عمران کا ”کرزما“
19 اپریل 2018

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ تحریک انصاف میں رقمیں پکڑنے والے فارغ ہونے والے ہیں اور خیال یہ تھا کہ آج کے کالم میں تفصیل لکھ دوں گا، لیکن عمران خان مجھ سے بازی لے گئے اور انہوں نے پریس کانفرنس میں 20 ضمیر فروش اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکالنے کی کارروائی شروع کر دی ہے، نیب کے ذریعے ان کے خلاف مزید کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔
کچھ عرصے سے ارادہ تھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کے بارے تفصیل سے بات کروں گا لیکن اس طرح کا کوئی موقع نہیں بن رہا تھا اور خواہش کے باوجود دیگر واقعات تحریک انصاف کی سیاست پر حاوی آ جاتے تھے۔ پہلے ایک وضاحت اور شکریہ ادا کرتا چلوں کہ گزشتہ کالم میں گولی چلنے کے واقعہ پر لفظ ”تاریخ ساز“ لکھا تھا لیکن ٹائپنگ میں کمپوزر سے انورٹڈ قوماز ”“ رہ گئے اور مفہوم تبدیل ہو گیا جبکہ شکریہ اندرون سندھ اور کے پی کے کے دشوار گزار اور دور افتادہ علاقوں سے پسندیدگی کا اظہار کرنے والوں کا فرداً فرداً سب کا جواب ممکن نہیں ہے۔
عمران خان کی شخصیت میں قدرتی طور پر ایک ”کرزما“ ہے جو اس کے ارد گرد لوگوں کو جمع کرنے میں مدد دیتا ہے اور کسی سیاست دان کے لیے ”کرزما“ بہت ضروری جزو ہے۔ مجھے اس کا اردو متبادل اس وقت سوجھ نہیں رہا لیکن سمجھانے کے لیے بتا دوں کہ ”کرزما“ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو کے پاس تھا اور نواز شریف کے پاس ہے جبکہ آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے پاس بالکل نہیں ہے۔ عمران خان کو سیاست نہیں آتی اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ روایتی سیاسی ہتھکنڈوں اور چالاکیوں اور کہہ مکرنیوں سے محروم ہے اور جو اس کے دل میں ہوتا ہے وہ ہی اس کی زبان پر بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کا پابند ہونے کے باعث بار بار غلطی کرتا ہے اور پھر اپنا راستہ تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے جسے اس کے ناقدین ”یوٹرن“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اسے چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے دور سے گزر رہا ہے لیکن بعض غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا مدوا نہیں ہوا کرتا۔ اس کی خامیوں پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے اس کے غیر روایتی ہونے پر بات کر لیتے ہیں وہ بیک وقت سب کو خوش رکھنے کے فن سے آشنا نہیں لیکن مجھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان یاد آ رہا ہے کہ ”جس کا کوئی دشمن نہیں وہ بہت بڑا منافق ہے“، تو اس کے سیاسی مخالفین زیادہ ہونے پر مجھے ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں۔ اسی طرح جس بات کو درست سمجھتا ہے کر گزرتا ہے اور کہہ دیتا ہے۔ اس کی شادیاں، اس کے سیاسی بیانات آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اپنی دانست میں درست بات پر ڈٹ جانے کو ذاتی شخصی خوبی سمجھا جا سکتا ہے لیکن جب ہم بطور سیاستدان یا حکمران ”بزعم خود درست“ فیصلوں کے امکانات کو دیکھیں تو نتائج خوفزدہ کر دیتے ہیں۔
اس کو اپنے سیاسی حریفوں پر جو ایک اور فوقیت حاصل ہے وہ ہے آج تک اقتدار سے باہر رہنا کیونکہ آج تک اس کو اقتدار سنبھالنے کا موقع نہیں ملا اس لیے اقتدار بذات خود جن برائیوں کا کسی پارٹی یا لیڈر میں موجب بنتا ہے وہ بھی اسی کے نام کے ساتھ نہیں جوڑے جا سکتے۔ ویسے کرپشن اور طاقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے پہلے آپ کرپشن کے ذریعے طاقت حاصل کرتے ہیں اور پھر حاصل شدہ طاقت سے مزید یا بڑی کرپشن کرتے ہیں جس کے نتیجے میں زیادہ طاقت، پاور یا اقتدار حاصل ہوتا ہے پھر ایک ایسی صورتحال آتی ہے جس میں طاقت سب کچھ ہوا کرتی ہے اور اس کے ضمنی فوائد میں کرپشن سرفہرست ہوا کرتی ہے۔ ذاتی طور پر عمران خان کی شخصیت پر بددیانتی کا کوئی الزام نہیں لیکن بعض اوقات جب انسان اپنی دیانت داری کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے تو ایک دیگر نوعیت کی مشکل آن پڑتی ہے کہ اسے اپنے علاوہ دیگر تمام لوگ بے ایمان نظر آنے لگتے ہیں لیکن یہاں لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ذاتی ساکھ کے علاوہ کسی دوسرے کی ساکھ کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا اور اپنے ارد گرد یا دائیں بائیں لوگوں پر ماضی میںلگے الزامات کو اپنے لیے نقصان دہ نہیں سمجھتا جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ عمران خان حکومت میں آئے بغیر غیر مقبول ہونے کے راستے کے مسافر لگ رہے ہیں تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ابھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے مایوس ووٹرز کو عمران خان کے علاوہ کوئی متبادل بھی نظر نہیں آ رہا اور اسے ایسے سپورٹر مل گئے ہیں جو اس کی کسی غلطی کو غلطی نہیں سمجھتے۔
عمران خان کی جانب سے شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں عمران خان، امتیابھ بچن اور ہائی جینٹری کے کچھ لوگ جن میں گورے بھی شامل ہیں نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائیکی پر جھومتے نظر آ رہے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک خاص قسم کی کلاس میں اس کی اپیل نوے کی دہائی میں بھی موجود تھی جبکہ فی زمانہ نوجوانوں میں بھی اس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے اور 18 سے 30 سال کے نوجوانوں میں بالعموم اور پڑھے لکھے طبقے میں بالخصوص اس کی پسندیدگی عروج پر ہے اور نئے ووٹرز کے اندراج سے جو ووٹرز بڑھیں گے، ان کی اکثریت تحریک انصاف کی جانب رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عمران خان نے اپنے بیس اراکین صوبائی اسمبلی کو کرپشن کے الزامات پر تقریباً فارغ کر دیا ہے جس کے باعث پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے کیونکہ کرپشن پر ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنے کا نظریہ روبہ عمل تھا۔ نئی اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے لندن سے تشریف لائے ہوئے ایک رہنما، تحریک انصاف پنجاب کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پر بھی الزامات ہیں اور ان الزامات کی تحقیقات بھی مکمل ہو چکی ہے اب عمران خان ان دو اہم شخصیات کے حوالے سے ”زمینی حقائق“ اور سیاسی حکمت عملی کے تحت فیصلہ کریں گے یا ایک مرتبہ پھر غیر روایتی سیاستدان ہونے کا بھرم قائم رکھیں گے اس پر ان کے پنجاب میں سیاسی مستقبل پر پیش گوئی ممکن ہو سکے گی کیونکہ عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین کے ساتھ نذر محمد گوندل اور فردوس عاشق اعوان بھی اسی صف میں کہیں آگے پیچھے نظر آ جائیں گے پھر کپتان کیا کریں گے؟
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مقابلے پر صداقت عباسی کو بھی ٹکٹ کے لیے مقابلے کا سامنا ہے اسی طرح قصور میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم مسئلہ نظر آ رہی ہے رہا صداقت عباسی کے ٹکٹ کا معاملہ تو مجھے فیض پراچہ کا بھیجا ہوا لطیفہ یاد آ گیا ہے ۔”ایک مراثی ٹرین کے ڈبے میں سوارہوا۔وہاں پہلے سے ایک بارات بیٹھی تھی۔جب ٹرین چلی تو بارات والوں نے ایک دیگ کھولی اور سب کو چاول تقسیم کیے اور مراثی کو نہیں دئیے۔وہ صبر کر گیا کہ شاید دیکھا نہیں ہوگا۔۔۔ابھی چاول ختم بھی نہیں ہوئے تھے تو بارات والوں نے دوسری دیگ کھولی اور سب کو چکن روسٹ تقسیم کیا۔۔۔اور مراثی کو پھر سے کچھ نہیں دیا۔اس کو غصہ تو بہت آیا کہ اگر اس کو بھی کچھ دے دیتے تو کونسی قیامت آ جانی تھی۔۔۔لیکن برداشت کر گیا۔ ۔۔۔بارات والوں نے اب ایک دیگ اور کھولی اور سب کو کھیر دی اور مراثی کو پھر کچھ نہیں دیا۔۔۔اب اس سے رہا نہ گیا کھڑا ہو کر زور زور سے بددعائیں دینے لگا کہ "اللہ کرے اس ڈبے پر بجلی گرے اور سارے مر جائیں “۔۔۔۔ بارات میں سے ایک بندہ پوچھنے لگا کہ اگر سارے مریں گے تو تم کیسے بچو گے؟ تو کہنے لگا "جیویں چاولاں توں، مرغی توں تے کھیر توں بچ گیاں“۔ دیکھیں! صداقت عباسی بچتا ہے یا نہیں۔


ای پیپر