Photo Credit Yahoo

چیف جسٹس نے پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی گڈ گورننس کے بخیے ادھیڑ دیئے
19 اپریل 2018 (20:27)

پختونخوا : چیف جسٹس آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں گورننس کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا۔ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا صحت میں آپ نے کوئی انقلابی اقدامات نہیں کئے،آپ کے چرچے تو بہت سنے تھے، چیف جسٹس نے صوبے کی آبادی پوچھی تو پرویز خٹک نہ بتا سکے،، چیف جسٹس نے استفسا ر کیا صوبے میں صاف پانی کی کتنی کمپنیاں ہیں،؟اس پر بھی وزیراعلیٰ کوئی جواب نہ دے سکے،،کہا پتہ کر کے بتائیں گے ،،، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ،،ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے جارہے ہیں لیکن اصل عزت عوام کی خدمت میں ہے۔

سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں مفاد عامہ سے متعلق کیسز کی سماعت ہوئی ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک پیش ہوئے اور صحت عامہ کے حوالے سے کارکردگی رپورٹ پیش کی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ایک ہفتے سے خیبر پختونخو ا میں کیا ہورہا ہے،معلوم ہے،صرف صفائیاں ہو رہی تھیں،وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا اصرار تھا کہ ان کی کارکردگی کا نتیجہ دو سال بعد آئے گا، چیف جسٹس نے کہا آج خود جاکر صورتحال دیکھ لی،صحت میں آپ نے کوئی انقلابی اقدامات نہیں کئے،آپکو اب کچھ نہیں کہا جاسکتا،اب تو آپکے پاس ٹائم ہی نہیں رہا،اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے جارہے ہیں،لیکن اصل عزت عوام کی خدمت میں ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ ان کے صوبے میں پینے کا پانی بڑا صاف ہے ،عدالت نے پانی کے حوالے سے رپورٹ طلب کی اور اسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کا کام تیز کرنے کی ہدایت کر دی


ای پیپر