سرخیاں ان کی…؟
18 ستمبر 2019 2019-09-18

٭ صدارتی ریفرنس اور بنچ …؟

O اگرچہ سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والا بنچ بظاہر وکیل کے نقطۂ اعتراض کے بعد تحلیل ہو گیا ہے۔ نئے بنچ کے لیے کیس چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کو بھیجوا دیا گیا ہے۔ اس میں کس کے کیا مفادات تھے… کون سا جج متعصب تھا۔ جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے ان کی سوچ کیا تھی وغیرہ وغیرہ ایسی افواہیں تھیں جو اردگرد سنی گئیں اور سپریم کورٹ کے وقار اور ساکھ کو سامنے رکھے بغیر کہی گئیں۔ بہرحال، یہ بھی یاد رہے کہ جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت، آئین و قانون کی حکمرانی کو نقصان پہچانے کی کوشش ہو گی تو مزاحمت کریں گے جبکہ وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پے عائد شرائط کے متعلق بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں بلکہ ملک میں جاری احتسابی عمل کو بھی سیاسی انجینئرنگ قرار دے چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر عدالتی سال کی افتتاحی تقریب میں عدالتی چھکا مار دیا گیا ہے تو بقیہ بیٹنگ کس قدر جاندار ہو گی؟ اندازہ نکل نکل آیا ہے۔ اہل علاقہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایسی اننگز ہو گی کہ قوم ’’پانامہ‘‘ کو بھول جائے گی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت حالات کے تیور دیکھتے ہوئے کمبل سے منہ باہر نکالے اور از سر نو اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے؟ فی الفور احتسابی عمل سے اٹھنے والے انتقام کے تاثر کو پھیلنے سے روکے اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر ایسے افراد جہاں کہیں ہیں اور جنہوں نے قومی وسائل کی شرمناک لوٹ مار کی ہے۔ انہیں خود گرفتار کروائے تا کہ احتساب سے انتقام محسوس نہ ہو۔ ورنہ عدلیہ پھر بیدار ہو گی اور معاف بھی نہیں کرے گی۔ انصاف کی جنگ پھر ناگزیر ہو گئی ہے؟

٭ آزادی مارچ میں تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں گی: مولانا فضل الرحمن

O ویسے آپس کی بات ہے، ہمیں مولانا فضل الرحمن کے حوصلے اور ہمت کی تعریف ضرور کرنی چاہیے کہ بے شک سانس اُکھڑ رہا ہو، شدید حبس ہو، جسم و جاں ہی نہیں روح بھی پسینے سے شرابور ہو۔ مگر وہ اسلام کے سپاہی بنکر، اسلام آباد کی حفاظت کرتے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان پر ہمیشہ رحمتوں کی بارش کرے تا کہ وہ خوش و خرم رہیں اور ہنسی خوشی اسی طرح کام بنتا ہو، نہ بنتا ہو۔ وہ پاؤں ضرور اڑاتے رہیں؟ لہٰذا معترض افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے جو بار بار ان کے ہارنے کے متعلق بے ادب ہوتے ہیں حالانہ ہارنے کا کیا ہے۔ وہ تو شیر کے پاؤں بھی بسا اوقات میدان سے اکھڑ جاتے ہیں۔ البتہ دونوں ہاتھ جوڑ کر یہ اپیل ضرور ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کنٹرول لائن کے اگلے مورچوں پر جوانوں اور افسران کے حوصلے بڑھا رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے نہتے، معصوم اور قیدی مسلمانوں کو اہالیان پاکستان کی طرف سے ہر لمحہ ساتھ رہنے اور ہر قربانی دینے کا یقین دلا رہے ہیں۔ ہمارے بزرگ رہنما جناب مولانا فضل الرحمن کا بھی قومی فرض ہے کہ وہ افراد کی باتوں میں نہ آئیں۔ جو ہر طرح فتنے جگاتے اور آگ پانی میں بھی لگا دیتے ہیں۔ لہٰذا انہیں چپ سادھ کر اس مسئلے پر سوچنا چاہیے اور اس وقت تک اپنے پاؤں خود باہر نہیں نکالنے چاہیے جب تک انہیں پاؤں باہر نکالنے کا حکم نہ دیا جائے؟

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

٭ آئی ایم ایف سے طے شدہ ٹیکس…؟

O حدیث زلف دراز، سچ لکھ نہیں سکتا، جھوٹ بول نہیں سکتا لہٰذا جیسے کوئی دیوانہ اپنی رات کروٹیں لے لے کے کاٹتا ہے۔ ایسے ہی کچھ اپنی حالت ہے۔ بہرحال کالم نگاری کا مجھ جیسے کالم نگار جس نے کبھی سرکاری چائے کی چسکی بھی نہیں لی اور اپنے قلم کی حرمت پے آنچ نہیں آنے دی ، کو یہ فائدہ ضرور حاصل ہوا ہے کہ ہر روز صاحب علم، صاحب الرائے اور سوچنے والوں کی طرف سے ’’دعوت‘‘ ضرور ملتی ہے۔ گزشتہ شام دانا بینا افراد کی محفل جاری تھی۔ ایک کالم نگار دوست نے پوچھا کہ ایف بی آر، IMF کی ریونیو شرائط پوری کرے گا۔ عرض کیا، ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ اگر پہلی سہ ماہی میں 1072 ارب کی بجائے صرف 73 دنوں میں 650 ارب اکٹھے کر لیتے ہیں تو باقی ماندہ تقریباً 20 دنوں میں مزید 422 ارب روپے بھی اکٹھے کر سکتے ہیں اگرچہ مشکل ہے۔ تاہم ہمیں نہیں ویسے بھی یہ کونسی بڑی بات ہے کیونکہ اگر ایک مخلص اور ایماندار، متحرک وزیراعظم جناب عمران خان کی قیادت میں وزارتوں کی کارکردگی صفر کے برابر ہو سکتی ہے۔ یہ لوگ صرف وزارتوں کے جھوٹ بول سکتے ہیں۔ بحث جاری تھی کہ آزاد کشمیر کے بزرگ صحافی جناب امان اللہ جدون نے دونوں ہاتھوں میں میرا چہرہ لے کر اپنی طرف منہ موڑ لیا اور پوچھا کہ نواز شریف اور عمران حکومت میں کیا فرق ہے؟ بصد احترام عرض کیا۔ کچھ بتانے والے ہیں۔ کچھ بتانے والے نہیں کیونکہ وہ آئندہ نظر آئیں گے۔ بات سے بات چل نکلی تو مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ جناب نواز شریف کے دور میں چار سال تک کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا اور ایک بزرگ ترین مشیر اتنی بڑی وزارت تنہا چلاتا رہا پھر جو خارجہ پالیسی کا حشر نشر ہوا اس کی سزا آج قوم بھگت رہی ہے اور اس خارجہ پالیسی سے سفاک مودی اتنا خوش تھا کہ بھارت شعال میکر جناب نواز شریف کے گھر جاتی امراء پہنچ گیا مگر تعجب تو یہ ہے کہ وہ تو مجرم بقول عدلیہ تھے۔ جو بقول عدلیہ صادق اور امین ہیں اور ان کی حکومت ہے مگر کوئی وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات ہی نہیں ہے چلیے جناب اسد عمر حکومتی و عوامی معیار پر پورا نہیں اترے لہٰذا ان کی فرمائشی قربانی بھی لے دی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کیا PTI حکومت کے دو سو سے زیادہ پارلیمان ارکان میں کوئی ایک ایسا نہیں جسے وزیر خزانہ یا وزیر اطلاعات لگایا جا سکے۔ ہماری ایسی کونسی بے بسی ہے کہ ہم مانگے تانکے اور غیر منتخب افراد کے سہارے انہیں چلا رہے ہیں؟ یہ کیسا پر اسرار مورچہ، جس میں بیٹھ کر ہم ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور دائمی فتح کی خوشخبریاں قوم کو سنا رہے ہیں؟ خدارا ضرور سوچئے گا؟ کیونکہ وقت کم اور مقابلہ پر خطر ہے۔

٭ جسٹس جاوید اقبال کا نیب خیبر پختونخوا کا دورہ…؟

O مجھے زندگی میں کئی جسٹس صاحبان سے قریبی ملاقات کا شرف رہا۔ لیکن جناب جسٹس جاوید اقبال کی یہ خوبی الگ ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات کو قابو کرنے کا فن جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب چیف جسٹس افتخار چوہدری غیر فعال ہوئے اور جسٹس بھگوان داس بھارت یاترا پے تھے۔ وقت نے قائم مقام چیف جسٹس کا سہرا جناب جسٹس جاوید اقبال کے سر سجایا تھا۔ انہوںنے نہ صرف یہ حلف اٹھایا تھا بلکہ حالات کو بھی سدھارنے میں سنہری کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح پھر معاملہ لاپتا افراد کا ہو، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور تحقیقات کا ہو ، وہ اپنی سر توڑ کوششیں ضرور کرتے ہیں۔ ناکام ہوتے ہیں یا کامیاب، اس کی فکر بھی نہیں کرتے ہیں؟ اب آج کل وہ جس عہدے پے براجمان ہیں۔ اس کے چاروں طرف کانٹے نہیں بلکہ بے نیام تلواریں ہیں کیونکہ پچھلے تین چار عشروں سے ہمارے یہاں کرپشن کا ناسور کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جرنیل، سیاستدان، بیورو کریٹ، ججز ، صحافی، لینڈ مافیا بلکہ ہر طرف مافیا ہی مافیا ہیں جبکہ جسٹس جناب جاوید اقبال کہا کرتے تھے کہ انصاف ہوا نظر آنا ہی چاہیے۔ اب جبکہ احتساب کے متعلق سپریم کورٹ کے جناب چیف جسٹص بھی انگلی اٹھا چکے ہیں۔ امکان غالب ہے کہ آئندہ چند روز میں احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال NAB کے چاروں صوبوں کے طوفانی دورے کریں اور احتساب کے عمل کو منطقی انجام کی طرف لے کر جائیں اور نیب کی مثالی کارکردگی کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔

آخر کوئی سحر بھی ہے تیری شب فراق

تو نے تو روزِ حشر کو بھی کر دیا ہے مات

٭ مریم نواز لیگی نائب صدارت کی اہل…؟

O اسی لیے کہتا ہوں کہ ہر سو آگ برسانے اور خنجر بکف ہونے سے لبریز ضروری ہے۔ زندگی کی تمام رنگینیوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ مگر ان کے لیے کسی بھی انتہا تک نہیں جانا چاہیے اور جس طرح وقت اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مفت میں ملتی ہیں مگر ان کی قیمت کا تب پتا ملتا ہے جب یہ کہیں کھو جاتی ہیں۔ میری دعا ہے اے رب کریم اور رحیم رب بے شک تیری رحمت، تیرے منصب سے بالاتر ہے ہم پر رحم فرما۔


ای پیپر