Source : Yahoo

ایشیا کپ کی تاریخ میں چند منفرد ریکارڈ
18 ستمبر 2018 (23:45) 2018-09-18

مدثرنذرقریشی:

14ویں ایشیاکپ کا آغاز عرب سرزمین متحدہ عرب امارات پر ہوچکا ہے۔ میگاایونٹ میں کُل 6 ٹیمیں شریک ہیں جنہیں 2گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میگاایونٹ کے گروپ اے میں دفاعی چیمپئن بھارت، پاکستان اور ہانگ کانگ کی ٹیم شامل ہیں جبکہ گروپ بی سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔

پاکستان 14ویں ایشیاکپ میں اپنا پہلا میچ آج ہانگ کانگ کے خلاف دبئی میں کھیلے گا۔ شاہین ایشیاکپ کی ٹرافی پر جھپٹنے کو تیار ہیں۔ کھلاڑیوں پاکستان میں بھرپور پریکٹس کی ۔ اس کے بعد دبئی میں بھی قومی ٹیم نے ایک ہفتہ خوب پریکٹس کی تاکہ عرب سرزمین کی موجودہ کنڈیشنز کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ پاکستان سمیت ٹورنامنٹ میں شریک دیگر ٹیموں کی تیاری بھی عروج پر ہے۔ ہانگ کانگ بھی پاکستان کے لیے آسان حریف نہ ہوگا کیونکہ اس نے متحدہ عرب امارات، نیپال، افغانستان، ملائیشیا اور سنگاپور کو پیچھے چھوڑ کر میگاایونٹ کےے لیے کوالیفائی کیا۔ ہانگ کانگ کی ٹیم 6کوالیفائر ٹیموں میں سے ایک ہے جو کوالیفائی کرکے میگاایونٹ میں پہنچی ہے حالانکہ کوالیفائنگ میچوں میں میزبان متحدہ عرب امارات نے 5میچوں میں سے 4میچوں میں کامیابی حاصل کی اور سب سے زیادہ 8پوائنٹس حاصل کیے لیکن ہانگ کانگ نے 5میں سے 7میچوں میں فتح، ایک میں شکست سمیٹی جبکہ ایک میچ بارش ہونے کے باعث عمان کے خلاف ہانگ کانگ کا بغیر نتیجہ رہا جس کے بعد اسے ایک پوائنٹ ملا، یوں 7پوائنٹس کے ساتھ ساتھ 1.53کی بہترین اوسط کے باعث ہانگ کانگ کی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچ گئی کیونکہ یواے ای کی اوسط 1.289 تھی۔اب ذرا میگاایونٹ میں شامل 6 ٹیموں کے سکواڈ کا جائزہ لیتے ہیں:

پاکستانی سکواڈ

پاکستانی سکواڈ کی قیادت سرفراز احمد کررہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں آصف علی، بابراعظم، فہیم اشرف، فخرزمان، حارث سہیل، حسن علی، امام الحق، جنیدخان، محمدعامر، محمدنواز، شاداب خان، شاہین آفریدی، شان مسعود، شعیب ملک اور عثمان خان شنواری شامل ہیں۔

بھارتی سکواڈ

بھارتی سکواڈ کی قیادت اس بار ویرات کوہلی کی بجائے روہت شرما کررہے ہیں۔ ویرات کوہلی نے بھارتی کرکٹ بورڈ سے آرام کیلئے ایشیاکپ میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا جسے بی سی سی آئی نے قبول کرکے ان کی درخواست آرام کومنظور کرلیا ہے۔ بھارتی سکواڈ میں روہت شرما (کپتان)، شیکھردھون (نائب کپتان)، خلیل احمد، جسپریت بُمرا، یزویندرا چھاہل، مہندرسنگھ دھونی، کیداریادیو، دنیش کارتک، کلدیپ یادیو، بھونیشور کمار، منیش پانڈے، ہاردک پانڈیا، اکشرپٹیل، لوکیش راہول، امبتی رائیڈو اور شردھل ٹھاکر شامل ہیں۔

سری لنکن سکواڈ

سری لنکن سکواڈ کی قیادت اینجلومیتھیوز کررہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں امیلااپونسو، دُشمنتھا چامیرا، دنیش چندی مل، اکیلادنن جایا، سرنگا لکمل، دنن جایا ڈی سلوا، دانوشکا گناتھی لاکا، لیستھ ملنگا، کوسال مینڈس، دِلرون پریرا، کوشال پریرا، تھیسارا پریرا، کاسُن راجیتھا، داسُن شناکا اور اُپل تھرنگا شامل ہیں۔

بنگلہ دیشی سکواڈ

بنگلہ دیشی سکواڈ کی قیادت مشرفی مرتضیٰ کررہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں شکیب الحسن (نائب کپتان)، ابوحیدر، عارف الحق، لٹن داس، محموداللہ، مہدی حسن، محمدمتھن، مصدق حسین، مشفیق الرحیم، مستفیض الرحمان، ناظم الحسین شانتو، ناظم الاسلام، روبیل حسین اور تمیم اقبال شامل ہیں۔

افغان سکواڈ

افغانستان ٹیم کی قیادت اصغرافغان کررہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں آفتاب عالم، گُلبدین نائب، حشمت اللہ شاہدی، احسان اللہ، جاوید احمدی، محمدنبی، محمدشہزاد، مجیب الرحمان، منیراحمد، نجیب اللہ زدران، رحمت شاہ، راشد خان، سمیع اللہ شنواری، سیّدشیرزاد اور وفادار مومند شامل ہیں۔

ہانگ کانگ سکواڈ:

ہانگ کانگ ٹیم کی قیادت اعزاز خان کررہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں انشے رتھ، ارشد محمد، بابرحیات، کرسٹوفرکارٹر، احسان خان، احسان نواز، کیمرون میک اسلان، سکاٹ مکینی، ندیم احمد، نزاکت خان، کنشت شاہ، جھاتاوید سبرامنیان، تنویرافضال اور وقاص خان شامل ہیں۔

ایشیاکپ 2018ءکاشیڈول

ایشیاکپ کا افتتاحی میچ گزشتہ روز سری لنکا اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا۔ پاکستان میگاایونٹ میں اپنا پہلا میچ آج ہانگ کانگ کے خلاف کھیلے گا۔ ٹورنامنٹ کا تیسرا میچ ابوظہبی میں کل افغانستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ بھارت ایونٹ میں پہلا میچ 18ستمبر کو ہانگ کانگ کے خلاف کھیلے گا۔ ایونٹ کا سب سے اہم میچ 19ستمبر کو دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق میچ کا آغاز صبح 10بجے ہو گا۔ واضح رہے کہ ایشیاکپ 2014ءمیں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو شاہد آفریدی کے چھکوں کی بدولت یادگار شکست دی تھی، اس میچ میں بھارت نے 8وکٹوں کے نقصان پر 245رنز بنائے تھے،پاکستان نے 246رنز کاہدف آخری اوور میں 9وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا تھا۔ ایشیاکپ 2018ءکے ابتدائی راﺅنڈ کا آخری میچ بنگلہ دیش اور افغانستان کے درمیان 20ستمبر کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔ ایونٹ میں سپر4مرحلے کو بھی متعارف کرایا گیا جس میں گروپ سٹیج مرحلے میں پہلی دوپوزیشنوں پر براجمان ٹیمیں سپرفورمرحلہ کھیلیں گی۔ سپر4مرحلے میں ہر ٹیم 3میچ کھیلے گی۔ سپر4 کی 2بہترین ٹیموں کے درمیان ایونٹ کا فائنل 28ستمبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

ایشیاکپ.... تاریخ کے آئینے میں

1983ءمیں ایشین کرکٹ کونسل کے قیام کے بعد 1984ءمیں ایشیاکپ کا آغاز ہوا۔ ایشیاکپ کے انعقاد کا مقصد ایشین ٹیموں کے درمیان کرکٹ روابط اور کھیل کو مضبوط کرنا تھا۔ ایشیا کپ ہر2سال بعد منعقد کیا جاتا رہا ہے۔ ایشیاکپ میں ایک روزہ (ون ڈے) اور ٹی ٹونٹی طرز کے مقابلے ہوتے رہے ہیں۔ ایشیاکپ کے اب تک 13ٹورنامنٹ ہوچکے ہیں، بھارت 6مرتبہ، سری لنکا 5 جبکہ پاکستان 2مرتبہ ایشیاکپ جیت چکا ہے۔ آیئے ایشیاکپ کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالتے ہیں۔

پہلا ایشیاکپ 1984ءمیں شارجہ (متحدہ عرب امارات) میں کھیلا گیا، اس ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل تھیں۔ پہلا میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا۔ بھارتی ٹیم نے پاکستان اور سری لنکا کے خلاف کامیابی کے بعد ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔

دوسرا ایشیاکپ 1986ءمیں سری لنکا میں کھیلا گیا جس میں بھارتی ٹیم نے سری لنکا کے ساتھ خراب سفارتی تعلقات کے باعث ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کی ۔ بھارت کی جگہ بنگلہ دیش نے پہلی بار ایشیاکپ میں حصہ لیا۔ سری لنکا نے فائنل میچ میں پاکستان کوہرا کر پہلی بار ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔

تیسراایشیاکپ 1988ءمیں بنگلہ دیش کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ فائنل مقابلے میں بھارت نے سری لنکا کو 6وکٹوں سے شکست دے کر دوسری بار ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔

چوتھے ایشیاکپ 1990-91ءکی میزبانی بھارت کے حصے میں آئی، جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کے ساتھ خراب سفارتی تعلقات کے باعث شرکت نہ کی ۔ چوتھے ایشیاکپ کے فائنل میں بھارت نے ایک مرتبہ پھر سری لنکا کو ہراکر فتح حاصل کی ۔

1993ءمیں پاک بھارت سفارتی تعلقات خراب ہونے کے باعث ایشیاکپ منعقد نہ ہوسکا۔

پانچواں ایشیاکپ 1995ءمیں شارجہ (متحدہ عرب امارات) میں دوبارہ کھیلا گیا، جس میں بھارت اور سری لنکا نے بہتر رن ریٹ (اوسط) کی بنیاد پر پاکستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ بھارت نے لگاتار تیسری مرتبہ سری لنکا کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی ۔

چھٹاایشیاکپ 1997ءمیں سری لنکا کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ اس میگاایونٹ کے فائنل میں سری لنکا نے بھارت کو 8وکٹوں سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔

ساتواں ایشیاکپ 2000ءمیں بنگلہ دیش کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ بھارتی ٹیم ساتویں ایشیاکپ میں صرف بنگلہ دیش کے خلاف واحد میچ شکست سکی، باقی میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔ فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو 39رنز سے شکست دے کر پہلی بار ایشیاکپ ٹرافی اپنے نام کی ۔

آٹھواں ایشیاکپ 2004ءمیں سری لنکا کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ کی ٹیموں نے آٹھویں ایشیاکپ میں پہلی بار شرکت کی ۔ ٹورنامنٹ میں 6ٹیموں نے حصہ لیا جنہیں 2گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ پھرسپر4مرحلے کو بھی شامل کیا گیا۔ سری لنکا اور بھارت کی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔ فائنل میں سری لنکا نے بھارت کو 25رنز سے ہراکر تیسری مرتبہ ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔ سنتھ جے سوریا کومین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

نواں ایشیاکپ 2008ءمیں پاکستان میں کھیلا گیا۔ اس بار بھی ٹورنامنٹ میں 6ٹیموں نے حصہ لیا جنہیں 2گروپوں میں تقسیم کیا گیا، بعد میں سپر4مرحلے کا انعقاد بھی کیا گیا۔ سری لنکا اور بھارت کی ٹیمیں ایک بار پھر فائنل میں آمنے سامنے ہوئیں اور دوبارہ سری لنکا نے بھارت کو پورے 100رنز سے شکست دے کر چوتھی بار ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔ فائنل میں سری لنکا کی 66رنز پر 4وکٹیں گرنے کے باوجود سنتھ جے سوریا نے 114گیندوں پر 125رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ اس کے بعد سری لنکن بولر اجنتھامینڈس نے صرف 13رنز دے کر 6بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور یوں سری لنکا نے 100رنز کے بڑے مارجن سے فتح سمیٹی۔

دسواں ایشیاکپ 2010ءمیں چوتھی مرتبہ سری لنکا میں کھیلا گیا۔ اس بار بھی بھارت اور میزبان سری لنکا فائنل ایک بار پھر کھیلیں، لیکن بھارتی ٹیم نے میزبان سری لنکن ٹیم کو فائنل میں 81رنز سے شکست دے کر پانچویں مرتبہ ایشیاکپ ٹرافی اپنے نام کی ۔ ایشیاکپ کی تاریخ کے 15سالوں میں پہلی بار پاکستانی بلے باز شاہد آفریدی نے مین آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔

گیارہواں ایشیاکپ 2012ءمیں بنگلہ دیش کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ فائنل میں پاکستان اور میزبان بنگلہ دیش آمنے سامنے آئے۔ پاکستان نے بنگالی ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد صرف 2رنز سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔

بارہواں ایشیاکپ 2014ءمیں ایک بار پھر بنگلہ دیش کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں شاہد آفریدی نے اپنے شاندار چھکوں اور چوکوں سے بھارت اور میزبان بنگلہ دیش کی خوب درگت بنائی اور یادگار اننگز کھیل کر پاکستان کو میچز جتوائے اور قومی ٹیم کو فائنل میں پہنچایا۔ فائنل میں پاکستان کا مقابلہ سری لنکا سے ہوا جس نے پاکستان کو 5وکٹوں سے آسانی کے ساتھ ہرا کر پانچویں مرتبہ ایشیاکپ ٹرافی اپنے نام کی ۔

تیرہواں ایشیاکپ 2016ءمیں بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔ اس بار ایشیاکپ 50اوورز کی بجائے ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں کھیلا گیا۔ بھارت اور میزبان بنگلہ دیش فائنل میں پہنچا، لیکن اس بار بھی قسمت نے بنگالی ٹیم کا ساتھ نہ دیا اور بھارتی ٹیم نے بنگالی ٹیم کو 8وکٹوں سے شکست دے کر چھٹی مرتبہ ایشیاکپ کی ٹرافی اپنے نام کی ۔

ایشیاکپ کی تاریخ میں چند منفرد ریکارڈ

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ رنز سری لنکا کے سنتھ جے سوریا نے 25میچز کھیل کر 1220رنز بنائے۔ دوسرے نمبر پر بھی سری لنکن بلے باز کمارسنگاکارا ہیں جنہوں نے 26میچز کھیل کر 1075رنز بنائے۔ تیسرے نمبر پر سچن ٹنڈولکر ہیں جنہوں نے 23میچز کھیل کر 971رنز بنارکھے ہیں۔

٭ایشیاکپ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 2012ءکے ایشیاکپ میں بھارت کے ویرات کوہلی نے پاکستان کے خلاف 183رنز کی کھیلی۔

٭ایشیاکپ کے کسی ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز سری لنکن کھلاڑی سنتھ جے سوریا نے ایشیاکپ 2008ءمیں 378رنز بنائے۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریاں سری لنکن کھلاڑی سنتھ جے سوریا نے 6سنچریاں بنائیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں سری لنکن کھلاڑی کمارسنگاکارا نے 12نصف سنچریاں بنائیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں کسی میچ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ پاکستانی بلے بازوں محمدحفیظ اور ناصرجمشید نے 224رنز کی ایشیاکپ 2012ءمیں قائم کی ۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 27کیچز اور 9سٹمپ آﺅٹ سری لنکن کھلاڑی کمارسنگاکارا نے کیے۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں سری لنکن کھلاڑی مرلی دھرن نے 24میچز کھیل کر 30وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے ہی بولر اجنتھا مینڈس نے صرف 8میچز کھیل کر 26وکٹیں حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کررکھی ہے۔ تیسرے نمبر پر پاکستان کے سعید اجمل ہیں جنہوں نے صرف 12میچز کھیل کر 25وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں ایک اننگز میں بہترین بولنگ کی بات کریں تو سری لنکن بولر اجنتھامینڈس نے بھارت کے خلاف 2008ءمیں صرف 13رنز کے عوض 6کھلاڑی آﺅٹ کررکھے ہیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں کسی ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی سری لنکن بولر اجنتھامینڈس کو حاصل ہیں جنہوں نے ایک ٹورنامنٹ میں 17وکٹیں حاصل کیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں کسی میچ میں 5سے زائد وکٹیں لینے والے بولر کا اعزاز بھی سری لنکن فاسٹ بولر لیستھ ملنگا کو حاصل ہے جنہوں نے 3 میچوں میں 5یا اس سے زائد وکٹیں لے رکھی ہیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں کسی میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف 2010ءمیں 7وکٹوں پر 385رنز بنارکھے ہیں۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں کسی میچ میں سب سے کم رنز بنانے کا اعزاز بنگلہ دیش کو حاصل ہے جو ایشیاکپ 2000ءمیں پاکستان کے خلاف صرف 87رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

٭ایشیاکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچوں کی امپائرنگ کرنے کا اعزاز نیوزی لینڈ کے امپائر بلی باﺅڈن کے پاس ہے جنہوں نے اب تک 14میچوں میں امپائرنگ کی ۔

٭ایشیاکپ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں سب سے زیادہ رنز ہانگ کانگ کے بابرحیات نے 194رنز بنارکھے ہیں۔

٭ایشیاکپ ٹی ٹورنامنٹ فارمیٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں متحدہ عرب امارات کے امجد جاوید نے 12وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔


ای پیپر