کشمیری مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو خطرہ
18 ستمبر 2020 (11:18) 2020-09-18

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر کو جلد ازجلد ہندو علاقے میں تبدیل کرنے کے نریندر مودی کی فسطائی حکومت کے مذموم منصوبے کے تحت بھارت نے وادی  میںتقریباً 50 ہزار مندر قائم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔  بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مساجد ہندوؤں کے قدیم مذہبی مقامات پر تعمیر کی گئی تھیں۔ 

قیام پاکستان کے بعد جہاں بھارتی مسلمانوں کو اذیتوں کو نشانہ بنایا گیا وہاں مساجد کو بھی یا تو شہید کر دیا گیا یا پھر ان کی ہیت تبدیل کر دی گئی۔ بھارت میں سیکڑوں مساجد ایسی ہیں جن کو مندروں اور گوردواروں میں تبدیل کردیا گیا۔ بھارتی شہروں امرتسر اورہریانہ میں ایسی16تاریخی مساجد ہیں جن کو مسلم کمیونٹی کے احتجاج کے باوجود گوردواروں میں تبدیل کیا گیا۔ بھارتی شہرحیدر آباد کے سیکریٹریٹ کی عمارت کوگرائے جانے کے دوران دو تاریخی مساجد کو بھی شہید کردیا گیا۔ان دو مساجد جامع مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کی شہادت پوری امت مسلمہ کیلئے تکلیف کا باعث ہے۔بھارتی حکومت نے خستہ حال مندروں کی تعمیر نوکے نام پر کئی تاریخی مساجد اوردرگاہوںکی نشاندہی کی ہے جہاں یہ مندر قائم کیے جارہے ہیں۔ جیسا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی گٹھ جوڑ کا بدنام زمانہ طریقہ واردات رہا ہے۔اسلامی تنظیم آزادی جموں وکشمیرکے غیر قانونی طورپر نظر بند چیئرمین عبدالصمد انقلابی نے بانڈی پورہ سب جیل میں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ 

بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیرکا تنازع تو کئی سال تک بھارتی عدالتوں میں چلتا رہا ہے اور  رواں ماہ 5 تاریخ کو اس پر عمل درآمد بھی ہو گیا۔ مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر 175 منتخب افراد موجود تھے۔ جن میں ہندووں کے مختلف پنتھ (مسلک) کے بڑے پنڈتوں کے علاوہ ہندوقوم پرست جماعت اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ، گورنر آنندی بین، یوگا 

گرو بابا رام دیو اور آرٹ آف لیونگ کے بانی روی روی شنکر شامل تھے۔ مودی نے سربسجود ہوکر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

بھارت میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعہ نے ملک کی سیاست یکسر تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کا سیکولر کردار ختم ہوتا جارہا ہے اور بھارت ایک ہندو راشٹر کی جانب گامزن ہے۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ جسے اس نے پورا کردیا ہے۔ اب لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے ایک اور انتخابی وعدے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کے لیے پوری شدت سے کوشش شروع کردے گی۔ بھارت میں مسلمانوں کے بعض معاملات ان کے شرعی قوانین کے تحت حل کیے جاتے ہیں جسے مسلم پرسنل لا کہا جاتا ہے لیکن بی جے پی اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کل بھی مسجد تھی، آج بھی مسجد ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی مسجد رہے گی۔ مسجد میں مورتیاں رکھ دینے سے،پوجا پاٹ شروع کر دینے سے یا ایک طویل عرصے تک نماز پر روک لگا دینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔

کچھ عرصہ قبل بھارتی ریاست بہار میں شرپسند ہندوؤں نے علاقے کی مسجد پر اپنا بھگوا جھنڈا لہرایا اور مدرسہ ضیاء العلوم میں بھی توڑ پھوڑ کی اور آ گ لگا دی جس سے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ علاقے میں انٹر نیٹ سروس معطل اور دفعہ 144نافذ کردی گئی۔متاثرہ شہروں میں پویس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ بہار کے اورنگ آباد، بھاگلپور کے بعد اب سمستی پور ضلع میں کشیدگی کے بعد پولیس کے دستے کثیر تعداد میں تعینات کردیئے گئے۔ سمستی پور میں رسوڑا شہر کے گدری بازار میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران جھڑپ میں ایس ایس پی سنتوش کمار اور انسپکٹربی این مہتہ سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

دہلی سے 37 کلو میٹر دور واقع فرید آباد میں گاؤں اٹالی میں ایک مسجد کی تعمیر جاری تھی جس کو ہندؤں (جن میں اکثریت جاٹ برادری کی تھی) نے پہلے مسجد کو نذر آتش کیا بعد ازاں مسلمانوں کی رہائشی آباد پر حملہ آور ہوئے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اٹالی میں 5سال قبل مسجد اور مندر ایک ساتھ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر اراضی کے تنازع کے باعث مسجد کا تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا رواں ماہ عدالت نے مسجد کی تعمیر کی اجازات دی تھی، یوں 5 سال بعد مسجد کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسند رہنماء یوگی آدیتیہ ناتھ نے اترپردیش کا وزیراعلی بننے کے بعد مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا، گائے کے گوشت پر پابندی اور مسلمانوں پر سرعام تشدد کے بعد اب انہوں نے اسپیکر پر اذان دینے کی پابندی بھی عائد کردی۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے مساجد میں سرکلر بھیجا کہ مینار سے اسپیکر اتار لیے جائیں اور آئندہ اسپیکر پر اذان نہ دی جائے بصورت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔یوگی ادیتیہ نے یہ پابندی گزشتہ برس آلہ باد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے کی روشنی میں عائد کی جس میں تمام عوامی مقامات پر اسپیکر استعمال کرنے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’عوامی مقامات پر موجود تمام مذاہب کی عبادت گاہوں  کو پابند کیا جائے کہ وہ اسپیکر استعمال نہ کریں اور نہ ہی ان مقامات پر کسی سیاسی سرگرمی جلسے ، جلوس کی اجازت دی جائے کیونکہ اس سے عوام کو تکلیف کا سامنا ہوتا ہے‘۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے لیکن اس شہر کو آلودگی سے پاک کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مودی سرکار کی ایما پر ایک نیا نادرشاہی حکم جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت دہلی میں مساجد کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اذان کے وقت ان سے بلند ہونے والے ’’شور‘‘ کا محفوظ حدود سے کم یا زیادہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے اور اگر سرکاری حکام کو مسجدوں سے ’’اذان کا شور‘‘ زیادہ محسوس ہوا تو پھر دہلی کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتار لیے جائیں گے یا ان کی تعداد بہت کم کردی جائے گی۔


ای پیپر