”کرکٹ کا جنازہ ہے ۔۔“
18 ستمبر 2020 2020-09-18

مجھے جناب عمران خان بارے کبھی اچھی سیاست کرنے اور مثالی حکومت چلانے کی خوش فہمی نہیں رہی مگر میرا خیال تھا کہ اگر وہ ان دو امور کے ایکسپرٹ نہیں بھی ہیں تو دو،دوسرے ایسے شعبے ہیں جہاں ان کی مہارت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا،ان دو مہارتوں میں دوسرے نمبر پر ٹیم بنانا اور پہلے نمبر پر کرکٹ شامل ہیں، جی ہاں،میری یہ خوش گمانی صرف کرکٹ کی ٹیم کے حوالے سے نہیں تھی بلکہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال اورنمل یونیورسٹی کے حوالے سے بھی ایسی ٹیم بنائی جس نے ان اداروں کو کامیابی کی مثال بنا دیا۔ بہت ساروں کا اب خیال ہے کہ اصل مہارت اورکامیابی پروپیگنڈہ ہے جس میں اپنی مٹی کو بھی سونا بنا کے دکھا دیا جاتا ہے اور دوسروں کے سونے کو بھی اپنی باتوں کے جادو سے مٹی ثابت کردیا جاتاہے۔ جناب عمران خان کے ٹیم بنانے کی مہارت کا طلسم اس وقت ٹوٹا جب انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاق اور پنجاب میں وزارتیں تشکیل دیں، اس وقت ہم جتنے بھی بحران دیکھ رہے ہیں یہ کارکردگی خان صاحب کی اسی سیاسی ٹیم کی ہے ۔

میرا اصل موضوع کرکٹ ہے حالانکہ میں خود کرکٹ کاماہر نہیں ہوں مگر بہت سارے ماہرین سے گفتگو کے بعدمیں اپنے ملک کے سے سب مقبول کھیل کے ساتھ اسی قسم کی واردات کا ذکر کرنے لگا ہوں جس قسم کی واردات موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ ہوئی یعنی پیسے بھی گئے اور عزت بھی۔میںمنتظر تھا کہ کچھ پروفیشنل کرکٹرز اس پر بات کریں گے مگر ان میں سے کچھ کو ابھی تک نوکری کی امید ہے۔ مجھے جناب جاوید میاںداد کے جذباتی ویڈیو بیان سے بھی سہارا ملا تھا مگر ان کی جذباتیت اپنے بھانجے کو ملازمت ملنے تک برقرار رہ سکی جو اگلے روز ہی مل گئی لہذا اب ہم جیسے اناڑیوں کی گفتگو پر ہی گزارا کیجئے۔صورتحال یوں ہے کہ بانوے کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اس وقت ہمارے وزیراعظم ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ آسٹریلیا میںکرکٹ کا بہترین نظام ہے جبکہ ہمارے ہاں سسٹم خراب رہا ہے۔ماہرین کے مطابق آسٹریلیا میں ریجنل کرکٹ ہے جبکہ ہمارے ہاں ڈپیارٹمنٹل کرکٹ رہی ہے۔ میں سو فیصد اتفاق کرتا ہوںکہ ڈپیارٹمنٹس کی ٹیموں کے ساتھ آپ عوامی سطح پرجذباتی وابستگی پیدا نہیں کرسکتے جیسے پی آئی اے کی ٹیم کو پی آئی اے کے ملازمین ہی سپورٹ کریں گے اور حبیب بنک کی ٹیم کو اس بنک کے ملازمین ہی جبکہ لاہور، کراچی اور پشاور وغیرہ کی ٹیموں کے ان شہروں کے رہنے والے دیوانے ہوں گے۔میں ذاتی طور پر سمجھتاہوں کہ ریجنل کرکٹ کے اس تصور کی بھی پی ایس ایل کے ذریعے بہترین صورت میں واپسی ہو چکی ہے کہ لاہوری ہر سال لاہور قلندر کی شکست کا غم مناتے ہیں۔ جناب وزیراعظم نے ریجنل کرکٹ کا نظام دیتے ہوئے ڈپیارٹمنٹل کرکٹ کا سسٹم ہی ختم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں اس وقت ایک ہزار کے قریب کرکٹرز، کوچز اور آفیشئلز بے روزگار ہو گئے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ جناب عمران خان خود اسی ڈپیارٹمنٹل کرکٹ میں پی آئی اے کی ٹیم کی کپتانی کرتے اور بھاری تنخواہ لیتے رہے ہیں مگر جب ان کے ہاتھوں میں کلہاڑا آیا تو انہوں نے کرکٹروں کے روزگار کا درخت ہی کاٹ دیا ہے۔

کیا جناب عمران خان نے غور کیا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کی کرکٹ میں کیا فرق ہے ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی نہیں کہ دونوں جگہ بلے باز گیند کو ہٹ کر کے رنز بناتا ہے مگر یہ فرق کرکٹ سے باہر ہے جو کرکٹ پر بہت اثر ڈالتا ہے۔ پہلا فرق یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ ہے اور آسٹریلیا کی اڑھائی کروڑ یعنی نوواں،دسواں حصہ۔ وہاں آپ ٹیلنٹ کو اپنی محدود ٹیموں میں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی کرکٹ کا شوق اسی طرح ہے اور د س گنا زیادہ نوجوانوں کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے چھ ریجنل ٹیمیں انتہائی ناکافی ہیںاور گرتی ہوئی معیشت میں سپانسر شپ کا خواب عجیب وغریب۔ دوسرا فرق آسٹریلیا اور پاکستان کی فی کس آمدن کا ہے، پاکستان کی فی کس آمدن 1388 ڈلر ہے اور ہم دنیا میں اس آمدن کے ساتھ 151 ویں نمبر پر ہیں جبکہ آسٹریلیا والوں کی فی کس آمدن دنیا میں دسویں نمبر ہے جو 52952 ڈالر ہے۔ آپ کہیںگے کہ میں کہاں کی بات کہاں جوڑ رہا ہے تو اس کو سمجھئے کہ ہماری کرکٹ کو نوے فیصد سے بھی زائد سٹار کرکٹرز غریب گھروں نے دئیے ہیں جو لارڈز کے اس کھیل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ڈپیارٹمنٹل کرکٹ ہی تھی جس میں یہ ٹیلنٹ کہیں نہ کہیں ملازمت حاصل کر لیتا تھا اور کرکٹ کھیلتا رہتا تھا۔کیا یہ امر افسوسناک نہیں ہے کہ ہمارے بہت سارے ہونہار کرکٹروں نے خان صاحب کی مہربانی سے بے روزگار ہونے کے بعد کرکٹ چھوڑ دی ہے، ریڑھیاں لگا لی ہیں کیونکہ شوق سے زیادہ پیٹ اہم ہے جس کے اندر کھانا جانا ہے اور وہ کھانا پیسوں سے آتاہے۔

نواز شریف بھی اگرچہ کرکٹرتھے مگر انہیں عمرن خان کے مقابلے کا کھلاڑی نہیں سمجھا جا سکتا جیسے عمران خان بھی سیاستدان ہیں مگر انہیں نواز شریف کے مقابلے کا سیاستدان نہیں کہا جا سکتا۔ نواز شریف کے دور میں نجم سیٹھی کرکٹ بورڈ کے سربراہ تھے اور ان کا کرکٹ سے وہی تعلق تھا جو سابق وزرائے صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر کا میڈیکل پروفیشن سے مگر وہ وزرائے صحت تھے اور بہترین وزرائے صحت تھے۔ اب عمران خان صاحب کی پسند احسا ن مانی ہیں اور کرکٹ کا وہی حال ہے پنجاب میں یاسمین راشد نام کی ایک خاتون ڈاکٹر کے وزیر صحت بننے سے ہیلتھ پروفیشن کا ہے۔ جب جناب عمران خان وزیراعظم بنے تھے تو ہم ٹی ٹوئینٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر تھے اور اب چوتھے پر ہیں، ہم پانچویں پر ہوتے اگرانگلینڈ سے آخری میچ نہ جیتتے۔ اسی طرح بھرپور زوال کا شکار ہو کر ہم ون ڈے میں چھٹے اور ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں نمبرپرآ چکے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ایک میٹنگ میں جب جناب وزیراعظم کو کچھ صلاح دینے کی کوشش کی گئی تو وہ سخت برہم ہوئے اور بولے، اب کرکٹ پر مجھے بتایاجائے گا کہ کیا کرنا ہے اورکیا نہیں کرنا ہے اور یہی مائنڈ سیٹ ہمیں زوال کی طرف لے جا رہا ہے۔ ہماری کلب کرکٹ تباہ ہوچکی، ہمارے منٹو پارک کے کرکٹ کلب بحال نہ ہوئے، ہمارے بہت سارے گراونڈز ابھی تک ویران ہیں۔ ہم کرکٹ کے پہاڑ کی ڈھلوان پر کھڑے ہیں اور تیزی سے نیچے کی طرف لڑھک رہے ہیں حالانکہ جناب عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ کرکٹ ایسی سیٹ کریں گے کہ ۔۔۔

میں ایمان کی حد تک یقین لاتا جا رہا ہوں کہ سب سے بڑی کرپشن نااہلی اور بدانتظامی ہے جیسے اس برس پاکستان ریلوے کا خسارہ پچاس ارب سے بھی بڑھ گیا جو سابق دور میں ستائیس ارب روپوں تک نیچے چلا گیا تھا اور قوم اب یہ تئیس ارب روپے کس سے وصول کرے۔ ریلوے کا نام تو برسبیل تذکرہ لے لیا ورنہ ہر جگہ تباہی مچی ہوئی ہے۔ میں نے کہا، خان صاحب کا کمال تھا کہ وہ اچھی ٹیم منتخب کرتے تھے اور اب صورتحال یہ ہے کہ کرکٹ کمیٹی کے دو برسوں میں چار چئیرمین اپنے گھر جا چکے ہیں۔میں نے بطور جرنلسٹ اور اینکر پاکستان کے قومی کھیل کی زبوں حالی پر بہت سارے پروگرام کئے ہیں اور اب میں نے کرکٹ کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے ، خاکم بدہن، مجھے کرکٹ پر بھی ایک کے بعد بہت سارے اور پروگرام کرنے پڑیں گے، بہت سارے کالم لکھنے پڑیں گے۔ جب ہر طرف تباہی مچی ہوئی تو اینکر پروگرام کم کرتے ہیں اور صحافی کالم کم لکھتے ہیں، ہم تو پیشہ ور ماتم کرنے والے ہوجاتے ہیں، نوحہ گر ہوجاتے ہیں۔ آہ ! یہ ہمارے مقبول ترین کھیل کا جنازہ ہے ،ذر ا دھوم سے نکلنا چاہیے۔


ای پیپر