پاکستان کو کلائینٹ ریاست کس نے بنایا ،ناقابل فراموش واقعہ 
18 ستمبر 2020 (17:14) 2020-09-18

ڈاکٹر صفدر محمود 

 میں جب بھی اس تصویر کو دیکھتا ہوں تو سوچ کی گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہوں۔ پشیمانی اور اندیشوں کی کہانی تو طویل ہے لیکن کوشش کروں گا آپ سے مختصر الفاظ میں عروج وزوال کی اس کہانی کا پس منظر شیئر کروں۔ یہ کہانی ہے ایک آزاد ریاست کی جو کچھ عرصے بعد سکیورٹی اسٹیٹ بنی اور پھر کلائنٹ اسٹیٹ بن کر رہ گئی لیکن دیہائیوں پر پھیلے ہوئے اس عمل میں اپنی آزادی کا وقار کھو بیٹھی۔ یہ تصویر ہے قائداعظمؒ کی جو پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے امریکی سفیر سے تقرری کے کاغذات وصول کررہے ہیں۔ قائداعظمؒ قومی لباس زیب تن کیے  بالکل سیدھے یعنی استادہ کھڑے ہوئے ہیں اور امریکی سفیر کاغذات تقریری پیش کرتے ہوئے اتنا جھکا ہوا ہے کہ تقریباً رکوع کی حالت میں ہے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب پاکستان ایک آزاد اور باوقار ملک تھا اور نئی نئی آزادی کے نشے سے سرشار تھا۔ بیک وقت انگریزوں اور کانگریس کو شکست دے کر آزادی حاصل کرنے والی قوم کی حیثیت سے ہمیں عالمی رائے عامہ رشک کی نگاہوں سے دیکھتی تھی اور پاکستان کو عالم اسلام کا ’’گیٹ وے‘‘ اور لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ خزانہ خالی تھا، وسائل غیرموجود تھے اور مسائل کا طوفان پاکستان کے وجود پر دستک دے رہا تھا جو قوم اور قیادت کے عزم کو دیکھ کر واپس لوٹ جاتا تھا۔ تنقیص کرنے والے حضرات الزام لگاتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے امریکہ سے مالی امداد مانگی، یہ جھوٹ ہے۔ قرض مانگا تھا لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ یاد رکھئے پاکستان نے پچاس کی دہائی کے وسط تک کسی ملک سے کوئی مالی امداد نہیں لی، امریکہ کی طرف سے تھوڑی سی فوجی امداد ضرور ملی جو روس کے پھیلتے ہوئے خطرے کے پیش نظر امریکی پالیسی کا حصہ تھی۔ قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد روس نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو سرکاری دورے کی دعوت دی جو پاکستان نے قبول کرلی۔ تاریخ 13اگست تھی۔ یوم آزادی کے پیش نظر تاریخ میں تبدیلی چاہی گئی۔ اس کے بعد روسی حکومت پس وپیش میں مبتلا ہو گئی اور یاددہانی کے باوجود نئی تاریخ نہ دی۔ امریکہ کا دعوت نامہ آیا تو لیاقت علی خان امریکہ کے دورے پر گئے۔ ان کے ساتھ وزارت خارجہ کا ایک عیسائی افسر ایس ایم برک دورے کے دوران وابستہ رہا۔ وہ مجھے بتایا کرتے تھے کہ لیاقت علی خان کے استقبال کے لیے صدر امریکہ بمعہ کابینہ اور خاتون اول ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ نہایت گرم اور والہانہ استقبال ہوا۔ دورے کے دوران لیاقت علی خان نے نہایت جرأت اور باوقار انداز سے نہ صرف اپنا موقف پیش کیا، پاکستانی قوم کے احساسات کی نمائندگی کی بلکہ امریکی حکومت کے موقف کو مجروح کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ بھی زوردار انداز سے اُٹھایا۔ اس دورے سے متعلق برک صاحب کی ڈائری کے اوراق ایک رسالے میں چھپے بھی تھے۔ اکتوبر 1951ء میں لیاقت علی خان کے دور تک پاکستان ایک آزاد ملک تھا، باوقار ریاست تھی۔ ان کی شہادت کے بعد پاکستان کی سیاست پر بیوروکریسی چھا گئی۔ خواجہ ناظم الدین جیسے کمزور اور شریف النفس وزیراعظم کو گورنر جنرل غلام محمد نے پنجابی لابی کی مدد سے کھڈے لگا دیا۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان پر پُرزے نکالتے اور پائوں پھیلاتے غلام محمد کے گٹھ جوڑ کا طاقتور ستون بن گئے۔ خواجہ ناظم الدین کے دور میں گندم کا قحط پڑا تو امریکی امداد نے پاکستان میں نرم گوشہ پیدا کیا حتیٰ کہ 1953ء میں گورنر جنرل نے آرمی چیف اور اپنی سیاسی لابی کی مدد سے خواجہ ناظم الدین کو ڈسمس کردیا۔ خواجہ صاحب کو ڈسمس کرنے اور ان کی جگہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ گورنر جنرل کے امریکہ کے دورے کے دوران ہوا جس کی تفصیل میری کتاب ’’مسلم لیگ کا دور حکومت‘‘ میں موجود ہے۔ آرمی اور سول بیوروکریسی کے راج نے امریکہ کے اثرورسوخ کے دروازے کھول دیے، روس کے ہندوستان کی جانب جھکائونے اس عمل کو تیز کیا، مسئلہ کشمیر کی طوالت نے خطرات کو ہوا دی، ہندوستان کے معاندانہ رویے نے جلتی پر تیل کا کام کیا چنانچہ 1953-54ء کے دوران امریکہ پاکستان کے معاملات میں اس قدر دخیل ہوچکا تھا کہ جب غلام محمد نے اپنے اختیارات کم کرنے کے ردعمل کے طور پر دستور ساز اسمبلی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے لیے عدلیہ اور آرمی کی حمایت حاصل کرلی تو امریکی سفیر کو یہ یقین دہانی کرانی ضروری سمجھی گئی کہ اس سے امریکی مفادات پر زد نہیں پڑے گی۔ امریکی ریکارڈ کے مطابق یہ یقین دہانی سرمراتب علی کے بیٹے امجد علی کے ذریعے کروائی گئی جو امریکہ میں سفیر بھی رہے۔اس دوران پاکستان امریکی دفاعی معاہدوں اور سیٹو سنٹو کا رکن بن گیا جو بنیادی طور پر روس کے خلاف حصار تعمیر کرنے کے لیے تشکیل دیے گئے تھے۔ پاکستانی فوج کا دبائو تھا کہ ماڈرن اسلحہ ملے تاکہ ہندوستانی خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ان دفاعی معاہدوں کے بعد پاکستان کو ماڈرن اسلحہ ملنے لگ گیا اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت اس قدر بڑھ گئی کہ 1965ء میں ایوب خان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ مختصر کہ 1953-54ء میں پاکستان ایک آزاد ریاست سے سکیورٹی ریاست بن گیا جس کا سارا فوکس سکیورٹی پر تھا۔ سکندر مرزا غلام محمد کی جگہ گورنر جنرل بنا، پھر 1956ء کے دستور کے بعد صدر مملکت بن گیا۔ اس وقت تک امریکہ پاکستان کا فیصلہ سازی کا اہم ستون بن چکا تھا حتیٰ کہ سکندر مرزا کے بیٹے نے امریکی سفیر کی بیٹی سے شادی رچالی۔ اس طرح سسرالی اور خونی رشتے قائم ہوگئے۔ ایوب خان برسراقتدار آئے تو سب سے زیادہ خوش امریکہ تھا کیونکہ وہ امریکہ کے وفادار بلکہ پٹھو سمجھے جاتے تھے۔ ایوب خان کا بنیادی جمہوریت کا نظام جو ایوبی اقتدار کی ریڑھ کی ہڈی تھا امریکی دانشوروں اور مشیروں نے وضع کیا۔ ایوب خان نے امریکہ کی خوب خدمت کی حتیٰ کہ پشاور کے نزدیک بڈبیر کا ہوئی اڈا بھی روسی جاسوسی کے لیے امریکہ کے حوالے کردیا۔ واپڈا سے لے کر منگلا اور تربیلا ڈیم تک سبھی میں امریکی دانش شامل تھی۔ امریکہ کی غلامی قبول کرنے کے بعد پاکستان بین الاقوامی فورم پر اپنا وقار کھو بیٹھا اور ایک سکہ بند سکیورٹی ریاست بن گیا۔ یحییٰ خان لکیر کے فقیر تھے اور ویژن سے بالکل عاری … مشرقی پاکستان کا بحران گھمبیر ہوا تو بقول ہنری کسنجر ڈاکٹر مالک سے لے کر مشرقی پاکستان کی کابینہ تک امریکہ نے نامزد کیے۔ ہندوستان نے روس کی پاکستان سے نفرت اور دشمنی کا فائدہ اُٹھا کر اسے ساتھ ملایا اور حملہ کردیا۔ امریکی صدر نکسن یحییٰ کو پسند کرتا تھا اُس نے مدد کرنے کی تھوڑی سی کوشش کی اور ساتواں بحری بیڑا بھی بھیجا لیکن روسی جنگ کے  خوف سے مداخلت نہ کی۔ مشرقی پاکستان الگ ہو گیا اور مغربی پاکستان ہندوستانی یلغار سے محفوظ رہا۔ بھٹو ایک ذہین، شاطر اور سیاسی بصیرت والا لیڈر تھا اور خارجہ امور ،بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتا تھا۔ بھٹو نے اپنے تئیں امریکی شکنجے سے نکلنے اور پاکستان کو پھر سے آزاد ریاست بنانے کے لیے روس سے تعلقات استوار کیے، ہندوستان سے شملہ معاہدہ کیا، غیرملکی امداد پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی اور زرمبادلہ کمانے کے لیے پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوانے کی حوصلہ افزائی کی۔ اسلامی دُنیا سے مضبوط تعلقات قائم کیے اور عالم اسلام کے قائدین میں شمار ہونے لگا۔ چین سے قریبی تعلقات استوار کیے اور غیروابستہ ممالک کی تحریک میں متحرک ہو گیا۔

 ظاہر ہے کہ امریکہ کو یہ ادائیں پسند نہ تھیں اور نہ ہی امریکہ پاکستان کو غلامی سے رہائی دینا چاہتا تھا کیونکہ اسے احساس تھا کہ ایک دن پاکستان کو روس کے خلاف امریکی جنگ میں استعمال کرنا پڑے گا۔ بہرحال امریکہ کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہوا جب بھٹو نے چوری چھپے ایٹمی پروگرام شروع کردیا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو کھلم کھلا دھمکی دی تھی اور بھٹو نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل کہ پاکستان آزادی کی راہ پر گامزن ہو کر منزل کی طرف بڑھتا بھٹو کو اقتدار سے محروم کردیا گیا اور جنرل ضیاء الحق اقتدار پر قابض ہو گئے۔ تفصیل کو اختصار کے کوزے میں بند کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے صدر ضیاء الحق اور پاکستان کو خوب اچھی طرح روس کے خلاف استعمال کیا۔  افغان جہاد جہاں امریکہ کی اکلوتی اور واحد سپرپاور بننے کی خواہش کی تکمیل تھی، وہاں ہمارے جرنیلوں کے لیے روس سے 1971ء کا بدلہ چکانے کی بھی مسرورکن حکمت عملی تھی۔

پاکستان اب اسی وقت ایک آزاد ریاست ہو گی جب اس کی باگ ڈور بابصیرت اور جرأت مند ہاتھوں میں ہو گی اور جب پاکستان اندرونی طور پر متحد، معاشی طور پر مضبوط وخوشحال اور سائنسی وتعلیمی حوالے سے ترقی یافتہ ملک ہو گا۔ معاشی وسائنسی ترقی اور قابل اور ایماندار لیڈرشپ کے بغیر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔

دوستو! وہ تصویر میرے سامنے پڑی ہے اور میں اسے دیکھ کر سوچ کے سمندر میں ڈبکیاں کھانے لگتا ہوں۔ اے کاش! وہ دن میری زندگی میں ہی طلوع ہو کہ ہم آزاد اور باوقار قوم سمجھے جائیں۔ بقول شاعر:

کیسے دستار سنبھالیں کہ انہی ہاتھوں سے

ہم نے مضبوطی سے کشکول پکڑ رکھا ہے

٭٭٭


ای پیپر