عمران خان ایک تجربہ ہیں انہیں کامیاب ہونا چاہئے
18 ستمبر 2020 (11:33) 2020-09-18

چھوٹی چھوٹی خواہشوں سے لبریز ہمارے قائدین کے دل ملک و قوم کے لئے کیوں نہیں دھڑکتے وہ وقت کی آواز سننے سے کیوں محروم ہیں۔ دنیا جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ہمارا پیچھے رہ جانا لمحہ فکریہ ہے۔ سابق برسرِ اقتدار جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا گرتا ہوا گراف اسی بدولت تھا کہ ملک کے معاشی حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بد تر ہوتے گئے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان برے حالات کی ذمہ داری لینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے مٔوقف جاننے کی کوشش کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پانچ سالہ دورِ حکومت میں ملک ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے معاشی طور پر بہت مضبوط ہو گیا تھا، پیپلز پارٹی کے قائدین آئے روز نجی نیوز چینلز پر بیٹھ کر کہتے رہتے ہیں کہ ان کے دور میں جتنی ترقی ہوئی شائد ہی اس ملک میں اس سے قبل کبھی ہوئی ہو۔ اب گزشتہ 35 سالوں میں ملک میں جمہوریت کے نام پر جو لوٹ مار ہوئی ہے اسے سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ، ملکی و غیر ملکی قرضو ں کا فرق چیک کر لیں آج ہم کھربوں روپے کے ملکی و غیر ملکی قرضوں میں دھنس چکے ہیں جب کہ اس سے زیادہ رقم ہمارے ان نام نہاد سیاستدانوں کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں پڑی ہوئی ہے۔ شریف خاندان جب 1985ء میں برسرِ اقتدار آیا تو اس وقت ا س کا شمار پاکستان کے 100 بڑے خاندانوں میں بھی نہیں ہوتا تھا مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس قدر ترقی ہوئی کہ آج یہ پاکستان کا دوسرا یا تیسرا امیر ترین خاندان کہلاتا ہے یہی حال پیپلز پارٹی کا ہے۔ بس دونوں میں اتنا فرق ہے کہ امیری کی رینکنگ میں ایک دوسرے کے پیچھے رہتے ہیں۔ یعنی برسرِ اقتدار لوگوں نے بری حکومت قائم کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا۔

عوام اس سے بے زار ہو گئے تھے اور کسی نجات دہندہ کی تلاش میں تھے۔ یہ نجات ایک قطعاً غیر سیاسی اور کھیل کود کا شوقین نوجوان تھا جسے سیاست کا شوق ہوا اور وہ سیاست میں جب کھل کر سامنے آیا توآتا ہی چلا گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسے اپنے نئے پسندیدہ کھیل کا ایک بنا بنایا میدان مل گیا۔ یہ میدان اس کے حریف سیاست دانوں نے تیار کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاست دانوں سے نالاں 

اور بے زار عوام دوڑ کر اس نئے سیاست دان کے ساتھ مل گئے اورا یک انوکھے انداز میں اس ملک میں پہلی بار دیکھا گیا۔ اس طرح سیاسی نوخیز عمران خان یکا یک سیاسی عروج پر پہنچ گیا۔ انہوں نے سیاست تو برسوں سے شروع کر رکھی تھی لیکن اس کا غلغلہ اب شروع ہوا۔ اس سیاسی کامیابی میں جہاں ان کے مخالفین کا ہاتھ تھا اور حکومتی خرابیوں کا لامتناہی سلسلہ تھا وہاں ان کی شخصیت پر بھی بد عنوانی اور کرپشن کا پاکستانی روایتی داغ نہیں لگا تھا اور یہ بہت بڑی بات تھی ورنہ ہماری سیاسی دنیا میں ہر طرف داغ ہی داغ ہیں۔ ان میں اگر کوئی بے داغ ہے تو یہ انوکھی اور نادیدہ بات ہے۔ 2018ء کے انتخابات سے قبل ہی مسلم لیگ (ن) سجھتی تھی کہ یہ الیکشن جیسے بھی ہوں تحریکِ انصاف یا ان کے علاوہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آئے، حکومت کی جیسی بھی کارکردگی ہو انہوں نے سڑکوں پر رہنا ہے اور الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرنا اور ایسا ہی ہوا فرق صرف اتنا پڑا کہ بری طرح ہارنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام بھی اس کی ہم رکاب بن گئیں۔ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ٹیم، مولانا فضل الرحمان کی مدد سے ایسا ہی کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ یہ الیکشن دھاندلی سے جیتا گیا اورا س میں بھرپور ہاتھ اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔   

لیکن کیا کسی نے سوچا ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے وسائل لا محدود ہوں، جس کے موسم مثالی، جس کی زمین سونا اگلنے والی، جس کے زیرِ زمین ذخیروں میں سونا چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کے علاوہ گیس اور تیل کے ذخائر بھی موجود ہوں آج بین الاقوامی بھیک منگا بن چکا ہے۔ اگر ہماری معیشت تباہ ہوئی، ہماری زراعت کی کارکردگی پہلے کے مقابلے میں خراب ہو گئی ہے اور اگر بے روزگاری اور مہنگائی نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے تو کیا اس میں کوئی شبہ ہے کہ ہم غلطیاں کرتے رہے ہیں اور ہم صحیح راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ جو ریل دورِ غلامی میں آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی آج خسارے میں چل رہی ہے۔ پی آئی اے منافع بخش ادارہ تھا آج اربوں کا مقروض ہے، اسٹیل مل گھاٹے میں ہے، آخر یہ سب کیوں اور کیسے ہوا، یہ جاننے کے لئے ہمیںاپنی اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا اور ان کا اقرار کرنا ہو گا کیونکہ جب تک ہم ان کا اعتراف نہیں کرتے مسلسل ان کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اس کے لئے موجودہ حکومت کا احتساب کا عمل بہترین طریقہ ہے ہر ایک کو جواب دینا چاہئے کہ اس نے اپنے اپنے دورِ اقتدار میں ملک کو معمول کے راستے سے ہٹا کر غلط راہ پر ڈالا ایسے رہنما قومی مجرم ہیں۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ احتساب ہو یہ مطالبہ شائد نہ ہوتا اگر ملک میں خوشحالی ہوتی اور عوام امن و چین کی زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ بد قسمتی سے عوام وعدوں اور فاقوں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے ہیں۔ جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ حکمرانوں کی بیرونِ ملک رکھی منقولہ اور غیر منقولہ دولت ناجائز ذرائع سے لوٹی اور قومی دولت میں ٹانکہ لگا کر اکٹھی کی گئی ہے تو وہ ان سے انسپائر ہو کر چوری، ڈکیٹی، فراڈ کا راستہ اپناتے ہیں اور وہ جنہیں مذکورہ تین ذرائع رسکی معلوم ہوتے ہیں شریفانہ ملاوٹ، منافع خوری، دلالی اور رشوت خوری پر قناعت کر لیتے ہیں۔ عوام ہمیشہ اپنے حکمرانوں کا چلن اختیار کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت سابقہ حکمرانوں کے پیدا کئے گئے مسائل کو سلجھانے کی کوشش میں ہے لیکن ایسا کرنااسے بہت مہنگا پڑ رہا ہے، اب تو معیشت کی خرابی کا تمام تر ذمہ دار بھی موجودہ حکومت کو ہی کہا جا رہا ہے۔ ملک میں کسی اچھے کام کی تشہیر کرنا بھی حکومت کے لئے جان جوکھوں کا کام ثابت ہو رہا ہے۔ آج وزیرِ اعظم عمران خان کی لڑائی ایک مافیا سے ہے۔ اس وقت ضرورت ہے صرف تحمل اور صبر کی۔ عمران خان کو اس وقت دیگر مسائل کے ساتھ اپنے اتحادیوں کے مسائل کا بھی سامنا ہے جو اس کے وژن کے مطابق اسے کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادیوں کی مرحلہ بہ مرحلہ کچھ لو اور کچھ دو کی بازی بھی چل رہی ہے۔ عمران خان عوام کی آخری امید ہیں اور انہیں کچھ وقت دیا جانا چاہئے۔ کیونکہ عمراں خان ایک تجربہ ہے اسے کامیاب ہونا چاہئے۔ عمران خان نے اس قوم کے دل میں ایک نئی جوت جگائی ہے ہے، ولولہ تازہ پیدا کیا ہے۔ عمراں خان کی ناکامی صرف دنیائے سیاست کا ایک واقعہ نہیں ہو گا۔ اس کے اثرات بہت سنگین ہوں گے۔ کیونکہ طویل مدت کے بعد معاشرے نے ایک خواب دیکھا تھا۔ جمہوری نظام کے زیرِ سایہ ہماری نسل نے یہ آخری کوشش کی ہے۔ اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو مایوسی پھیلے گی۔ 


ای پیپر