Source : Yahoo

کراچی کی قدیم امام بارگاہیں
18 ستمبر 2018 (23:34) 2018-09-18

مقبول خان :

ہجری سال کے پہلے ماہ محرم کا آغاز ہوتے حضرت امام حسینؓ کی شہادت عظمیٰ کی یاد میں مسلمانان عالم مجالس اور محافل منعقد کرتے ہیں۔ امام بارگاہوں پر سیاہ علم لہرا دیئے جاتے ہیں، مجالس عزا برپاکی جاتی ہیں، نوحوں کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں، شہدائے کربلاؓ کی یاد میں ماتم بھی کیا جاتا ہے۔ جس کا سلسلہ 10محرم کو مجلس شام غریباں تک جاری رہتا ہے۔ 9 اور10محرم کے مرکزی جلوسوں کے علاوہ علاقائی سطح پر چھوٹے چھوٹے جلوس بھی شہر کے مختلف علاقوں سے2 محرم سے برآمد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ کراچی میں امام بارگاہوں سمیت متعدد عوامی مقامات پر بھی مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ کراچی کے نشتر پارک اور خالق دینا ہال سمیت متعدد پبلک مقامات پر شہدائے کربلاؓ کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس اور محفل میں علماءاور ذاکرین خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں۔ کراچی کے نشتر پارک میں نصف صدی سے پاک محرم ایسوسی ایشن کے تحت مرکزی مجلس عزا منعقدکی جا رہی ہے جبکہ خالق دینا ہال میں بزم حسینی کے زیر اہتمام یکم تا 9محرم مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔

ان مجالس سے علامہ رشید ترابی مرحوم، علامہ عقیل ترابی مرحوم اور طالب جوہری، علامہ شہنشاہ نقوی خطاب کرتے رہے ہیں۔ اس سال نشتر پارک کی مرکزی مجلس سے سید شہنشاہ حسین نقوی خطاب کر رہے ہیں، عائشہ منزل کے قریب اسلامک ریسرچ سنٹر میں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں جن سے علامہ طالب جوہری اور دیگر صف اوّل کے علماءخطاب کرتے رہے ہیں۔ کراچی کی امام بارگاہوں میں بھارت سے آنے والے علماءعلامہ عقیل الغروی اور علامہ کلب صادق وغیرہ بھی مجالس عزا سے خطاب کرتے رہے ہیں۔ کراچی میں دو سو سے زائد چھوٹی بڑی امام بارگاہوں میں مجالس عزا منعقدکی جاتی رہی ہیں، جن میں ہزاروں عزادار شرکت کرتے ہیں۔ سینہ کوبی سمیت زنجیروں اور قمع سے بھی ماتم کرتے ہیں، یہاں ہم کراچی کی قدیم امام بارگاہوں محفل شاہ خراسان، بڑا امام باڑہ کھارادر، انجمن حسینیہ ایرانیان، امام بارگاہ شاہ نجف، امام بارگاہ حسینی، لائنز ایریا اور دیگرکے تاریخی پس منظرکا جائزہ لیتے ہیں،جہاں آج بھی عزاداری مجالس عزاکا انعقاد مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتاہے جن میں ہزاروں عزادار شرکت کرتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کراچی کے ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ قدیم امام بارگاہیں واقع ہیں جن میں متعدد ایسی ہیں جہاں قیام پاکستان سے قبل عزادری کا سلسلہ جاری تھا۔ اس وقت کراچی کے ہر رہائشی علاقے میں ایک یا زائد امام بارگاہیں موجود ہیں جن کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔

بشوکی امام بارگاہ

بشوکی امام بارگاہ کوکراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ قرار دیا جاتا ہے، یہ لیاری کے علاقے بغدادی میں قیام پاکستان سے 140سال قبل 1806ءمیںقائم کی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ جب یہ امام بارگاہ یہاں تعمیرکی گئی تھی، اس وقت کراچی کی مجموعی آباد صرف 35 ہزار تھی۔ اسے اب امام بارگاہ نیا آباد بھی کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ امام بارگاہ صرف ایک کمرے پر مشتمل تھی، لیکن اب یہ امام بارگاہ تین منزلہ ہے، یہاں پر عاشورہ محرم سمیت دیگر ایام میں عزاداری اور مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔ چند سال قبل امام بارگاہ کے باہر ایک علم بھی لگایاگیا ہے۔

بڑا امام باڑہ کھارادر

قیام پاکستان سے کم و بیش 80 سال قبل کراچی کے قدیم ترین کاروباری علاقے کھارادر میں 1868ءمیں قائم کیاگیا تھا۔ یہ امام بارگاہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی جائے پیدائش وزیر مینشن سے دوگلیاں آگے ہے۔ اسے خوجہ اثناءعشری جماعت کے لوگوں نے تعمیر کرایا تھا، ابتدا میں اس کا صرف گراو¿نڈ فلور تھا لیکن عزادروں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے اس کی مزید دو منزلیں تعمیر کرائی گئیں جن میں سے پہلی منزل خواتین عزاداروں کےلئے مخصوص ہے۔ یہاں محرم الحرام کی مجالس سمیت حضرت علیؓ اور دیگراماموں کے ایام پر مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں، یہاں مجلس شام غریباں بھی برپا کی جاتی ہے۔ یہاں کسی وقت علامہ رشید ترابی بھی مجلس پڑھاکرتے تھے۔ اس سال اس امام بارگاہ میں مرکزی مجلس سے مولانا کمیل مہدوی خطاب کر رہے ہیں۔ یہاں صبح اور رات میں بھی مجالس ہوتی ہیں جبکہ یہاں صرف خواتین کے لئے مجلس عزا بھی منعقد کی جاتی ہےں۔ امام بارگاہ کھارادر سے ملحق ایک بڑا علم بھی ہے، یہ علم بھی سو سال سے زائد قدیم بتایا جاتا ہے۔ کسی وقت یہ کراچی کا سب سے بڑا اور بلند علم کہلاتا تھا۔ عشرہ محرم کے دوران یہاں یومیہ تین سے چار مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔

امام بارگاہ بارہ امام

ضلع جنوبی کے علاقے سابقہ لارنس روڈ موجودہ نشتر روڈ پر بھی ایک قدیم امام بارگاہ واقع ہے، یہ امام بارگاہ کراچی کے سول ہسپتال سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ امام بارگاہ بارہ امام کے نام سے مشہور ہے۔ یہ امام بارگاہ پانچ چھوٹی امام بارگاہوں پر مشتمل ہے جن میں سفینہ نجف،چوکی حضرت عباس ؓ اور خواتین کی امام بارگاہ قابل ذکر ہے۔ اس امام بارگاہ کو چوہدری اللہ دتہ نامی مخیر عقیدت مند نے کم و بیش سو سال قبل تعمیر کرایا تھا۔ یہاں عشرہ محرم سمیت دیگر ایام میں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں، یہاں ماضی میں عشرہ محرم میں علامہ عقیل ترابی مرحوم مجلس عزا سے خطاب کرتے رہے ہیں۔ اس امام بارگاہ سے ہر سال تین بڑے ماتمی جلوس 9 اور10محرم اور21 رمضان المبارک کو نکالے جاتے ہیں جو ڈینسو ہال کے قریب نشتر پارک سے آنے والے مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پہلے اس امام بارگاہ میں ایران، عرق، شام اور سعودی عرب جانے والے زائرین، عازمین حج اور معتمرین کے لئے عارضی رہائش گاہ کا انتظام تھا۔ یہاں کسی وقت علامہ عقیل ترابی مرحوم عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کیا کرتے تھے۔

انجمن حسینیہ ایرانیاں

کراچی کے قدیمی علاقے کھارادرکے عقب میں نواب مہابت خان جی روڈ پر واقع حسینیہ ایرانیاں بھی کراچی کی قدیم اما بارگاہوں میں شامل ہے۔اسے کراچی میں مقیم ایرانی باشندوں نے 1948ءمیں تعمیر کرایا تھا۔ اس امام بارگاہ کوکراچی میں عزاداری کے حوالے سے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ نشتر پارک سے 8 ، 9 اور 10محرم کو نکلنے والے جلوس سمیت شہدائے کربلاکے چہلم اور21 رمضان المبارک کو شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر جو جلوس نشتر پارک سے بر آمد کئے جاتے ہیں، وہ سب حسینیہ ایرانیاں پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ حسینیہ ایرانیاں میں فارسی زبان میں بھی مجالس منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کراچی میں مقیم ایرانیوں کے علاوہ فارسی زبان سے شناسائی رکھنے والے پاکستانی بھی شرکت کرتے ہیں، یہاں عشرہ محرم پر رات میں مجلس عزا منعقد کی جاتی ہے، جس سے علامہ رشید ترابی مرحوم، علامہ عقیل ترابی مرحوم سمیت صف اوّل کے علماءخطاب کرتے رہے ہیں۔ اس سال یہاں مولانا ذکی باقری مجلس عزا سے خطاب کر رہے ہیں۔ یوم عاشورکے مرکزی جلوس کے اختتام پر یہاں مجلس شام غریباں برپاکی جاتی ہے۔

محفل شاہ خراسان

مزار قائد اور نمائش چورنگی کے قریب بریٹو روڈ پر وقع محفل شاہ خراسان قیام پاکستان کے بعدکراچی کی قدیم ترین مسجد اور امام بارگاہ ہے، اسے کراچی میں عزاداری کا ایک بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے تین حصے ہیں، پہلے حصے میں مسجد ہے، جہاں با جماعت نماز بھی اداکی جاتی ہے پھر عزا خانہ ہے، اس کے ساتھ زیارت گاہ ہے۔ محفل شاہ خراسان کے قریب رہائشی علاقے کے ایک مکین 80 سالہ رجب علی نے بتایاکہ اس کے مرحوم والد کاکہنا تھا کہ آج جس جگہ پر محفل شاہ خراسان قائم ہے، یہاں قیام پاکستان کے بعد پہلے محرم میں اس مقام پر شامیانہ لگا کر مجالس عزا منعقدکی گئی تھیں۔ پھر اسی زمین کو مخیر شیعہ افراد نے خریدا اور اس پر اس امام بارگاہ کو تعمیر کرایا، یہاں شیعہ مسلمانوں کے اماموں کے ایام ولادت اور شہادت پر مجالس منعقدکی جاتی ہیں، محرم یہاں یومیہ تین مجالس منعقدکی جاتی ہیں، جبکہ خواتین کی مجلس بھی یہاں منعقدکی جاتی ہیں، یہاں بھارت سے آنے والے شیعہ عالم علامہ کلب صادق سمیت پاکستان کے مشہورومعروف علماءاور ذاکرین مجالس سے خطاب کرتے رہے ہیں، اس سال یہاں عشرہ محرم کی مرکزی مجالس سے مولانا سید علی رضا رضوی خطاب کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 9 اور10محرم سمیت چہلم اور حضرت علیؓ کے یوم شہادت 21 رمضان کو نشتر پارک سے برآمد ہونے والے جلوس محفل شاہ خراسان کے سامنے سے گزرکر ایم اے جناح روڈ پر واقع نمائش چورنگی پہنچتے ہیں، جہاں سے یہ جلوس مقررہ راستوں سے گزرکر حسینیہ ایرانیاںکھارادر پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی ایک بڑا علم عقید تمندوں کی توجہ کا مرکز بنا ہواہے۔اس سے چند قدم آگے ایک اور قدیم بارگاہ عزا خانہ زھرا کے نام سے مشہور ہے، یہاں بھی ایک تاریخی علم نصب ہے۔ یہاں بھی پابندی کے ساتھ مجالس منعقد کی جاتی ہیں، یہاں بھی کئی زیارتیں ہیں۔

امام بارگاہ مارٹن روڈ

جیل چورنگی کے قریب تین ہٹی جانے والی سڑک پر دائیں جانب زرا اندر جاکرکراچی کی ایک اور قدیم امام بارگاہ و جامع مسجد امام بارگاہ مارٹن روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ مارٹن کوارٹرزکے ایک بزرگ رہاشی سلیم حسین نے بتایا کہ یہ امام بارگاہ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے میں بھارت سے ہجرت کرکے آباد ہونے والے شیعہ مہاجرین نے اپنی مدد آپ کے تحت 1949ءمیں قائم کی تھی، جو 1956ءمیں مکمل ہوئی تھی، یہاں محرم کی مجالس سمیت تمام مذہبی ایام پر مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔ اس سال امام بارگاہ شاہ نجف مارٹن روڈ میں مولانا کمیل مہدوی مجالس عشرہ محرم سے خطاب کر رہے ہیں۔ یہاں مسجد بھی جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہاں سے ہر سال ایک مرکزی جلوس 9 محرم کو برآمدکیا جاتا ہے جو نشتر پارک میں مرکزی مجلس کے آغاز سے قبل پہنچ جاتا ہے اور مجلس کے اختتام پر یہ جلوس بھی مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتا ہے جو مقررہ راستوں سے گذر انجمن حسینیہ ایرانیاں پر ختم ہوجاتا ہے۔

دیگر قدیم امام بارگاہیں

کراچی کے مختلف علاقوں میں قیام پاکستان کے بعد شیعہ مہاجرین جہاں جہاں آباد ہوتے گئے، وہاں انہوں نے امام بارگاہیں بنائیں، لائنز ایریا کے علاقے جٹ لائن میں ایک قدیم امام بارگاہ حسینی کے نام سے مشہور ہے، یہاں محمود آباد اور ملحقہ علاقوں سے نکلنے والے جلوس 9 محرم کی رات جمع ہوتے ہیں اور مجلس کے اختتام پر صبح سویرے مرکزی جلوس میں شامل ہونے کےلئے نشتر پارک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں پہلی مجلس 1950ءمیں منعقد ہوئی تھی، اسی طرح لیاقت آباد نمبر دس پر بھی ایک مرکزی امام بارگاہ ہے جسے شاید 1951ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں بھی پابندی کے ساتھ مجالس عزا منعقد کی جاتی ہیں، اسی طرح ملیرکے علاقے میں بھی دربار حسینی کے نام سے ایک قدیم امام بارگاہ ہے جبکہ اسی علاقے میں محمدی ڈیرہ کے نام سے بھی ایک امام بارگاہ ہے وہاں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں۔ ناظم آبادکے علاقے رضویہ سوسائٹی میں بھی ایک قدیم امام بارگاہ رضویہ امام بارگاہ کے نام سے مشہور ہے، جسے بھا رت کے شہر لکھن¿و اور اودھ سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہونے والے شیعہ مہاجرین نے قائم کیا تھا یہاں بھی پابندی سے عشرہ محرم کی مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ نارتھ ناظم آباد میں حسینیہ سجادیہ، کراچی میں کورنگی، لانڈھی، محمود آباد،لائنز ایریا، پی ای سی ایچ ایس، ڈیفنس سمیت شہرکے دیگر علاقوں میں چھوٹی بڑی امام بارگاہوں میں مجالس عزا منعقد کی جاتیں اور علاقائی سطح پر جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔


ای پیپر