file photo

زیادتی کیس میں پولیس دس دن بعد بھی عابد کو گرفتار نہ کرسکی
18 ستمبر 2020 (12:07) 2020-09-18

لاہور: موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری پولیس کےلیے چیلنج بن گئی اور دس دن گزرنے کے باوجود مرکزی ملزم عابد کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

عابد ملہی گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں بھی پولیس کو چکما دے کر فرار ہوگیا۔گزشتہ روز موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی سالی نے دعویٰ کیا تھا کہ آج شام چار بجے اس کا بہنوئی ملنے آیا تھا۔

مرکزی ملزم کی سالی کشور بی بی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ عابد آج 4 بجے کے قریب ملنے آیا تھا۔ عابد نے مجھ  سے پوچھا گھر میں یہ جو لوگ ہیں کون ہیں؟سالی کشور بی بی نے دعویٰ کیا کہ عابد نے مجھے پارک میں ملنے کا کہا۔ اس پر اپنے محلے دار کو اطلاع دی۔ اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس عابد کو پکڑنے آئی تو وہ فرار ہوگیا، پولیس بھی عابد کے پیچھے چلی گئی۔کشور بی بی کا کہنا تھا کہ عابد کا حلیہ خراب تھا، اس کے کپڑے پٹھے ہوئے تھے، جوتی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔کشور بی بی کا کہنا تھا کہ عابد سے ہماری کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔

عابد نے میری بہن کو 4 سال پہلے اغوا کیا اور زبردستی شادی کی۔ میری بہن کی پہلی شادی سے 4 بچے ہیں، 3 ہمارے پاس ہیں اور ایک بچی اس کے پاس ہے۔خیال رہے کہ پولیس نے عابد ملہی کے پانچ رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔سی ٹی ڈی، سی آئی اے اور قصور پولیس نے  قصور روڈ راؤخان والا میں مرکزی ملزم عابد کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا تھا۔ پولیس کے مطابق زیرحراست افراد میں عابد کے دو کزن، ایک خاتون اور دو عزیز شامل ہیں۔ دو روز قبل ان افراد کا عابد سے رابطہ ہوا تھا۔ زیر حراست افراد کو قصور سے لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں ان سے نامعلوم مقام پر مزید تفتیش کی جائے گی۔ 

پولیس کے مطابق ملزم کی بیوی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خاتون مرکزی ملزم کے ساتھ شیخوپورہ کے گاؤں قلعہ ستار شاہ سے فرار ہوگئی تھی۔ عابد کی بیوی بچوں کو لینے مانگا منڈی میں اپنے سسرال پہنچی۔ جہاں پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ملزم کی بیوی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ عابد کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں مجھے نہیں بتایا۔ عابد کی جب شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا۔


ای پیپر