امریکہ اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے،وزیراعظم
18 ستمبر 2019 (17:24) 2019-09-18

طور خم: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاوں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا، امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے، افغانستان میں امن ہونے سے طورخم کاعلاقہ ترقی کرے گا۔

عمران خان نے کہا اپوزیشن کا نظریہ نہیں ہوتاتوملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے انھیں این آراو دےدیں، اپوزیشن کا پہلے دن سے یہی رویہ ہے کہ میں کسی طرح دبا ومیں آجا وں، طور خم ٹرمینل کھولنے سے ہی تجارت میں 50فیصد اضافہ ہوگیا،بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تووہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کابھی، پاکستان کا آئین تمام انسانوں کو برابری کا شہری سمجھتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا طور خم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دعا ہے افغانستان میں امن ہو ، افغانستان میں امن ہونے سے طورخم کاعلاقہ ترقی کرے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم کے راستے سینٹرل ایشیا تک تجارت ہوگی، پشاور پاکستان کا تجارتی حب بنے گا، طور خم ٹرمینل کھولنے سے ہی تجارت میں 50فیصد اضافہ ہوگیا ہے، اس سے تجارتی روابط بڑھنے سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔عمران خان نے کہا طورخم بارڈر24گھنٹے کھولنے کااقدام تاریخی ہے ، تجارت بڑھے گی تو علاقے میں خوشحالی آئے گی، بارڈرسسٹم سے وسط ایشیائی قوتیں بھی مستفید ہوں گی۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا نظریہ نہیں ہوتاتوملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے انھیں این آراو دےدیں، اپوزیشن کا پہلے دن سے یہی رویہ ہے کہ میں کسی طرح دبا و میں آجا وں۔انھوں نے کہا دو این آراو کی وجہ سے قرضہ 6ہزار سے بڑھ کر 30ہزار ارب تک پہنچ گیا، اپوزیشن کے مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنائے گئے ، ہم نے اداروں کو آزادکیا ہے کسی کو تحفظ نہیں دیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم کو واضح کرتاہوں جو مرضی ہوجائے کسی کو این آراو نہیں دیں گے، ملک پرقرضہ چڑھانے والوں کی وجہ سے آج مہنگائی کاسامناہے، فیکٹریاں ،منی لانڈرنگ کرنیوالوں کااحتساب نہیں ہوگاتوملک کاکوئی مستقبل نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کا تعلق امن سے ہوتا ہے ، دہشت گردی کیخلاف جنگ سے قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، حکومت میں آکر پہلی ترجیح تھی ملک میں امن ہو پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں۔امریکا طالبان مذاکرات منسوخی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے ، میری پوری کوشش ہوگی امریکاطالبان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں، افغان امن سےمتعلق معطل مذاکرات بحال کرانے کی پوری کوشش کروں گا،کشمیر کی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80لاکھ لوگوں کو محصور کررکھاہے، بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر اب قبضہ ہوچکا ہے ، انتہاپسند ہندو آرایس ایس نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ، آرایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری ہوئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں آرایس ایس مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے، بھارت میں اس وقت نارمل حکومت نہیں ہے ، آرٹیکل 370اور کرفیواٹھانے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہوسکتی، جہاد کی سوچ رکھنے والا سب سے پہلے کشمیریوں کیساتھ ظلم کرےگا، بھارت نے 9لاکھ فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میں اکٹھا کرکے رکھی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو پہلے بھارت کیساتھ تھے اب وہ بھی نہیں رہے، بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تووہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کابھی، پاکستان کا آئین تمام انسانوں کو برابری کا شہری سمجھتا ہے ، کشمیر کا بچہ ہو یا بوڑھا سب اس وقت بھارت کیخلاف ہوگئے ہیں۔

گھوٹکی میں ہندو برادری پر حملہ سوچی سمجھی سازش ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کاز کو بھر پور طریقے سے اٹھاں گا، وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا۔عمران خان نے کہا افغانستان میں امن کے حوالے سے اشرف غنی سے فون پر بات کی ہے، پاکستان نے افغان امن مذاکرات کےلئے بھرپور کوشش کی ، امریکا نے بھی افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا، معلوم ہوتا مذاکرات میں کہاں رکاوٹ آئی تو ہم دور کرنے کی کوشش کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی ، افغان امن مذاکرات معطل ہونے کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے ، افغان امن مذاکرات پر معاہدہ بالکل قریب تھا، طالبان نے افغان الیکشن میں حصہ نہ لیا تو پھر یہ بڑاالمیا اور افسوسناک ہوگا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پوری کوشش ہے کسی طرح سے لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے، تیل 150ڈالر کا آتا تو ساری چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری کے خلاف ہونے والا تشدد ملک کے خلاف سازش ہوگا۔طورخم سرحد پر نئے ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھوٹکی میں پیش آنے والا واقعہ اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کو سبوتاژ کرنےکی سازش ہے۔بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پر انتہاپسندوں نے قبضہ کرلیا ہے کیونکہ ایسے ذہن کے لوگ ہی کسی علاقے کو اتنے دنوں تک بند کرسکتا ہے۔


ای پیپر