حجاب چوائس نہیں اللہ کا حکم ہے
18 ستمبر 2019 2019-09-18

مجھ سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ آپ حجاب کیوں پہنتی ہیں؟ مجھے یہ سوال اس قدر ناگوار گزرتا ہے کہ اگر منافقت کا سہارا لیے بغیر جواب دیا جائے تو شاید بہت سے دوستوں سے بھی ملنا جلنا ختم ہو جائے۔میرے سامنے جب بھی یہ سوال آتا ہے میرے ذہن میں جواب کے بجائے الٹا یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایک مسلمان لڑکی یا عورت سے سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ آپ حجاب کیوں نہیں پہنتی؟یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ حجاب کے بجائے مکمل برقع کیوں نہیں اوڑھتی؟ یہ کیسا سوال ہے کہ آپ حجاب کیوں پہنتی ہیں ؟مختلف انداز سے پوچھے جانے والے اس سوال (آپ کو گھٹن نہیں ہوتی ؟ آپ کے بال خراب نہیں ہوتے ؟کیا گھر والے کچھ نہیں کہتے ؟ کیا آپ شادی بیاہ کے موقع پر بھی ایسے ہی ڈریس اپ ہوتی ہیں ؟) کا جواب انتہائی سادہ سا ہے ۔’’ حجاب مسلمان عورتوں کے لئے اللہ کا حکم ہے ‘‘جس کو ماننے یا نہ ماننے کی آپشن نہیں دی گئی ۔اس کے باوجود ایسے سوال پوچھناسمجھ سے بالاتر ہے ۔ یہ تو ناانصافی ہے کہ ایک طالب علم ہوم ورک مکمل کر کے جائے اور کمرہ جماعت میں یہ سوال اٹھادیاجائے کہ آپ ہوم ورک مکمل کیوں کر کے آئے ہیں؟ چند روز قبل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایک نوٹیفکیشن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔اس حکم نامے میں تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے چادر یا برقع اوڑھنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کو اس قدر اچھالا گیا کہ کے پی کے حکومت کو وہ نوٹیفکیشن واپس لینا پڑا۔ مجھے نہ تو اس نوٹیفکیشن کا جاری کیا جانا اہم لگا نہ اس پر بحث اور نہ ہی اس کا واپس لیا جانا۔ میں ہر گز خواتین کو زبردستی پردہ کروانے یا چار دیواری میں بند کرنے کی حامی نہیں ہوں لیکن ایک تعلیمی ادارے کی جانب سے جب کوئی ڈریس کوڈ یا کوڈ آف کنڈیکٹ جاری کیا جاتا ہے تو اس ہر عملدرآمد کرنا یا نہ کرنا ایک نارمل سرگرمی ہے ۔ پاکستان میں شراب فروشی کا پرمٹ ہو یا اقلیتوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی ے لیے آزاد فضا فراہم کرنے کا معاملہ،،،،یہ وہ موضوعات ہیں جن پر بحث ممکن ہے مگر ایک ایسا ملک (اسلامی جمہوریہ پاکستان ) جو ایک خاص مذہب کی بنیاد پر بنا آج وہاں کی اکثریت اپنے ہی مذہبی اصولوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے کسی لبرل طبقے کی محتاج کیسے ہو سکتی ہے ؟کیا حجاب کا حکم اللہ کی طرف سے نہیں دیا گیا.؟کیا ہم نے دو قومی نظریے کی بنیاد اسلام اور کفر میں فرق کو نہیں بنایا تھا؟ کیا قائداعظم نے پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ اسی لیے لگایا تھا کہ سبز رنگ کی چھتری تلے دین اسلام کا لبادہ اوڑھے ہم کسی اور قوم کے عزائم کا تحفظ کریں؟میں مانتی ہوں کہ دین میں کسی قسم کی زور زبردستی نہیں ہے ۔دین تو اس قدر آسان ہے کہ آفاقی پیغام انسانیت تک پہنچانے والی ہستی کو جن لوگوںنے لہو لہان کر کے شہر بدر کر دیاتھا،فتح مکہ کے موقع پر ان کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا گیا۔ دین میں جبر و زبردستی کا حکم نہیں کیونکہ آپ کے ایمان کی تکمیل ہی اس وقت ہوتی ہے جب آپ زبان سے اقرار کرتے ہیں اور دل سے تصدیق کرتے ہیں ۔ زبردستی کی بنیا د زبان سے اقرا ر تو کرایا جا سکتا ہے مگر دل سے تصدیق مرضی کے بغیر ممکن نہیں ۔اب ایسے دین میں یہ گنجائش کہاں موجود ہے کہ عورتوں پر جبر کیا جائے ، انھیں زبردستی پردے کا حکم دیا جائے یا انھیں گھروں میں محصور کیا جائے ۔ لڑکیوں کو زندہ جلا دینا ، انھیں فروخت کر دینا ، انکی مرضی کے بغیر شادی کر دینااور انھیں کم عقل سمجھنا دور جہالت کی روایات تھیں جنھیں ظہور اسلام کے بعد دین محمدی نے رد کردیا۔ حجاب یا پردے کے معاملے میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حجاب ذاتی چوائس ہے ۔بدقسمتی سے ہم اسی غلط فہمی میں مارے جاتے ہیں کہ ہمارے پاس چوائس موجود ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکم کے سامنے آپشنز نہیں ہوتی ہے صرف ہاں یا ناں میں جواب ہوتا ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم خانہ کعبہ کے سامنے بے حجاب جائیں ۔ اس کا جواب یہ آتا ہے وہاں تو اللہ سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ تو کیا ہمارا ایمان یہ نہیں ہے کہ اللہ ہماری شاہرگ سے بھی زیادہ قریب ہے ؟بدقسمتی سے ہم نے مذہب پر عمل درآمد کے لئے اپنی مرضی کے نکات چن لیے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں اس نقطے پر عمل کرنا ہے اور اس پر نہیں ۔حضرت محمدؐ نے جب دنیا کے سامنے اللہ کا پیغام رکھا توچندافراد کے علاوہ اہل مکہ نے انکی مخالفت کی ۔ایک تو وہ لوگ تھے جنھوں نے سرعام مخالفت کی ، دوسرے وہ لوگ تھے جو آپ پر ایمان لائے ، اس وقت بھی اور آج بھی ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھا جو محمدؐ کے پیروکاروں میں اٹھتا بیٹھتا اور زبان سے ایمان کا اقرار کرتا تھا لیکن دل میں آپؐ کے لیے بغض اور نفرت رکھتا تھا ۔یہ وہ لوگ تھے جنھیں قرآن نے منافقین قرار دیا ہے اوران کے لئے سورۃ بقرہ کی قرآنی آیا ت بھی نازل ہوئیں :

’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں ۔ حقیقت میں اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔‘‘

آج دنیا کی جتنی بھی تنظیمیں عورتوں کے حقوق کے نام پرکاروبارچمکاتی نظر آتی ہیں ان سب کے قوانین یا ضابطہ اخلاق اکھٹے کر کے موازنہ کریں تو خواتین کو حق دینے سے زیادہ فحاشی کا فروغ انکا ایجنڈا دکھائی دیتا ہے ۔آج تک کوئی ملک کوئی تہذیب اور کوئی تنظیم عورت کو وہ حق اور آزادی نہیں دے سکی اور نہ رہتی دنیا تک دے سکے گی جو قرآن نے دے دی ہے ۔اس لئے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک میں چاہے آپ اسلام کے اصولوں پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن اللہ کے حکم کو موضوع بحث نہ بنائیں اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر مجھے کہنے دیں کہ ہمیں وطن عزید کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے تبدیل کر کے کوئی لبرل نام رکھ لینا چاہئے ۔


ای پیپر