”دل مردہ وافسردہ “ 
18 ستمبر 2020 2020-09-18

آج سے کچھ عرصہ پہلے شاید دورِ مشرف سے بھی پہلے اپنے آپ سے ہم کلام اور بعض ننگ دھڑنگ آدمی جو امریکن اور یورپین یونین کے شہریوں کی شخصی آزادی کا منہ چڑاتے ہوئے بھرے بازار میں اور شہر کی معروف اور مصروف ترین سڑکوں پر یہ پروا کیے بغیر کہ آگے سکول وکالج ہیں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا منہ چڑاتے ہوئے ”ہیومن رائٹس“ کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن لگتا ایسے ہے کہ خدا کا شکر ہے، اسلامی مملکت جمہوریہ پاکستان میں ”روشن خیال“ بندے غائب ہوگئے ہیں۔ وہ مخبوط الحواس آدمی کون ہوتے تھے؟ شاید وہ بے روزگاری، تنگ دستی غربت وافلاس کے مارے وہ لوگ جو اپنے معصوم وبے قصور بچوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں، اور اس سے پہلے تو یقیناً وہ محکمہ سیٹلمنٹ کے ستائے ہوئے جو وطن عزیز بننے سے پہلے بھارت میں یا تو نواب اور جاگیردار ہوتے تھے، یا پھر خاصے متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے، لیکن پاکستان آنے کے بعد محکمے کو رشوت نہ دینے کے باعث وہ اپنے گھربار سے محروم کردیئے گئے تھے، اور دربدر ہونے کے بعد پاگل یا پاگل جیسی حرکتیں کرنے لگے۔ 

پھر تاریخ نے کروٹ لی ، اور روشن خیال دور میں ننگا پن عورتوں میں آگیا ہے، اور سوات سے لے کر فاٹا تک ڈرون حملوں کے نتیجے میں دربدر ہونے کے بعد ان مکینوں کا حال بھی فائرالعقل جیسے انسانوں، اورمحب وطن پاکستانیوں کا حال تشویش ناک ہوگیا۔ جنہیں کچھ سمجھ نہیں آتی تھی، کہ ان امریکن ڈرون حملوں کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اور کتنی مدت تک یہ ظلم سہنا پڑے گا، کیونکہ پاکستانیوں پر ان ڈرون حملوں کے اجازت بھی ہمارے حکمرانوں نے دی تھی، کیونکہ ڈرون حملوں میں استعمال ہونے والا جہاز ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے، جو انتہائی مہنگا جاسوسی کے آلات اور کیمروں سے لیس ہوتا ہے، اس میں سلنسرز کا بھی بندوبست ہوتا ہے، کہ ہمارے ملک کے حساس حصوں اور اداروں کی نقل وحرکت اور خطرناک جگہوں کی جاسوسی بھی ہوسکتی ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق امریکی عیاری نے ان حملوں کا الزام طالبان پہ لگانا شروع کردیا کہ وہ سکولوں کو نشانہ بنارہے ہیں، اگر اس بات میں صداقت بھی تھی، تو بھی امریکہ ان میں بڑی دوراندیشی سے ملوث تھا۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ ان دہشت گردوں کو سامان رسد کہاں سے ملتا ہے، کیونکہ دنیا کی بہترین فوج بھی رسد کے بغیر دھیلے کی بھی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ پینسٹھ کی جنگ میں اور اکہترکی جنگ میں خصوصاً 65کی جنگ میں بھارت اور پاکستان کے لیڈر سترہ دن کی جنگ کے بعد روس پہنچنے پہ مجبور ہوگئے تھے، پاکستان میں خصوصاً بلوچستان میں اسلحہ اور دوسرا سامان حرب ورسد را کے ایجنٹ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ اور بھارت سے مسلسل وصول کررہے ہیں۔ 

گزشتہ کئی دیہائیوں سے افغانستان تو پورے کا پورا سوائے کابل کے محل کے طالبان کا ہے۔ لیکن اس پہ بھی تو غورکرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے حکمران اس دانش سے بھی عاری تھے، دہشت گردی کی آڑ میں امریکہ اگر کہوٹہ یا اسلام آباد کی کسی حساس جگہ پر ایسی حرکت کرڈالے، تو پھر ہمارے رہنماﺅں اور ذمہ داران حکومت کا کیا حال ہوتا، اور ان کی پاس کیا جواب ہوتا، ڈرون حملوں میں ٹھیک ٹھاک نشانے تب لگتے تھے جب انہیں نیچے سے میرجعفر (CHIP)مہیا کرتے ہیں، لیکن ڈرون حملوں کی اجازت دینے والے مشرف نے امریکی نائب صدر کو اس احسان بے بدل کے عوض ”رچڑبونتر“ ہلال قائداعظم جیسا اعزاز ”اینٹھنے “ کے باوجود یہ بیان دیتے تھے، کہ ڈرون حملے حکومت امریکہ کی پالیسی کے مطابق جاری رہیں گے اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق طے شدہ معاہدے کے مطابق زبردست احتجاج بھی جاری رکھیں گے، اور یہ بات بھی پاکستانیوں کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ اور بقول ہمارے اس وقت کے وزیر دفاع کے مطابق اور وزیراعظم کے ہم جاسوس طیارے ان کی اُونچی اڑان کے باعث گرانہیں سکتے۔ جبکہ ہمارے ایئرچیف کہتے تھے، کہ اگر ہمیں اجازت دے دی جائے تو ہم منٹوں میں اور لمحوں میں ہم ڈرون تو ڈرون حملہ آور طیاروں کو بھی گراسکتے ہیں، سابقہ حکمران پاکستانی بندے برآمد کرکے پیسے کماتی تھی، اور کوئی حکومت پاکستانی مرواکرپیسے کمالیتی تھی ۔

لیکن بائیس کروڑ عوام اس مخمصے کا شکار ہوگئے تھے کہ نجانے سچا کون تھا، اور جھوٹا کون ہے؟ 

جس طرح آج کل لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ آئی جی، سچے ہیں یا، سی سی اوپی ، بہرحال ان دونوں بلکہ تینوں سابق آئی جی شعیب دستگیر کے بیانات سے درگزر کرتے اور اجتناب کرتے ہوئے، مفعولہ پاکستان کی بچی، بالکل سچی ہے، کیا کسی کے پاس خصوصاً ریاست مدینہ کے دعوے کے پاس اس جرم کا کوئی مداوا ہے؟ کیا اس اندوہناک سانحے کا کوئی داروں تریاق ہے، کیا اس دلخراش واقعے کی کوئی مرہم ہے؟ کیا اس دلگیر جسارت کی کوئی توجیع ہے کیا اس ظلم بالجبر کا کوئی جواب ہے، یقیناً، دنیا جہان کی دولت بھی اس کا نہ تو علاج ہے، اور نہ انصاف، بقول حضرت اقبالؒ

محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نوید

آزاد کا دل زندہ وپرسوز وطرب ناک


ای پیپر