ایس ایچ اوہی بُرا ہے؟
18 ستمبر 2019 2019-09-18

ایس ایچ او مخفف ہے سٹیشن ہاو¿س آفیسرکا، یہ اس تھانے کو چلاتا ہے جس کے ذریعے ریاست میں امن و امان کو برقرار رکھا جاتا ہے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل کا آغاز کیا جاتا ہے مگر اس ایس ایچ اوکو عمومی طور ایک ڈاکو اور لٹیرا سمجھاجاتا ہے جوتھانے میں آنے والے سائلین کی جیبیں ہی صاف نہیں کرتابلکہ کرائے کے قاتل کے طور پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔ میں اس تھیوری کا قائل نہیں ہوں کہ ہر شخص ہی برا ہوتا ہے مگر کیا ایک ایماندار ایس ایچ او پولیس کے محکمے میں چل سکتا ہے،اس کا جواب آئی جی پنجاب دے سکتے ہیںجو اے ایس پی کو تھانے کا انچارج بنانے جا رہے ہیںاور سمجھ رہے ہیں کہ اس سے حالات بدل جائیں گے۔ میںاپنے قارئین سے کہتا ہوں کہ وہ خود کو ایک لمحے کے لئے ایس ایچ او سمجھیں اور اس تھانے کو چلا کر دکھائیں۔

آپ ایس ایچ او ہیں اور آپ کی تنخواہ اتنی ہی ہے جتنی کسی مڈل کلاسئے کی ہوسکتی ہے، ایسے میں آپ کے تھانے کے اضافی اخراجات تین سے پانچ لاکھ روپے ہیں جو آپ نے اپنی جیب سے وسائل سے ہی پورے کرنے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ خرچے تو سرکار ہی دیتی ہے تو مجھے پوچھنا ہے کہ آپ علاقے کا گشت کریں، آپ کے پاس دس، پندرہ سال پرانی گاڑی ہو جو ایک لیٹر میں چھ ، سات کلومیٹر چلتی ہو اور آپ کو مہینے کا اسی، نوے لیٹر پٹرول ملتا ہوتو آپ کتنا گشت کر لیں گے، ون فائیو کی کتنی کالز پر پہنچ سکیں گے۔ ایک پروفیشنل گاڑی ایک دن میں اگر سو کلومیٹر بھی چلے تو زیادہ نہیں ہے مگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو روزانہ ہزاروں روپے پٹرول کی مد میں ہی درکار ہیں اور اگر اس گاڑی کے ٹائر فارغ ہوجائیں یا انجن بیٹھ جائے تو آپ کیا کریں گے؟

پنجاب کے ایک سابق ایڈیشنل آئی جی فنانس نے پانچ برس پہلے مجھے بتایا تھا کہ ان کے سروے کے مطابق ہر تھانے میں ہر مہینے ایک لاکھ تین ہزار روپے کے اضافی اخراجات ہوتے ہیں جو موجودہ دور کی بابرکت مہنگائی کے باعث کم از کم تین سے پانچ گنا بڑھ چکے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ایس ایچ او کا کار خاص آپ کے اس بھگوڑے ملازم کے گھر جانے اور اسے پکڑنے کا خرچا مانگتا ہے جس نے آپ کی چوری کی اور آبائی شہر چلا گیا۔ یہ بہت بڑی زیادتی ہے کہ پہلے چوری کا نقصان ہوا اور دوسرے ایس ایچ او نے جیب پر ہاتھ ڈال لیا مگر سوال یہ ہے کہ جب ریاست یہ خرچ نہیں دے گی تو پھر کیا ایس ایچ او اپنی جیب سے دے گا۔ چلیں، چوری کے معاملے میں تومدعی موجود ہے کہ وہ خرچ دے مگر اشتہاری پکڑنا تو ایس ایچ او ہی کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ نہیں پکڑے گا تو آپ کوعلم نہیں کہ گارڈز کے ساتھ چلنے اور بڑی اکڑ فوں والے ایس ایچ او کے ساتھ ایس پی اور ڈی پی او لیول کی میٹنگوں میں کیا ہو گا ۔ براہ راست بھرتی بڑے افسران رینکرز کو جانوروں کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں، اوئے طوئے تو عام بات ہے، گالی شالی بھی نکال دی جاتی ہے، میٹنگوں میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، باہر نکال دیا جاتا ہے، پھول اتارنے اور عہدے سے ہٹانے کی دھمکیاں ہوتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اشتہاری پکڑنے کراچی جانا ہے یا پشاور، اس کا خرچہ کون برداشت کرے گا ، جی ہاں، یہ ایس ایچ او نے ہی برداشت کرنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایس ایچ او جس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے وہ بڑے صاحب کا ٹیلی فون آپریٹر ہوتا ہے کیونکہ جب بھی اس نے کوئی کال کرنی ہے وہ خرچہ ہی ہونا ہے چاہے وہ صاحب کے مہمانوں کوہر دوسرے تیسرے روز ہوٹل میں ٹھہرانے یا دعوت اڑانے کا ہی کیوں نہ ہو۔

ساری بے عزتی اشتہاری پکڑنے کے لئے ہی نہیں ہوتی بلکہ ملزموں سے اعتراف جرم اور ریکوری کے ٹارگٹس پورے نہ کرنے پر بھی ہوتی ہے۔ چودھری پرویز الٰہی کے دور میں ایک آئی جی صاحب نے پنجاب اسمبلی میں مجھ سے بات چیت میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب پولیس کی ریکوری نیویارک کی پولیس سے بھی زیادہ ہے۔ ذراغور فرمائیں کہ ایک صاحب جوپیشہ ور ڈکیت ہیں ،کیا وہ آسانی سے تسلیم کرلیں کہ وہ انہوں نے ڈاکا مارا ہے اورپولیس فلاں جگہ سے سامان برآمد کر لے کیونکہ تشدد کرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر آپ قتل یا ڈکیتی کے کسی مقدمے کے مدعی ہیں تو آپ چاہتے ہیں کہ قاتل یا ڈاکو کو عدالت سے پہلے ہی سزا مل جائے۔اب یہاں ایس ایچ او کیا کرے کہ مجرموںکو حوالات میں مہمان بنا کے بٹھا لے ، نہیں ایسا ممکن نہیںلہٰذایہاں سے ٹارچر سیل بنتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہیں کہ ایک شخص قاتل اور ڈاکو ہی نہیں ریپسٹ بھی ہے اور عدالت میں اس کے خلاف نہ کوئی گواہی دے رہا ہے اور نہ ہی اس نے کوئی ثبوت چھوڑے ہیں تو اس کا حل پولیس مقا بلے کے سوا کیا ہے ۔ ارے جناب! یہ مجبوری ایس ایچ او کی نہیں بلکہ اس نظام کی ہے جس میں وہ کام کر رہا ہے اور اگر آپ اس نظام میں داخل ہوجائیں گے تو آپ اس کے سوا کیا کر سکیں گے؟

جب ایک ایس ایچ او کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ تھانے کے تین سے پانچ لاکھ کے خرچے اوپر سے پورے کرے تو راہ دی جاتی ہے کہ وہ تیس سے پچاس لاکھ اپنے لئے بھی بنالے۔ جب وہ تھانے کی گاڑی کے دوٹائر کسی چودھری سے ڈلوائے گا تو اپنی گاڑی کے چار ٹائر بھی اس کے لئے جائز ہوں گے۔ جب یہ کریمنل جسٹس سسٹم کسی قاتل اور ڈاکو کو عدم ثبوت سے رشوت تک کسی بھی وجہ سے چھوڑ دے گا تو وہ سوچے گا کہ یہ کام اس نے خود ہی کیوں نہیں کرلیا۔ آپ اے ایس پی کو ایس ایچ او بنائیں گے تو پھر وہ ممی ڈیڈی اے ایس پی نہیں رہے گا، چھ آٹھ ماہ تھانہ چلانے والا روایتی ایس ایچ او بن جائے گاکیونکہ اس کے بغیر تھانہ بند ہوجائے گا لہٰذا خرابی ایس ایچ او میں نہیں ہے بلکہ اس سسٹم میں ہے۔ مان لیجئے ،تمام آئی جی، ڈی آئی جی ، ڈی پی اوسب جانتے ہیں مگر نہ سیاستدان اس سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بیوروکریسی۔ اے ایس پی ایس ، ایچ او بنے گا تو اس سسٹم میں پرموشن کے نئے مسائل پیدا ہوں گے جو پہلے مختلف عہدوں پر ڈائریکٹ بھرتیوں سے بھگتے جا رہے ہیں۔

مجھے کہنے دیجئے کہ اگر شہباز شریف جیسا چالاک و ہوشیار وزیراعلیٰ اس سسٹم کو ٹھیک نہیں کر سکا تو پھر عثمان بزدار سے امید لگانا حماقت ہے۔میں نے جناب شہباز شریف کو ایک مرتبہ کہا تھا کہ آپ ’کاسمیٹک چینچ ‘ لا رہے ہیں۔لال نیلی بتیوں والی گاڑیاں، یہ انسداد دہشت گردی کی فورس، یہ پیرو، یہ ڈولفن سب میک اپ ہے جب تک آپ کا تھانہ ٹھیک نہیں ہوگا کچھ ٹھیک نہیں ہوگا اور ہمارے معاشرے میں تھانے کسی جزیرے پر نہیں ہیں، پولیس کا نظام نہیں ،پورا معاشرہ کرپٹ ہے، یہ وہ مچھلی جو سر سے پاو¿ں تک گلی ہوئی ہے تو آپ اس کے دانت تبدیل کر کے اسے کیسے زندہ کر سکتے ہیں۔ ایس ایچ او کو ذلیل کرنے کا عمل تو طویل عرصے سے جاری ہے۔ لاہور میں تو اس سے ایف آئی آر کے اندراج تک کا حق لیا جا چکا ہے کہ اب کوئی بھی ایف آئی آر ، ایس پی کی مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ڈیوٹی آورز اس کے سب سے سخت ہیں جس نے بہت سارے سٹیشن ہاو¿س افسران کو باقاعدہ ذہنی مریض بنا رکھا ہے ۔ وہ نتائج حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ذہنی دباو¿ کم کرنے کے لئے تشدد کی عیاشی کر لیتے ہیں، یقین کریں ، وہ پھینٹی کے ذریعے بندہ نہیں مارنا چاہتے مگر کبھی کبھار خرچے پورے کرنے کے چکر میں،نتائج دکھانے کی ذمہ داری میں یا اپنی ٹینشن دور کرتے ہوئے انجوائے منٹ اوور لوڈڈ ہونے میں بندہ مرجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری بہت ہی ڈیسنٹ ، باوقار بلکہ بسا اوقات فرشتہ نظر آنے والے اعلیٰ افسران بھی یکساں عائد ہوتی ہے کیونکہ کوئی ٹارچر سیل بنے یا جعلی پولیس مقابلہ ہو، سب صاحبوںکی مرضی و منشا کے عین مطابق ہوتا ہے۔


ای پیپر