ایک یوٹرن جو ناگزیر تھا
18 ستمبر 2019 2019-09-18

پاکستان شروع سے آج تک سیاسی تجربات کی لیبارٹری رہا ہے مگر مثالی حکمرانی کے تصور سے ہم آج بھی اتنے ہی دور ہیں جتنا 70 اور 80 یا 90 کی دہائیوں میں تھے۔ 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے آناً فاناً ملک میں انقلاب برپا کرنے کا نعرہ لگایا مگر ان کی پارٹی نے قوم کے 50 سال ضائع کر دیئے ان کے متوازی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جنم لیا اس میں نام تو ملک کی خالق جماعت کا استعمال ہوتا تھا مگر یہ مسلم لیگ ایک تاجر اور مراعات یافتہ طبقے کی جماعت تھی جس نے سیاست کو سرمایہ کاری کے اصولوں پر چلا کر تین دفعہ ملک پر حکمرانی کی مگر طرز حکمرانی میں رتی برابر بہتری نہ آئی بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ تازہ ترین دور پاکستان تحریک انصاف کا دور ہے جس نے 22 سال کی صحرانوردی کے بعد عوام کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کر لی کہ ان کے ووٹ کے اصل حقدار وہ ہیں۔ اس پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سحر انگیزیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تاکہ ملک کو ایک ایسا رہنما میسر آ سکے جو ماضی کی ساری نا انصافیوں کا ازالہ کر سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے ہوئے دوسرا سال ہے جتنی جلدی یہ پارٹی اپنے سیاسی عقائد و نظریات سے منکر ہوئی ہے۔ اس نے تو یوٹرن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے معاملات پر یوٹرن لینا پارٹی کا طرۂ امتیاز ہے اقتدار میں آ کر اس پارٹی نے ہر وہ کام کیا ہے جس کی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے یہ مخالفت کیا کرتے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف نے برسر اقتدار آ کر سوائے ایک یوٹرن کے ہر جگہ یوٹرن لیے ہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں جو یوٹرن نہیں لیتا وہ لیڈر ہی نہیں ہے البتہ جس بات پر یوٹرن لینا چاہیے تھا وہ ابھی تک نہیں لیا گیا اور وہ یوٹرن اگر لے لیا جاتا تو شاید پاکستان کے 60 فیصد آبادی والے صوبے پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی کی کرن پیدا ہوتی ۔ وہ یوٹرن وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تبدیلی کا ہے جو ابھی تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ جب انہیں وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا تھا تو چھوٹے بڑے سارے تجریہ نگار انگشت بدنداں تھے کہ یہ کیا ہو گیا ہے یہ ایسے ہی تھا جیسے مجمع کے اندر کوئی شعبدہ باز خالی ڈبے میں جوتا بند کر کے اس پر پھونک مارتا ہے اور ڈبہ کھول کر اس میں سے کبوتر نکال لیتا ہے۔

گزشتہ ہفتے خبریں آنا شروع ہوئیں کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے تو ایک دفعہ پھر خبر گرم ہو گئی کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جس کا انتظار تھا تجزیہ کاروں کی بھی اس بات پرشرطیں لگ گئیں کہ عوامی پریشر کی وجہ سے عمران خان نے عثمان بزدار کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے مگر عثمان بزدار جب طلبی کے بعد اسلام آباد سے واپس آئے تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرے اور ساتھ ہی ان کے ترجمان شہباز گل کی برخاستگی اور بعد ازاں استعفے کی خبر آ گئی۔ گویا عثمان بزدار کے پہلو میں چبھنے والا کانٹا نکالا جا چکا تھا ۔ عثمان بزدار نے شکایت کی تھی کہ شہباز گل اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتا ہے بیورو کریسی کو احکامات جاری کرتا ہے اور وزیراعلیٰ کے کئی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ اب عثمان بزدار اپنی تمام تر خاموشیوں کے باوجود اتنے بھولے بھالے نہیں ہیں کہ سمجھ نہ سکیں۔ وزارت اعلیٰ جادو کا وہ چراغ ہے کہ یہ کسی بچے کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو جب وہ دیکھے گا کہ اس کے تالی بچانے پر جن حاضر ہو جاتا ہے اور جن کو جو بھی حکم دیا جائے اس کی پلک جھپکنے میں تعمیل ہو جاتی ہے تو اس بچے کو بھی شعور آجاتا ہے کہ اس نظام کی کنجی میرے ہاتھ میں ہے۔ عثمان بزدار خود کہا کرتے تھے کہ وہ آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے۔ انہوں نے گورننس نہیں سیکھی۔ Initiative لینا نہیں سیکھا عوام کے حقیقی مسائل کو نہیں سیکھا مگر جادو کا چراغ اور جن کو حکم دینا وہ سیکھ چکے ہیں پنجاب کی پوری بیورو کریسی اور پولیس ان کے جنبش ابرو سے حرکت میں آتی ہے۔ اس لیے اب وہ اپنے ایم پی ایز کو خوش کرنا اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں ان کے اختیارات کے استعمال کا سب سے زیادہ حصہ ملازمین کی ٹرانسفر اور ترقیوں پر ہوتا ہے SHO اور پٹواری کی سطح پر تعیناتیوں متعلقہ MPA کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

ان ٹرانسفرز کا منفی پہلو یہ ہے کہ MPA کا جائز ناجائز کام نہ کرنے والے سرکاری ملازمین پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے اور انہیں کسی ایسی جگہ پھینکا جاتا ہے جہاں اپنے گھر اور بیوی بچوں سے الگ تھلگ دور دراز بیٹھا وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر سفارش مان لیتا تو آرام و سکون میں رہتا۔ ایک ڈاکٹر نے ایم پی اے کے کہنے پر جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے سے انکار کیا۔ ایم پی اے اپنے مخالف پر جھوٹا پرچہ کروانا چاہتا تھا ۔ ڈاکٹر کے انکار کی پاداش میں اسے ملتان سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔ پہلے تو ٹرانسفر کا حکم ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا جسے محکم آڈٹ نے ماننے سے انکار کیا ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کی ٹرانسفر کا مجاز نہیں ہے ایم پی اے صاحب وزیراعلیٰ کے پاس چلے گئے اور وہ آرڈر منسوخ کروا کر سیکرٹری ہیلتھ سے نیا آرڈر جاری کروا لیا سیکرٹری نے ڈاکٹر صاحب کو بلا کر کہا کہ چونکہ ایم پی اے آپ کو اپنے حلقے کے ہسپتال میں رکھنے پر راضی نہیں ہے لہٰذا ہم آپ کے ساتھ اتنی رعایت کر سکتے ہیں کہ اس حلقے کے علاوہ آپ اپنی مرضی کی جگہ پر تعینات ہو جائیں۔ قبل ازیں ڈی سی نے ڈاکٹر کو مشورہ دیا تھا کہ آپ ایم پی اے کے ڈیرے پر جا کر اس سے معذرت کر لیں اور راضی نامہ کر کے اسی صحت مرکز میں رہ سکتے ہیں مگر ڈاکٹر نے انکار کر دیا۔

پی ٹی آئی سیاسی روایات سے واقف نہیں لہٰذا یہاں سارے کام اپنے طریقے سے ہوتے ہیں زلفی بخاری اور فیصل واڈا جیسے لوگ وزیر ہیں جن کی CV میں دولتمندی اور عمران خان کے ساتھ ذاتی دوستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے یہ کھلنڈرے سیاستدان اپنی نوعمری اور غیر سنجیدہ مزاجی کی وجہ سے قومی سیاست کا رخ موڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کے غیر منتخب سیکرٹری نعیم الحق کابینہ کے اجلاس کی امامت یعنی صدارت کرتے ہیں۔ پرانے زمانے میں بادشاہ جب جنگل کے شکار پر جاتا تھا تو وہاں جو بکریاں چرانے والا اُسے پانی پلا دیتا بادشاہ اسے پورے گاؤں کی زمین الاٹ کر دیتا تھا یہاں وزارتیں اسی قانون کے تحت بانٹی گئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر بھی پارٹی بازی چل رہی ہے۔ فواد چوہدری جیسے منتخب لوگ نالاں ہیں کہ الیکشن ہارنے والوں یا الیکشن لڑے بغیر آنے والوں کی اہمیت زیادہ ہے۔ وہ سارے ہتھکنڈے جو پرانی سیاسی جماعتوں میں ہوتے تھے پی ٹی آئی اپنے ارتقاء میں یہ سب کچھ قبول کر چکی ہے۔

عثمان بزدار کے پیچھے جو لابی کام کر رہی ہے اس نے عمران خان سے واشگاف بیان دلوا دیا ہے کہ جب تک میں وزیراعظم ہوں عثمان بزدار وزیر اعلیٰ رہے گا۔ عثمان بزدار کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے طاقتور لوگ اگر اس کی جگہ آ گئے تو انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مگر اس میں انصاف والوں نے سیاسی غلطی کی ہے۔ شہباز شریف جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کے متبادل کے طور پر بزدار کو بٹھانا ایک بہت بڑا متنازع فیصلہ تھا جس کے اثرات آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کو بھگتنا پڑیں گے۔ پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں جیتنے والی جماعت وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔ عمران خان نے اپنی ضد کے بل بوتے پر پنجاب کے وسیع تر مفاد کو بزدار کے حوالے کر دیا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ پارٹی کو اس غلطی کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔ اب تو تحریک انصاف کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔ آج عوام کا وہ تعلیم یافتہ طبقہ جو عمران خان کو نجات دھندہ سمجھ کر لے کر آئے تھے، تحریک انصاف کے طرز حکمرانی سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار اور Economic Indicatars جھوٹ بول سکتے ہیں مگر عوامی امنگوں کا جو خون ہو رہا ہے یہ سب کے سامنے ہے رائے عامہ جھوٹ نہیں بولتی۔


ای پیپر