کرتے ہیں تاکہ اگر سچ ثابت ہو گئی تو وہ اس کو بیچتے رہیں۔

شیخ رشید کو ایک یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے سینئر سیاستدانوں میں سے ایک ہیں۔

سیاست میں بزرگی کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے عمل کا مرتکب نہ ہوں جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو۔

شیخ رشید اکثر یہ بھی کہتے رہے ہیں فلاں سیاست دان گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہے لوگ تو ان کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ موصوف اکثر اوقات پیپر جلد آو¿ٹ کر دیا کرتے ہیں۔


ای پیپر