نواز شریف کی حکومت بحال کرنے کیلئے عبوری حکم کیوں جاری کیا ؟اہم انکشافات
18 ستمبر 2020 (17:19) 2020-09-18

جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ :

 عبوری آئینی حکم (پی سی او) جو مارشل لاء اتھارٹی کی خواہش پر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ان کے فرائض منصبی سے ہٹانے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے، آئینی حدود کی پابند عدالتی فعالیت کی ضد ہے، ان دونوں میں کوئی مطابقت نہیں۔ انتظامیہ کے افعال پر نظرثانی عدالتی فعالیت کی بنیاد ہے جبکہ پی سی او کی تہہ میں عدلیہ کے حقوق واختیارات سے بے پروائی کا اصول کارفرما ہے۔ درپردہ یا کھلے مارشل لاء کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو عبوری آئین کا نفاذ رہا ہے۔ اس کے ذریعے ان اصولوں پر براہ راست حملہ کیا گیا جو ججوں کے کردار اور اس آئینی ہیئت حاکمہ کا تعین کرتے ہیں جن کے تحت ججوں کو کام کرنا ہے۔

جون 1955ء میں ایتھنز کے مقام پر قانون دانوں کے بین الاقوامی کمیشن نے اعلان کیا ’’ججوں کو قانون کی حکمرانی کو اپنا رہنما اصول بنانا چاہیے، انہیں کسی خوف یا کسی فریق کی حمایت سے بے نیاز ہو کر اس کا تحفظ کرنا اور اسے نافذ کرنا چاہیے اور بطور جج انہیں اپنی آزادی میں حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔

جنوری 1959ء میں کمیشن کا اجلاس نئی دہلی میں ہوا جس میں ایک بار پھر یہ اعلان کیا گیا ’’آزاد خودمختار عدلیہ اگرچہ اسے سربراہ ریاست ہی نے کیوں نہ مقرر کیا ہو، قانون کی حکمرانی کے تابع ایک آزاد معاشرے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ عدلیہ کی خودمختاری سے مراد ہے عدالتی کارفرمائی کے ذریعے انتظامیہ یا مقننہ کی مداخلت سے آزادی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی جج کو من مانی کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ججوں کو تاحیات یا قانون کے تحت ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر پوری کرنے تک ان کے عہدوں سے برطرف نہ کیا جائے اور وہ اپنی مدت ملازمت پوری کریں‘‘۔

پی سی او کی پہلی مثال جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء میں سامنے آئی، بظاہر اس کا مقصد یہ تھا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور ان کے ماتحتوں کی ذات میں مکمل اور مطلق اختیارات مرکوز کر دیئے جائیں۔ عدالت نے اسے پسند نہ کیا چنانچہ 30جون 1969ء کو میر حسن ودیگر بنام ریاست کے مقدمے (PLD 1969, No:786) میں مغربی پاکستان ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ایک مارشل لاء اتھارٹی کے حکم کو غیرموثر قرار دے دیا جو میر حسن کیس ہی کے بارے میں تھا۔ ہائیکورٹ کا یہ حکم مارشل لاء حکام کو سخت ناگوار گزرا اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک حکم نافذ کیا جو عدالتوں کا قانونی دائرہ اختیار کا حکم (ازالہ شکوک) کے نام سے معروف ہے۔ اس حکم کے ذریعے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ عدالتوں سے ان تمام معاملات کے بارے میں قانونی اختیار چھین لیا گیا جنہیں مارشل لاء حکام کے سپرد کیا جاچکا تھا اور اسے ماضی سے یعنی 25مارچ 1969ء سے نافذ العمل قرار دے دیا گیا۔ یہ حکم 20دسمبر 1971ء کو جنرل یحییٰ خان کے زوال تک برقرار رہا جب سقوط ڈھاکہ کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور سپریم کورٹ نے اوائل 1972ء میں یہ فیصلہ دیا کہ اس حکم کا کوئی جواز دستیاب نہیں۔

اس وقت جنرل یحییٰ کے (عہدے اور مرتبے کے اعتبار سے وفاقی وزیر کے ہم پلہ) قانونی مشیر کوئی اور نہیں، پاکستان کے سابق چیف جسٹس واجب الاحترام جسٹس اے آر کارنیلئس تھے۔ شکر ہے کہ تب ججوں کو حلف اُٹھانے کے لیے طلب نہیں کیا گیا جیسا کہ بعد میں ہوتا رہا۔

دوسری مثال جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیش آئی۔ ان کے قانونی مشیر ایک بار پھر ممتاز وکیل، سابق وزیر قانون اور اٹارنی جنرل شریف الدین پیرزادہ مقرر ہوئے۔

سپریم کورٹ نے نومبر 1977ء میں جنرل ضیاء الحق کی ماورائے آئین مداخلت کو جائز قرار دے دیا تھا تاہم قرار دیا تھا کہ 1973ء کا دستور ملک کا اعلیٰ ترین قانون ہو گا جبکہ اعلیٰ عدالتوں کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں اور مارشل لاء حکام کے افعال اور کارروائیوں پر نظرثانی کا اختیار حاصل رہے گا لیکن آخرکار عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو ایسے تمام اقدامات کرنے اور ایسی قانونی تدابیر بروئے کار لانے کا اختیار حاصل ہو گا جو عدالت کی نظر میں قانون ضرورت کے دائرے میں شامل ہوں۔

فوجی حکومت نے یہ فیصلہ قبول کرلیا اور اس قانونی ڈھا نچے کے اندر رہتے ہوئے تقریباً ساڑھے تین برس حکمرانی کی، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے مطلق العنانہ اختیارات پر پابندی کے باعث فوجی حکمرانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہورہا تھا۔ 24مارچ 1981ء کی نصف شب بدنیتی سے خفیہ کارروائی کرتے ہوئے پی سی او نافذ کردیا گیا۔

چیف جسٹس انوارالحق کے لیے یہ صورتحال سخت اذیت کا باعث ہوئی۔ اس کے جلد ہی بعد انہوں نے اس پر بڑے جرأت مندانہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’’پی سی او کا سارا زور اس بات پر تھا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے قانونی دائرے اور اختیارات کو محدود کیا جائے اور ایک ایسی صورتحال پیدا کردی جائے جس میں مارشل لاء حکام اور ان کے افعال واعمال عدالتوں کی گرفت سے باہر نکل جائیں اور یوں شہریوں کے پاس ان کے خلاف دادخواہی کا کوئی وسیلہ باقی نہ رہے۔

اس سلسلے میں پی سی او کے آرٹیکل 15 کا بالخصوص حوالہ دیا جاسکتا ہے جس کی شق (5) کے ذریعے بیگم نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قانونی اعتبار سے غیرموثر بنا دیا گیا۔ اس شق کے ذریعے یہ قانون نافذ ہوا کہ ’’عدالتی نظرثانی سے متعلق عدالتوں کے اختیارات کے بارے میں کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سمیت کوئی عدالت کسی مارشل لاء آرڈر یا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یا ماتحت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے جاری کردہ ریگولیشن یا اس شق کے تحت کیے جانے والے کسی اقدام یا ارادہ اقدام کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کرسکے گی۔ اسی شق کی ذیلی شق (d) کے ذریعے عدالتوں کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یا اس کی اتھارٹی کے تابع کام کرنے والے کسی شخص کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے سے منع کردیا گیا۔

پی سی او کے آرٹیکل 15 کی شق (6) کے ذریعے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ حکم صادر کیا گیا ہے کہ عدالت کی طرف سے پہلے ہی دیا گیا حکم، فیصلہ یا کارروائی کالعدم قرار پائے گی اور کسی اعتبار سے بھی موثر نہیں ہو گی۔ علاوہ ازیں اس سلسلے میں زیرسماعت ہر مقدمہ متروک تصور ہو گا۔ ان قانونی تحفظات سے بھی تسلی نہ ہوئی تو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے اس شق کے آخری حصے میں مزید یہ اعلان کیا کہ کوئی مارشل لاء اتھارٹی اور اس کی ہدایات کے تحت کام کرنے والی سول اتھارٹی، عدالت کے کسی حکم، فیصلے یا ہدایت کی تعمیل کی پابند نہیں ہو گی۔

پی سی او کا سب سے زیادہ قابل نفرت اور تکلیف دہ حصہ اس کا آرٹیکل 17 تھا جس کی رو سے یہ شرط عائد کی گئی کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کو صد ر(جو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر خود تھا) کی طرف سے مقررہ مدت کے اندر پی سی او کے تحت مقرر حلف اُٹھانا ہو گا اور اگر کسی جج کو نیا حلف نہ دلایا گیا یا اس نے خود یہ حلف نہ اُٹھایا تو وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائے گا۔ اس آرٹیکل کی شق (2) کی رو سے یہ حکم بھی دیا گیا کہ ہر وہ جج جو مقررہ حلف اُٹھائے گا، پی سی او کے احکام کا پابند ہو گا اور وہ مذکورہ احکامات میں سے کسی حکم کے قانونی جواز پر انگلی اٹھا سکے گا نہ اس بارے میں سوال اُٹھانے کی اجازت دے گا۔

پی سی او کا ایک براہ راست مقصد یہ تھا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور اس کے ماتحت کو قانون سے بالا مقام پر فائز کردیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے احکام وافعال کے خلاف خواہ وہ کتنے ہی غیرفطری، غیرمنصفانہ اور تحکمانہ کیوں نہ ہوں، دادخواہی کے لیے کوئی ایسا فورم یا عدالت موجود نہ رہی جس سے شہری رجوع کرسکتے۔ یہ اقدام نہ صرف دستور پاکستان میں شامل قانون کی حکمرانی کے مسلمہ اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر مبنی تھا بلکہ اس سے جنرل ضیاء الحق کے ان وعدوں کی بھی نفی ہو گئی جن کا انہوں نے عوام کے سامنے بار بار اعادہ کیا اور اس دعاکے ساتھ کیا کہ ’’میں اسلام کی تلوار ہوں‘‘ اور میں نے یہ عزم کررکھا ہے کہ ملک میں اسلامی قوانین اور اصولوں کو رواج دوں گا۔ اسلامی فقہ کا عالمی سطح پر ایک مسلمہ اصول ہے کہ حکمران اپنے احکامات وافعال کے بارے میں ملک کی عام عدالتوں کے روبرو جوابدہ ہو گا اور اسے ذاتی طور پر عدالتوں میں پیش ہونے سے مستثنیٰ تصور نہیں کیا جائے گا لیکن پی سی او کے ذریعے اسلامی قانون کے خیر وسلامتی پر مبنی اس اصول کو مسترد کردیا گیا۔

1981ء کے عبوری آئینی حکم (پی سی او) کو بغاوت دربغاوت کا نام دینا بے جا نہ ہو گا جس کا اصل مقصد پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کو نشانہ بنانا تھا۔ سابقہ فوجی حکمرانوں کے نہایت سخت اقدامات میں سے کسی ایک سے عدلیہ کی آزادی اور دائرہ اختیار کو اتنا نقصان نہیں پہنچا تھا جتنا مرحوم جرنیل کے صرف اس اقدام سے ہوا۔ انہوں نے بیک جنبش قلم سپریم کورٹ کے اس فیصلے ہی کو ملیامیٹ کردیا جس نے ان کی حکومت کو قانونی جواز عطا کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ذات کو ملکی قوانین اور عدالتوں سے بالاتر قرار دے دیا جبکہ افرادِ قوم کو اپنے بنیادی انسانی حقوق اور انتظامیہ کی زیادتیوں کے خلاف داد خواہی کے حق سے محروم کردیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے اپنی مرضی اور صوابدید سے ججوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کا متکبرانہ اختیار سنبھال کر عدلیہ کی آزادی کی جڑ کاٹ دی حالانکہ ججوں کی مدت ملازمت کے تحفظ کے لیے دستور پاکستان میں ٹھوس ضمانتیں فراہم کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس انوارالحق اس صورتحال سے سخت بددل ہوئے۔ عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا ضمیر اسے برداشت نہ کرسکا چنانچہ انہوں نے پی سی او کے آرٹیکل 17 کے تحت مقررہ نیا حلف نہ اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ یوں 25مارچ 1981ء سے وہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز نہ رہے اور آئین کے تحت اپنی ریٹائرمنٹ سے 14ماہ قبل اس سے سبکدوش ہو گئے۔ دو اور ججوں جناب جسٹس دراب پٹیل اور جناب جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ ان تینوں حضرات نے یکساں نوعیت کے مختصر خطوط کے ذریعے صدر کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا۔ چیف جسٹس کا خط نسبتاً زیادہ مختصر اور دو ٹوک تھا۔ انہوں نے لکھا:

ڈیئر مسٹر پریذیڈنٹ، پی سی او 1981ء کے احکامات پر غور کرنے کے بعد میں آپ کو مطلع کرنے کے لیے تحریر کررہا ہوں کہ اپنے ضمیر اور نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں بیان کردہ قانون کے مطابق میرے لیے اس کے آرٹیکل 17 کے تحت مقررہ حلف نامہ پر حلف اُٹھانا ممکن نہیں۔ آپ کا مخلص (دستخط: ایس انوارالحق)

لاہور ہائیکورٹ کے چار ججوں نے بھی نیا حلف اُٹھانے سے انکار کردیا اور انہیں اپنے عہدوں سے مستعفی تصور کرلیا گیا۔

پی سی او کے مطالعے سے مجھے شدید صدمہ پہنچا۔ مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ پی سی او ایک غیراخلاقی دستاویز ہے۔ فوجی صدر اور اس کے قانونی مشیروں کے خلاف میرے جذبات بہت شدید تھے۔ جذبات کی شدت اس وجہ سے اور بھی زیادہ تھی کہ ان مشیروں میں اے کے بروہی جیسے ممتاز عالم فاضل بھی شامل تھے جنہوں نے ایوب خان کی عدالتوں میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انسانی حقوق عطیہ خداوندی ہیں۔ شریف الدین پیرزادہ بھی ان کے مشیروں میں شامل تھے جنہوں نے نصرت بھٹو کیس میں جنرل کی جانب سے مقدمہ لڑا تھا۔ بہرحال میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے بلایا گیا تو میں نیا حلف اٹھا لوں گا۔ میری نظر میں پہلی مصلحت یہ تھی کہ ایوب خان اور یحییٰ خان کے مارشل لائوں کی طرح بالآخر اس مارشل لاء کی لمبی اندھیری رات بھی گزر ہی جائے گی اور دوسری یہ کہ سینئر رفقاء کے مقابلے میں جن کی مدت ملازمت دو سال سے کم رہ گئی تھی بنچ پر میری خدمات کے ابھی 14برس باقی تھے اور اپنے محدود اختیارات کو بھی میں فوجداری مقدمات میں ملوث ان ہزاروں سائلوں اور مظلوموں کے مفاد میں استعمال کرسکتا تھا جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت تھے، ایک پہلو سے میں مطمئن ہوں کہ یہ فیصلہ خوش آئندہ ثابت ہوا۔ 1993ء میں مجھے سپریم کورٹ میں نواز شریف کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کی صدارت کرنے اور معزول وزیراعظم کو اس کے عہدے پر بحال کرنے کا موقع میسر آیا ،جسے فوج کی پشت پناہی سے صدر نے برطرف کردیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے اکتوبر 1999ء میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے چند ماہ بعد پہلا پی سی او نافذ کیا۔ چیف جسٹس اور متعدد سینئر ججوں نے نیا حلف اُٹھانے سے انکار کردیا اور وہ عدالت کے پُرشکوہ ایوانوں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جنرل صاحب کا قانونی مشیر بھی شریف الدین پیرزادہ کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ یہ پی سی او بھی اپنے متن اور روح کے اعتبار سے اس پی سی او جیسا ہی تھا جس کا مسودہ شریف الدین پیرزادہ نے جنرل ضیاء الحق کے لیے تیار کیا، سوائے اس کے کہ اس میں مارشل لاء عدالتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ ملک میں مارشل لاء نہیں لگایا گیا تھا۔ اگرچہ تکنیکی لحاظ سے سارے ملک کو مسلح افواج کی حکمرانی میں دے دیا گیا تھا۔

عدالتی فعالیت نے ہمیں ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ یا تو ہم ان تصورات کو اُجاگر کر کے جو مصنوعی عبوری حکم سے مطابقت نہیں رکھتے، اسے عارضی طور پر درہم برہم کردیں یا ذہنی طور پر صورتحال سے مصالحت کرلیں اور اپنی فیصلہ سازی میں ناانصافی کی آمیزش، اپنی تجزیاتی حس کا کمزور ہو جانا اور اس شفاف آئینے کا دھندلا جانا خاموشی سے برداشت کرلیں جسے عدل نے تھام رکھا ہے اور جس میں سچائی صاف طور پر اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔ بہترین وقتوں میں بھی ’’عدل‘‘ کا تصور اپنی داخلی پیچیدگی سے مبرا نہیں ہوتا۔ نہ صرف معاشرے کے مختلف طبقات، مال وجائیداد کے مفادات اور عبادت گاہوں کا تحفظ کرنا پڑتا ہے بلکہ ان بے شمار عقلی واخلاقی اقدار کو بھی نگاہ میں رکھنا پڑتا ہے جن کے مسلسل زوال پذیر ہونے کا نوٹس نہیں لیا جاتا، اس لیے کہ ان کے زوال کے ساتھ ان کی قدروقیمت کا احسا س بھی زائل ہونے لگتا ہے اور یہ سب سے زیادہ خطرناک امر ہے۔

٭٭٭


ای پیپر