گھر کی چھت پر رومانس۔۔۔
18 ستمبر 2020 (17:24) 2020-09-18

پران نوائل

لاہور کی تنگ اور پُرہجوم گلیوں میں چھتوں کی اپنی الگ زندگی تھی جو نیچے کی شعری زندگی سے مختلف تھی۔ مشترک خاندان کا قاعدہ عام تھا اور اشتراکی تصور کی طرح ہر چیز مشترک تھی۔ تمام لوگ ایک جیسے انداز میں گھروں کی چھتوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی ان کو استعمال کرسکتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں بھی برابر کے شریک ہوتے تھے۔ عورتیں اپنے مردوں کو متنوع کھانے پیش کرنے کی غرض سے مصالحہ دار اور مہکتے ہوئے سالن اور کھانے کی دوسری چیزوں کا تبادلہ کرتی تھیں۔ بیوائوں کی ضروریات کا خیال رکھنا جو عام طور پر اپنے بچوں کے ساتھ گھروں کے اندر ہی رہتی تھیں، تمام مردوں کی مشترکہ ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ ایک گھر کے اندر رہنے والے تمام خاندانوں کو چھت استعمال کرنے کے یکساں حقوق حاصل تھے اور جوان، بوڑھے سبھی چار پانچ منزل سیڑھیاں چڑھ کر تازہ ہوا اور دھوپ کے لیے چھت پر آتے تھے۔ چھتوں پر عام طور پر برساتیاں بنائی جاتی تھیں یا بیت الخلاء اور چمنی ہوتی تھی جس میں سے باورچی خانے میں جلائی جانے والی لکڑی یا اپلوں کا دھواں باہر نکلتا تھا۔ عورتیں وہاں بیٹھ کر ہمسایوں سے گفتگو کرتیں جو زیادہ سے زیادہ چار پانچ فٹ دوری پر ہوتی تھیں۔

سردیوں کے دنوں میں جب مرد باہر کام پر چلے جاتے تو چھتیں بچوں اور عورتوں کے تصرف میں آجاتی تھیں۔ عورتیں چھوٹے موٹے کاموں میں مصروف ہو جاتیں۔ کچھ چرخہ کاتنے، ململ کی چنیاں (دوپٹے) رنگنے یا ریشمی دھاگے کے ساتھ کپڑے کے ٹکڑے پر کشیدہ کاری کرنے لگتی جسے لکڑی کے گول فریم میں جکڑ رکھا ہوتا تھا۔ کچھ بوڑھی عورتیں رضائیاں رفو کرنے یا عمودی فریم پر سوتی دریاں بُننے میں مصروف نظر آتی تھیں۔ بعض نوجوان خواتین سویٹر بُننے میں اپنی مہارت دکھاتیں یا کسی حاصل کردہ سنگر مشین پر بچوں کے کپڑے سیتی نظر آتیں۔ کچھ عورتیں اپنے چہروں پر ایک قسم کا پیسٹ لگاتی نظر آتیں جو آٹے میں گھی یا سنگترے کے چھلکے کا سفوف تیل میں ملا کر بنایا جاتا تھا۔ یہ آمیزہ ان کی جلد کو شگفتہ اور درخشاں بناتا تھا۔ مسی نہ پھیلنے والی لپ اسٹک کا کام دیتی تھی۔ نوجوان لڑکیاں روٹی کے بھورے کبوتروں اور کوئوں کو کھلاتی نظر آتی تھیں جو چھت پر ان کے گرد اکٹھے ہو جاتے اور کبھی اوپر اڑتے اور کبھی نیچے۔ یہ ایک اور دلکش نظارہ تھا جو چھتوں پر دیکھنے کو ملتا تھا۔ بوڑھی عورتیں جو کوئی محنت طلب کام نہیں کرسکتی تھیں تربوز کے بیجوں میں سے مغز نکالنے میں مصروف رہتی تھیں۔ گھروں کی چھتوں پر دھوپ تاپنے والی اس مجلس میں اس وقت خلل پڑتا جب نیچے گلی میں کوئی پھیری والا سبزی، پھل، پکی ہوئی اشیاء یا برتن بیچنے کے لیے صدا لگاتا۔ عورتیں چھتوں پر بیٹھی بیٹھی بھائو کرتیں اور سودا ہو جانے پر اشیاء کو اوپر سے ٹوکری لٹکا کر وصول کرتیں جو بِل دی ہوئی رسی کے ساتھ بندھی ہوتی تھی۔ اس آلہ کو ’’چھکا‘‘ کہا جاتا تھا اور اس کا استعمال لاہور میں بہت عام تھا۔

گرمیوں میں چھتوں پر صرف شام کے بعد ہی رونق ہوتی تھی۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی چھتوں پر پانی کا چھڑکائو کیا جاتا اور دن بھر کام سے تھکے ہارے مرد حقے لے کر چھتوں پر آجاتے 

اور پڑوسیوں سے گپ شپ کرتے

سکول سے واپس آنے پر لڑکے پتنگیں لے کر چھتوں پر چڑھ جاتے۔ عورتوں کے لیے یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ انہیں نیچے جا کر شام کے معمول کے کاموں کو نپٹانا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ہم میں سے بیشتر لڑکوں کا دل پسند مشغلہ پتنگ بازی تھا۔ کوئی نظارہ فضا میں تیرتی ہوئی پتنگ کے نظارے سے بڑھ کر نہ تھا۔ چھتوں پر چلاتے ہوئے لڑکوں کی وجہ سے گہماگہمی ہو جاتی جو ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دے رہے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی کسی مخالف کی پتنگ کٹنے پر فاتح کا ’’بوکاٹا‘‘ کا نعرہ سنائی دیتا۔ شام کا جھٹپٹا ہوتے ہی لڑکے پتنگیں واپس کھینچ لیتے اور نیچے گھروں کو اتر آتے۔ چھتیں اس وقت ویران ہو جاتیں۔ اس لمحے نوجوان رومانوی جوڑے خاندان کے افراد اور پڑوسیوں کی ہمیشہ متحرک اور چوکس رہنے والی نگاہوں سے بچ کر تنہائی کی تلاش میں چھتوں پر آجاتے۔ اس وقت ان کی نرم آوازیں، دبی دبی ہنسی اور اظہار محبت کی سُن گُن لی جاسکتی تھی۔

گرمیوں میں چھتوں پر صرف شام کے بعد ہی رونق ہوتی تھی۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی چھتوں پر پانی کا چھڑکائو کیا جاتا اور دن بھر کام سے تھکے ہارے مرد حقے لے کر چھتوں پر آجاتے اور پڑوسیوں سے گپ شپ کرتے۔ عورتیں نیچے گھروں میں معمول کے کاموں میں مصروف ہوتیں۔ گھروں اور گلیوں میں جیسا حبس ہوتا تھا ویسا چھتوں پر نہیں تھا۔ اکثر پہاڑوں کی ٹھنڈک لیے شمال سے تازہ ہوا کے جھونکے آتے۔ کبھی کبھی کوئی اپنا گرامو فون لے آتا اور چھتوں پر بیٹھے ہر فرد کو بھائی چھیلا پٹیالے والا، ولاری بیگم، کملا جھریا اور ماسٹر مدن کے گیت سنواکر مسرت سے ہمکنار کرتا۔ یہ بات ہمارے پڑوسی رام لال کو اُکساتی اور اگلے دن وہ اپنا ہارمونیم چھت پر لے آتا اور مقبول عام گانے سنا کر پڑوس کے ہر فرد سے داد وصول کرتا۔ رات کے کھانے کے بعد خاندان کے تمام لوگ اکٹھے بیٹھ جاتے اور گپ شپ کرتے۔ کئی گھروں میں بجلی نہیں تھی اور لالٹینوں کی جھلملاتی روشنی بڑا دلکش نظارہ پیش کرتی تھی۔ طلوع سحر بوریا بستر لپیٹنے کا اشارہ ہوتی تھی اور ہم سورج نکلنے سے پہلے نیچے کمروں میں آجاتے تھے۔ بعض اوقات آدھی رات کو بجلی کی گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہمیں اٹھنے پر مجبور کر دیتی۔ ایسے میں ہر کسی کے بھاگنے اور گھسٹنے کا شور اُٹھتا۔ ہر کوئی بستر سنبھالے برساتی یا نیچے کی طرف رُخ کرتا۔ پُرسکون راتوں میں خلاء میں بھٹکتے ہوئے اس شہر کی چھتوں پر پڑے خوابیدہ جسموں پر چاندنی پڑتی رہتی تھی۔

جیسے جیسے دن بڑے ہوتے جاتے سورج اپنی کرنوں سے چھتوں کو جھلسانا شروع کر دیتا اور چھتیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگتیں۔ ایسے میں بھی کبھی کبھار کوئی فطرت کے بلاوے پر اوپر آجاتا۔ ان دنوں ساری مصروفیات نیچے منتقل ہو جاتیں۔ خواتین اپنے گھروں کے آگے بنے چبوتروں پر بیٹھنے لگتیں۔ ان دنوں متوقع گاہک خواتین اور کپڑے کے سوداگر کے مابین جو کشمیری قلی سے اپنا سامان اُٹھوائے گلی میں سے گزر رہا ہوتا، پُرجوش انداز میں مول تول کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ جب وہ خواتین کے سامنے اپنی اشیاء بچھاتا تو بچوں کا ایک ہجوم اس کے گرد جمع ہو جاتا۔ وہ خواتین کو اشیاء دیکھنے کی ترغیب دیتا، چاہے وہ کوئی چیز خریدیں یا نہ خریدیں۔ کئی پھیری والے باقاعدگی سے گرمیوں کے پھل، مصالحے دار چاٹ، گول گپے، کلچے چھولے اور قلفی یا قلفہ بیچنے آتے تھے۔ پیتل کے برتن بیچنے والے اپنی اشیاء کا تبادلہ پُرانے کپڑے اور جوتوں سے کرتے تھے۔ ایک دلچسپ کردار قلعی والا ہوتا تھا جو تانبے اور پیتل کے برتنوں پر قلعی کرتا تھا۔

جون کے اختتام پر دوپہر کے بعد جب چھت صحرا کی طرح تپ رہی تھی میں برساتی میں جہاں بستر رکھے جاتے تھے، ایک تکیہ لینے گیا جب میں چھت کے قریب پہنچا تو مجھے برساتی میں سے باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں۔ میں ششدر رہ گیا اور وہیں رُک گیا۔ سیڑھیوں کے اختتام پر لگا دروازہ نیم وا تھا۔ میں تیزی سے اوپر گیا اور دروازے کے پیچھے ایسی جگہ چھپ کر کھڑا ہو گیا جہاں سے میں ساری کارروائی دیکھ اور سن سکتا تھا لیکن چھت پر سے مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ جب میں نے غور سے سنا تو آوازیں مجھے جانی پہچانی معلوم ہوئیں۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہمارا پڑوسی ہیرا ایک دوسرے پڑوسی لالہ خوشی رام کی نوجوان دوسری بیوی رام پیاری سے سرگوشیوں میں باتیں کررہا تھا۔ کچھ دیر پہلے وہ عورتوں کی ٹولی میں ہمارے گھر کے تھڑے پر بیٹھی میری ماں سے بات چیت کررہی تھی۔ لازمی طور پر وہ وہاں سے کسی کو بتائے بغیر کھسک کر ہیرا کے ساتھ طے شدہ ملاقات کے لیے ہمارے گھر کی چھت پر برساتی میں آئی ہوگی۔

میرا خیال ہے کہ مجھے یہاں تھوڑا توقف کرنا چاہیے اور پہلے اس جوڑے کے متعلق کچھ بتانا چاہیے۔ ہیرا میٹرک پاس کرچکا تھا لیکن کئی دوسرے نوجوانوں کی طرح ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس نے خوشبودار تیل بنانے کا طریقہ کہیں سے سیکھ لیا تھا اور گھر میں تیل بناتا تھا۔ پھیری والوں کے ذریعے وہ چند بوتلیں بیچنے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ بڑے دکاندار اس سے مال نہیں خریدتے تھے کیونکہ وہ ’’بھائیوں کی دکان‘‘ کی مصنوعات خریدتے تھے جو نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں مشہور تھی تاہم ہیرا روزانہ اپنے جیب خرچ کے لیے چند آنے منافع کما ہی لیتا تھا۔ 

٭٭٭


ای پیپر