روک سکو تو روک لو : ویلڈن وزیراعظم 
19 اپریل 2018

گذشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی امریکہ میں ائیرپورٹ پر تلاشی کی فوٹیج سامنے آئی سوشل میڈیا پر شور برپا ہوگیا خودساختہ دانشوروں نے کمین گاہیں سنبھال لیں ایسے حالات میں ملک کے اندر سے سیاسی مخالفین اور باہر سے دشمن ممالک دونوں اطراف سے شدید گولہ باری کا سماں رہا ایسے حالات میں برازیل سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی مثالیں دی گئی اور ان ممالک کی غیرت اور عزت کی مثالیں دے دے کر وزیراعظم پاکستان کو ہتک آمیز سلوک کا احساس دلایا گیا۔سوشل میڈیا پرسب سے زیادہ زیر بحث برازیل کے ایک تاجر کے ساتھ امریکی ائیر پورٹ پر پیش آنے والے واقعے کو بنایا گیا۔ آج کچھ غمِ روزگار سے فرصت ملی تو طبیعت مائل بہ قلم ہوئی کہ کیوں نے اس سارے واقعے کا ایک تقابلی جائزہ لے کر اہل فکر کی رائے لی جائے۔


راوی بیان کرتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی چشم فلک نے دیکھا کہ جب امریکہ کے ائیر پورٹس پر غیر ملکیوں کی تلاشی ایسے لی جاتی تھی جیسے پوری دنیا چور ہو اور صرف امریکن معزز ہوں۔بہت عرصے سے ایک برازیل کا تاجر امریکہ آتا جاتا تھا اس نے یہ حالت دیکھی تو بہت پریشان ہوا کہ ہر بندے کی ٹوپی،ٹائی،جوتے اور جرابیں اتار کر تلاشی لی جا رہی ہے وہ اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا لمبی قطار لگی ہوئی تھی تلاشی دینے والوں کا ایسا منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا جب اسکی باری آئی اور امیگریشن والوں نے اسے بھی جوتے اتارنے کا حکم دیاتو اس نے یہ آرڈر ماننے سے انکار کر دیا۔امیگریشن افسر نے اسکا پاسپورٹ لیا اور اس پہ ڈی پورٹ کی مہر لگا دی برازیلی تاجر اگلی فلائیٹ سے واپس برازیل پہنچا اور ائیرپورٹ پر اترتے ہی پریس کانفرنس بلائی اور آپ بیتی قوم کے سامنے رکھ دی اس پریس کانفرنس نے برازیل میں طوفان برپا کر دیا۔ برازیل کی حکومت نے امریکہ کے سفیر کو بلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا مگر سپرپاور کے نشے میں دھت امریکی حکومت نے اسے معمول کی کاروائی سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا۔ معاملہ برازیل کی پارلیمنٹ میں چلا گیا پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ جو بھی امریکی برازیل کی سرزمین پر قدم رکھے اس کی ائیرپورٹ پر تفصیلی تلاشی لی جائے۔ اگلے ہی دن اس قانون پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔امریکی حکومت نے اس توہین آمیز رویئے پر شدید احتجاج کیا،برازیل نے امریکہ کو اسی کی شان بے نیازی کے انداز میں معمول کی کاروائی قرار دیتے ہوئے نظرانداز کردیا۔2002 سے لے کر 2006 تک مسلسل چار سال برازیل دنیا کا واحد ملک تھا جس کے ائیر پورٹس پر صرف امریکہ کے شہریوں کی جامعہ تلاشی ہوتی تھی بالاخر چار سال کے طویل ڈیڈلاک کے بعد امریکہ اور برازیل کے درمیان اعلی سطحی مذاکرات ہوئے اور امریکی حکومت نے معافی مانگ کر مسئلے کو ختم کیا اور یوں امریکی شہریوں کی برازیلی ایئرپورٹس پر ہونے والی ذلالت کا سلسلہ بندہوا۔


بات کچھ یوں ہے ارباب فکر ودانش جب برازیل کی قوم نے اپنے شہری کو امریکہ کے ائیرپورٹ پر ذلیل ہونے کی کہانی سنی تو وہ قوم کھڑی ہوئی اتحاد کے ساتھ جرات کے ساتھ دلیری وجوانمردی کے ساتھ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس تحقیر آمیز سلوک کا بدلہ لیں گے جواب دیں گے دنیا کی سپرپاور کو اور یقینناََ برازیل کی حکومت نے جواب دے کر ثابت بھی کیا کہ ہم آئی ایم ایف،ورلڈ بنک کے مرہون منت نہیں ہماری معیشت بیرونی امداد سے نہیں چل رہی۔ پاکستانی قوم مخالفت برائے مخالفت میں قومی وقار اور ملی غیرت تک داو پر لگادیتی ہے ہماری معیشت ہمارا سی پیک ہمارا ایٹمی پروگرام ہماری موٹرویز تک بیرونی امداد سے چل رہی ہیں۔ہم معاشی طور پر خودکفیل نہ ہونے کے ساتھ دنیا کی نظرمیں بھکاری قوم ہیں اور یہ ہمارا ایک معاشرتی المیہ ہے شمالی علاقہ جات میں آنے والے زلزلے کے بعد دنیا نے ہمیں اس قدر امداد دی تھی کہ مظفرآباد بالاکوٹ جیسے کئی شہر آباد کئے جاسکتے تھے مگر اس وقت کے وژنری حاکم مکا لہرا کر سارا مال ہڑپ کر گئے نہ تو ان کا احتساب ہوا اور نہ ہی انہیں کسی نے پوچھا خیر میں واپس موضوع کی طرف آتا ہوں اس سے پہلے کے میں دائرہ حب الوطنی سے باہر قدم رکھ کر پَر جلا بیٹھوں! میں بنیادی طور پر اس امر پر بحث مناسب سمجھتا ہی نہیں کہ وزیراعظم عباسی کرپٹ ہیں یا نہیں ان کی پارٹی کا احتساب ہو رہاہے یانہیں مگر یہ امر ضرور بحث طلب ہے کہ شاہد خاقان عباسی ملک سے باہر بائیس کروڑ عوام کے وزیراعظم تھے


آرمی چیف کے باس تھے ایک آزاد خودمختار ایٹمی طاقت اسلامی جمہوری ریاست پاکستان کے سربراہ تھے وہ ایک مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے وہاں موجود تھے یہ دلیل بھی کمزور ترین ہے کہ وزیراعظم عام شہری کی حیثیت سے وہاں گے، بہ فرض محال اگر گئے بھی ہوں اس کے باوجود ہم بحثیت قوم اس ارض وطن کے سربراہ کے ساتھ اس شرمناک سلوک پر امریکی رویئے کے خلاف سراپا احتجاج بلند کرنے کی بجائے اپنے ہی وزیراعظم کو مشق ستم بنادیں، اخلاقی روایات مشرقی اسلامی اقدار کوبھی ہماری قوم بھول گئی افسوس کا مقام کہ ہم ملکی وملی وقار میں بھی سیاسی نظریاتی اختلافات لے آئے کیا نفرتیں فاصلے اور تعصب اس صوفیا اور اولیاء کو ماننے والی بستی کے مکینوں میں اس قدر بڑھ گئے؟ کوئی تو اس کا جواب دے خدا کیلئے سیاسی جماعتیں نوجوان نسل کا اخلاقی قتل مت کریں سیاسی جلسوں میں گالم گلوچ کی روایت ترک کریں یا نہ کریں، مگر قومی مفادات اور ملک و قوم کی عزت کیلئے تو ایک صف میں کھڑے ہوں اگر ہم اس ڈگر پہ چلتے رہے کہ ہم نے حرم کعبہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عقیدت پیش کرنے آئے نوازشریف کے خلاف نعرے لگوانے کی روش ترک نہ کی،غیرملکی اسٹیڈیمز کرکٹ میچز میں اپنے ملک کے وزیراعظم کا یونہی تماشہ بنائے رکھا تو پھر اسی رویئے کی امید رکھیئے جو رویہ امریکی ائیرپورٹ پر دیکھنے میں آیا، اور یہ ہتک آمیز سلوک کل آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ آج کی اپوزیشن کل کی حکومت بھی ہوسکتی ہے اب بھی وقت ہے سینٹ میں ووٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف پریس کانفرنس کی طرح قومی مفاد اور ملک وقوم کی غیرت کو بچانے کیلئے کچھ ارشاد فرما دیجیئے ابھی وقت ہے روک سکو تو روک لو نہیں تو اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو جنابِ کپتان آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوسکتا ہے ۔


ای پیپر