ایک دھرنا وہ تھا ایک یہ ہو گا
18 ستمبر 2019 2019-09-18

قومی فضائوں پر ان دنوں ایک مرتبہ پھر دھرنے کاچرچا ہے… مولانا فضل الرحمن اس کے ذریعے دارالحکومت اسلام آباد کا گھیرائو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں… اس سے قبل وہ بڑا مارچ کریں گے جو دھرنے پر منتج ہو گا … دھرنے کا نتیجہ کیا ہو گا بعد کی باتیں ہیںابھی مولانا کی پوری کوشش ہے مسلم لیگ ن ان کا ساتھ دے… اس جماعت کے قائد اور جیل میں بند 3 مرتبہ منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم نوازشریف مولانا کو اپنی جماعت کا کندھا پیش کرنا چاہتے ہیں… ان کی جماعت کے کچھ رہنماؤں کو اصولی اتفاق کے ساتھ مولانا کے دھرنے کی عملیات کے بارے میں کچھ تحفظات ہیںجنہیں دونوں جماعتوں کے قائدین مل کر دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں… اگر اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ ماہ اکتوبر یا زیادہ سے زیادہ نومبر میں اسلام آباد کی جانب بڑا عوامی مارچ ہو گا … جس کے شرکاء اپنے مطالبات کے حصول تک دھرنا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں… 5 سال قبل اسی طرح کا ایک مارچ اور دھرنا موجودہ وزیراعظم عمران خان نے خطابت کی دنیا میں نام پیدا کرنے والے طاہرالقادری صاحب (جو اب سیاست سے ریٹائر ہو چکے ہیں) کے ساتھ مل کر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف منعقد کیا تھا … تب بھی دارالحکومت کا گھیرائو کر کے حکومت پر سخت دبائو ڈالا گیا تھا وہ مستعفی ہو جائے… اب بھی بھرپور کوشش کی جائے گی کہ عمران خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے… عمران خان جمع طاہرالقادری کے مارچ اور دھرنے کا ہدف 2013ء کے انتخابات میں ان کے نزدیک زبردست دھاندلیوں کی بنا پر وجود میں آنے والی حکومت کا خاتمہ تھا … پانچ سال بعد مولانا فضل الرحمن بھی اسی طرح کا علم لے کر سامنے آ رہے ہیں… 2018ء کے انتخابات جو ان کے اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے نزدیک دھاندلی زدہ تھے لہٰذا ان کی کوکھ سے جنم لینے والی عمران حکومت کو برسراقتدار رہنے کا کوئی حق نہیں… طاہرالقادری اور عمرانی برانڈ کے دھرنے کا آغاز اگست 2014ء میں لاہور سے ہوا تھا ۔ اعلان کیا گیا اس میں کم از کم 10 لاکھ افراد شریک ہوں گے… اور یہ دو دن کے اندر اسلام آباد پہنچتے ہی ایسی تھرتھلی مچا دے گا کہ حکومت جاتی نظر نہ آئے گی… اگرچہ فوری طور پر ایسا نہ ہوا اور دونوں جماعتوں کا دھرنا کئی ہفتے جاری رہا… شرکاء کی تعداد بھی قائدین کے اعلانات کے برعکس بہت کم تھی… لاہور تا اسلام آباد مارچ میں 10 لاکھ کیا ایک لاکھ سے بھی بہت کم شرکاء شامل ہوئے… دھرنے کے عروج کے دنوں میں ڈی چوک پر دن رات براجمان رہنے والے شرکاء کی تعداد بھی 20، 25 ہزار سے زائد نہ ہوتی تھی… مگر اس کا چرچا اور غلغلہ بہت تھا … تمام کے تمام ٹیلی ویژن چینل یہاں پر ہونے والی تقریروں اور دوسری پرجوش کارروائیوں کو اس طریقے کے ساتھ براہ راست نشر کرتے کہ معلوم ہوتا تھا اسلام آباد نہیں پورے ملک کی ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک فضائیں نواز حکومت کے خلاف پُرجوش تقریروں اور فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہیں… اس مارچ کے آغاز پر لاہور میں ایک ایسا المناک واقعہ بھی ہوا جس میں پولیس کی گولیوں سے 14 کے قریب طاہرالقادری کی جماعت کے کارکن لقمہ اجل بن گئے… آج تک معلوم نہیں ہوسکا محرک کیا تھااور حکم دینے والا کون تھا … مولانا فض الرحمن آئندہ ماہ اکتوبر میں جو مارچ اور دھرنا برپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے بارے میں موصوف کا دعویٰ ہے شرکاء کی تعداد 15 لاکھ سے کم نہ ہو گی اور دھرنا ایسا زبردست ہوگا کہ وفاقی دارالحکومت کے زمین و آسمان کو ہلا کر رکھ دے گا … خواہ اصل حاکموں کی تھپکی نہ بھی حاصل ہو اور میڈیا آج کی پابندیوں کی وجہ سے ساتھ دے یا نہ دے… خدا کرے اس کے آغاز پر یا دھرنے کے دوران کوئی المناک واقعہ پیش نہ آ جائے اور سب کچھ پُرامن طریقے سے جاری رہے… البتہ کچھ حساس سیاسی عناصر اور باخبر لوگ اس خدشے کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیںکہ معاملات اگر قابو میںنہ رہے تو کسی جانب سے بڑی کارروائی کی خبر آ سکتی ہے جو بہت کچھ اتھل پتھل کر رکھ دے گی…

مولانا فضل الرحمن کا البتہ کہنا ہے کہ ہم نے پیشگی بندوبست کر رکھا ہے کہ سکیورٹی فول پروف ہو ، کوئی انہونی جنم نہ لے،کسی پوشیدہ طاقت کو من مانی کرنے کا موقع نہ ملے کیونکہ ہم محض عمرانی حکومت کے استعفے پر اکتفا نہیں کریں گے … ہمارا اصل ہدف اس کے جانے کے فوری بعد آئین کے تحت آزادانہ او رشفاف یا غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ہے لہٰذا ایسا خلا نہیں پیدا ہونے دیں گے جسے کسی تیسری طاقت کو پورا کرنے کا بہانہ ملے… اگرچہ کچھ جہاندیدہ عناصر کا کہنا ہے یار لوگوں کو بھی اپنے کام کا بڑا تجربہ حاصل ہے… وہ اگر چاہیں تو کسی بھی حکومت کے مخالف سیاستدانوں کی پکائی ہوئی دیگ پر اپنا مصالحہ چھڑک کر اسے اچک کر لے جانے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں … ایک رائے یہ بھی ہے مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اور نوازشریف کی مسلم لیگ مل کر اتنا دبائو ڈال سکتی ہیں کہ ایوان کے اندر تبدیلی کی راہ ہموار ہو جائے لیکن یہ بھی اس قدر آسان نہ ہو گا … ابھی ڈیڑھ دو مہینے کی بات ہے اپوزیشن کی جماعتوں نے مل کر اپنی واضح اور قطعی اکثریت کے بل بوتے پر سینیٹ کے چیئرمین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی مگر آدھ گھنٹے کے اندر دوسری جانب سے اس کمال کا مظاہرہ کیا گیا اور ہاتھ کی ایسی صفائی دکھائی گئی کہ ہر ایک کو نظر آنے والی واضح اور قطعی اکثریت بیلٹ بکس پر پہنچتے پہنچتے اقلیت میں تبدیل ہو گئی… تاہم یہ امر طے ہے اگلے ماہ منعقد ہونے والا دھرنا اگر بھرپور طریقے سے کامیاب ہو گیا تو موجودہ حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا … عمران حکومت کو درپیش اصل مسئلہ 2018ء کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی نہیں اس کی پہلے سال کی انتہا درجے کی ناقص کارکردگی ہے جس سے جنم لینے والی مایوسی نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… اقتصادیات کاپہیہ آگے کی جانب حرکت کرنے کا نام نہیں لے رہا… قرضوں کے ناقابل بیان بوجھ کی وجہ سے حکومت نہیں پوری کی پوری قوم اور ملک کمرخمیدہ نظر آتے ہیں… مہنگائی کا عذاب عام آدمی نہیں کھاتے پیتے گھرانوں پر بھی تازیانے برسا رہا ہے… خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی حکومت کو پرلے درجے کی ناکامی کا سامنا ہے… مودی کے بھارت نے ڈکار لیے بغیر مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو آئینی طو رپر اپنے اندر ہضم کر لیا ہے… اپنے تئیں اس کی متنازع حیثیت ختم کر دی ہے جبکہ پوری دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کر لی ہے… پاکستان کی جانب سے صدائے احتجاج بلند کرنے پر صرف اتنا ہوا ہے کہ بھارتی حکومت سے نرم لفظوں میں کہا جا رہا ہے کہ کرفیو کی پابندیاں نرم کر دواور وہاں پر بنیادی انسانی حقوق کا کچھ احترام کرسکتے ہو تو ضرور کرو… مودی اس مذموم کام کو اپنی قوم کے سامنے اس کی تاریخ کے سب سے بڑے کارنامے کے طور پر پیش کر کے رات کو آرام کی نیند سوتا ہے… کوئی ا سے پوچھنے والا نہیںبھارت کے اندر نہ باہر… اپنی فوجی طاقت اور اقتصادی لحاظ سے ملک کی مضبوط پوزیشن پر ہندوتوا کے متعصب نظریے کے اس پیروکار کو بڑا ناز ہے… پاکستان کی خارجہ پالیسی اس کا کچھ بگاڑ پا نہیں رہی… اس عالم میں اسلام آباد کے اندر ملک کی ایک سب سے بڑی مذہبی جماعت جس کے پیچھے مدارس کی طاقت ہے یعنی مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام اور حزب اختلاف کی طاقت ور ترین سیاسی پارٹی جس کا ووٹ بینک آج بھی پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہے یعنی نوازشریف کی مسلم لیگ دونوں اکٹھی ہو کر چیلنج کھڑا کریں گی تو حکومت چاہے قائم رہے یا نہ رہے اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہو گی…

عمران خان نے طاہرالقادری کے ساتھ مل کر جو دھرنا برپا کیا تھا اس کے پیچھے انہیں مقتدر قوتوں کی تائید حاصل تھی جس کی بنا پر وہ شرکاء کی تعداد کم ہونے کے باوجود دارالحکومت کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دینے کے قابل ہوئے تھے… اگرچہ مقابلے میں منتخب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی جاری رہا جس میں ملک بھر کی پارلیمانی جماعتوں نے آئینی و جمہوری قدروں اور عمل کو آنچ نہ آنے دینے کا عہد کئے رکھا… لیکن پاکستانی اقتدار کے دوسرے اور غیرآئینی مراکزکے مقابل پارلیمان کی طاقت ہمیشہ ماند پڑتی نظر آئی ہے… چنانچہ اس دھرنے نے پشاور کے آرمی پبلک سکول کے احاطہ میں دہشت گردی کے خوفناک ترین اور مہلک واقعہ کی وجہ سے ختم ہو جانے کے باوجود اپنے اثرات جاری رکھے اور بالآخر اس کی روح پانامہ سکینڈل کی شکل میں عود کر آئی … خوب شور مچا،مقصد براری اس سے بھی نہ کی جا سکی تو اقامہ کا سہارا لے کر تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو ایوان اقتدار سے اٹھا باہر پھینک دیا گیا… اب جو مولانا فضل الرحمن اور امکاناً نوازشریف کی جماعتیں عمران خان کو باور کرانے پر اتری ہوئی ہیں کہ تم نے جو بیج بویا تھا اس کی فصل کاٹو… اگرچہ ان کے پیچھے نادیدہ قوتوں کی طاقت اپنی کارفرمائی دکھاتی نظر نہیں آ رہی… اس لئے یہ دھرنا شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے مقابلتاً بڑا ہونے کے باوجود شاید پانچ سال پہلے والی گھن گرج پیدا نہ کر سکے تب کے مقابلے میں آج میڈیا پر سخت پابندیاں ہیں… کچھ حکومت کی جانب سے اور کچھ نامعلوم لوگوں کی عائد کردہ… اسے وہ پبلسٹی شاید نہ ملے جو عمرانی یا طاہرالقادری کے دھرنے کے نصیب میں تھی… مگر حیرت کی بات ہے ایوان ہائے حکومت میں اس کا خوف بہت محسوس کیا جا رہا ہے… نوازشریف کی ضمانت کا مقدمہ اعلیٰ عدالت میں زیربحث ہے… ان کی رہائی کا امکان پایا جاتا ہے… ڈیل کی کوششیں تیزتر کر دی گئی ہیں… حکومت کے علاوہ بڑے حاکموں کی بھی خواہش ہے کہ میاں صاحب کو اگر ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے تو بوریا بستر سمیٹیں اور ملک سے باہر چلے جائیں… ایسی صورت میں اپوزیشن کے احتجاج میں وہ توانائی نہ رہے گی جس سے مولانا فضل الرحمن بہت امیدیںلگائے بیٹھے ہیں… لیکن ابھی تک کی خبروں کے مطابق نوازشریف اس طرح کی پیشکش کو مسترد کر چکے ہیں… ایسی صورت میں اگر دھرنا ہوتا ہے خواہ سابق وزیراعظم کو جیل میں ہی رکھا جائے ان کی عوامی طاقت بولے گی اور میڈیا میں تمام تر پابندیوں کے باوجود آواز بھی سنی جائے گی… اس کی کوکھ سے جنم لینے والے چیلنج سے نمٹنا آسان نہیں ہو گا … پیپلز پارٹی پارلیمانی قوت کے لحاظ سے اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت ہے… اس کے بلاول بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ دھرنے میں شریک نہ ہوں گے مگر اسی دوران ملک کے طول و عرض میں اپنے مظاہرے جاری رکھیں گے… زرداری صاحب اور ان کی ہمشیرہ حوالات میں بند ہیں… اس وقت جب کہ یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں خبر آئی ہے سابق قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے اہم تر رہنما سید خورشید شاہ بھی نیب کے جانے پہچانے ہتھیار آمدنی سے زائد اثاثوں کے مالک ہونے کی پاداش میں دھر لئے گئے ہیں…امکان غالب ہے اگلے چند روز کے اندر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بھی ان کے پیچھے جیل کی کوٹھری میں بھیج دیا جائے گا … ایسی صورت میں پیپلز پارٹی دھرنوں میں شریک نہ بھی ہوئی تو اس کے احتجاج میں پہلے سے زیادہ شدت پیدا ہو جائے گی… گویا آنے والے دنوں میں صرف لاہور یا اسلام آباد نہیں پورے ملک کا سیاسی ماحول اس حد تک گرم ہو جائے گا کہ اس کی حدت دور دور تک محسوس ہو گی…مگر کیا حکومت پگھل جائے گی جس کی مولانا فضل الرحمن اور نوازشریف توقع لگائے بیٹھے ہیںیا اسے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے والی قوتیں اپنے دست شفقت کی وجہ سے بچا کر لے جائیں گی جیسا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو امید ہے…اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو گا ۔


ای پیپر