’’تشد د کی لہر...سائیکا ئٹری کا شعبہ، اور بدبودار معاشرہ‘‘
18 ستمبر 2019 2019-09-18

اگر ہمارے ہاں اسلحہ بلا لائسنس ملنا شروع ہو جائے تو یا کسی باقاعدہ تحریری اجازت کے ہم اسلحہ حاصل کر لینے کی پوزیشن میں ہوں تو پھر اخبارات میں ہر صبح شاید پڑھنے والوں کو صرف اور صرف جرائم کی ہی خبریں ملنے لگیں... اور کیسے کیسے مناظر دیکھنے کو ملیں ... کہ یہ تو Whatsapp کا زمانہ ہے۔ہالی وڈ والوں کو کروڑوںڈالر کی لاگت سے بنائی جانے والی فلمیں روک دینا پڑ جائیں گی اور ہر گلی ہر موڑ پر ’’ مولا جٹ‘‘ اور ’’ نوری نت‘‘ نظر آنے لگیں؟!!

دنیا میں سب سے زیادہ جرائم میکسیکو سٹی میں ہوتے ہیں میکسیکو ایسا ملک ہے جس کی سرحد کے تنازعات انڈیا پاکستان سے بھی شاید زیادہ گھمبیر ہیں ۔ہمارے ہاں آپ کراچی سے لاہور والی پرواز پر بیٹھیں کراچی سے لاہور جہاز اڑے گا اور تیز روشنی ایک قطار میں آپ کے ساتھ چلنے لگے گی... سمجھ جائیں کہ یہ وہ باڑھ ہے جو بھارت نے لگا رکھی ہے اور تیز ترین آنکھیں چندھیا دنیاوی روشنیاںمبادا کوئی ادھر سے اُدھر نہ جھانک لے... یہ درد بھری داستان ہے...

جس میں آپ کو خوف کی علامت واضح نظر آئیں گی... اِس جیوپو لیٹیکل گھمبیرتا میں شاید ہم بھی دنیا والوں کو کسی افرا تفری کا شکار کبھی کبا ر نظر آتے ہوں ... لیکن ہمارا پڑوسی بھارت تو ہر لمحہ اِس خوف اور افرا تفری کا شکاردکھائی دیتا ہے۔وہ ملک جس میں لاکھوں مرد عورتیں فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں یا جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر سرھانے اینٹ رکھ کر میٹھی نیند سونے کا آنکھیں کھولے خواب دیکھتے ہیں ۔اُس ملک کا وزیراعظم را فیل طیاروں کو خرید لینے کی اذیت ناک خواہش رکھتا ہے... میں نے خواہش کے ساتھ ’’ اذیت ناک ‘‘ کے الفاظ محض اِس لیئے استعمال کئے کہ بُری خواہش یا بُری خبر اپنے ساتھ اذیت لئے ہوتی ہے جبکہ اچھا خواب ہمیشہ سہانا سمجھا جاتا ہے ... مودی سرکار... اچھا بھی سوچیں تو اُن کی اِس اچھائی کے پیچھے بھی ذہنی الجھن۔اذیت ناک منفی سوچ یا انسانیت کی تباہی بھی دکھائی دیتی ہے۔کیا ایک رافیل طیارے کے بدلے میں پانچ دس لاکھ لوگوں کو سادہ سی سر چھپانے کی جگہ نہیں بنا کر دی جا سکتی؟!!

بات اِس قدر بلندی پر میں خود ہی پہنچا چکا ہوں کہ اب.... اُس گلوکا ر کی طرح راگ کا رُخ ... نچلے ُسروں پر لانااِک مشکل عمل لگتا ہے... اونچے سُر سے بالکل نچلے پر آجانے سے گانا گانا نہیں رہتا... بھونڈا مذاق بن جاتا ہے لیکن اِس وقت دنیا بھر میں انسان کیساتھ یہ بھونڈے مذاق ہر جگہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں ... ’’ مار نہیں پیار‘‘... یہ ایک نعرہ پاکستان میں متعارف ہوا تو لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا... کہ شاید اب اُن کے بچوں کو اسکولوں میں د ُنبے کی طرح نہیں پیٹا جائے گا... لیکن وہ جو دنیا میں ہوتا ہے. . کہ قانون تو بن جاتے ہیں مگر جنہوں نے قانون پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے اُن کی تربیت؟؟ہمارے دور میں ’’ تربیت‘‘ فلمی رسالے... یا اخبارات کے کچھ اڈیشن کرواتے تھے۔اب یہ تربیت کا عمل TikTok .... فیس بک... انسٹا گرام وغیرہ وغیرہ کی ذمہ داری ہے..!!

اِک حکم جاری ہو چکا ... کہ اب تھانوں میں عملہ موبائل فون لے کر نہ جا سکے گا... یعنی اب عملہ خفیہ طور پر موبائل فون تھانے میں لے جانے اور استعمال کرنے کے لیئے .. Inspection Staff کی بھی مٹھی گرم کیا کرے گا۔

آپ کو یہ مُشکل محاورہ ’’ مٹھی گرم‘‘ کرنا کہاں سمجھ آئے گا.. ؟!!

جیسا کہ بھارت میں ... اِک دوست بتا رہے تھے کہ اب فوجیوں کی ڈیوٹیاں لگانے والا سِکھ آفیسر ’’ مٹھی گرم‘‘ کرنے کا اشارہ یہ کہہ کر دیتا ہے کہ ’’ سمجھ گئے ہو یا تمہیں بھیجوں کشمیر‘‘؟!!

بیسیوں فوجیوں نے بھارت میں مقبوظہ کشمیر جانے کے ڈر سے خودکشیاں کر لی ہیں ... یا بہت سی جن کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے ... نے لمبی چھٹی اپلائی کی ... او ر پھر وہ اپنے ہی محکموں کا ظلم سہنے پر مجبور ہو گئے ... فیس بک پر میں نے اِک ایسی فلم دیکھی جس پر بھارتی فوج کے سینکروں ملازموں کو اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اُنہوں نے مقبوظہ کشمیر بھیجے جانے کے ڈر سے لمبی چھٹی کی درخواست دے ڈالی اور .... پھر اِس ’’ جرم ‘‘ کی پاداش میں اُن فوجیوں کے جسموں کو ادھیڑ ڈالا گیا۔ہمارے ہاں جھنگ میں اِک اسکول کے استاد نے طالب علم کو اِس قدر تشدد کا نشانہ بنا ڈالہ ... کہ وہ بے چارہ جان سے ہاتھ دھو ڈالا۔رہی بات پولیس تشدد اور بے جا تشدد .. کی تو وہ آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا پر آپ اذیت ناک خبریں پڑہتے ہی رہتے ہیں۔

ملتان میں کچھ عرصہ پہلے اِک شخص بشیر نے کسی دن اچانک غصے میں آجانے پر اِک عجب سا عمل کر ڈالا... (کچھ مرد بڑھی مونچھوں سے عورت پر رعب ڈالنا چاہتے ہیں اور کچھ عورت کو مار پیٹ کر اپنی مردانگی دکھانا چاہتے ہیں ؟) اُس نے کسی تیز دھار آلے سے اپنی بیوی کی دائیں ٹانگ کاٹ ڈالی ... ملتان کے اخبارات میں بشیر کی تصویر بھی چھپی جب وہ کاٹی ہوئی ٹانگ کہیں پھینکنے جا رہا تھا . .. پکڑا گیا ...عدالت میں کیس چلا... اور آپ حیران ہوں گے... بلکہ پریشان ہوں گے کہ جب عدالت نے بشیر کو سزا سنائی تو عورت جج صاحب کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش ہو گئی کہ ’’ بشیر کو اپنے کیئے کی سزا مل گئی لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ میں رہوں گی بشیر ہی کے ساتھ اُس کی بیوی بن کر ‘‘؟!!

میکسیکو سٹی میں ... نیو یارک میں چھرا مارنے کی وارداتیں ہُوں...بچوں پر مدرسوں میں تشدد ہوپاکستان میں اسکولوں میں بچوں کو تشددسے مارڈالنے کے واقعات ہوں ... کشمیر میں نہتے انسانوں پر بر بریت ہو... انسان حکومتی پریشر میں دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں اور بھارتی فوجی... مسلمانوں کو اذیت دے کر بے تحاشہ تشدد کے ذریعے ہلاک کر رہے ہوں .. اِن سب کے پیچھے بیمار ذہنیت ہوتی ہے۔سوشل ورک سوشیالوجی یا پھر سا ئیکاٹری کے ماہرین کو اِن اداروں میں داخل کر کے ذمہ داران کی تربیت کرنی ضرورت ہے ورنہ یہ دنیا ایٹم بم کے بغیر ہی ’’ نفرت بم ‘‘ کا شکار ہو جائے گی اور انسان ’’ بلیک ہول ‘‘ کی بجائے کسی گندے مین ہول میں گرتا چلا جائے گا ۔کہ دنیا ایک بدبودار معاشرہ کی تصویر دکھائی دینے لگے گی؟؟

جیل میں کسی نے سردار سے پوچھا کہ

تم نے ایسی کیا غلطی کردی جس کی وجہ سے جیل میں آنا پڑ گیا..؟

سردار... کمبخت ہوں میں یار....

اچھا بھلا بنک لوٹ لیا اور پھر وہیں بیٹھ کر پیسے گننے لگا...


ای پیپر