Source : Yahoo

ایران امریکہ ایٹمی معاہدہ ، حقائق اور معاشی جنگ
18 ستمبر 2018 (23:30) 2018-09-18

امتیاز کاظم:

فیڈریکا موگرینی اور ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف جب 2 اپریل 2015ءکو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ایک نتیجے پر پہنچے تو ورلڈ پاورز P5+1 سمیت یورپی یونین میں اطمینان کی لہر دوڑگئی۔ فیڈریکا موگرینی نے جواد ظریف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”آج ہم ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس کا باضابطہ اعلان 30جون تک کردیا جائے گا۔ ورلڈ پاورز PSH یعنی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین ( امریکہ ، روس، فرانس، یوکے، چین + جرمنی اور یورپی یونین) نے اس معاہدے پر اس لیے اطمینان کا اظہار کیا تھا کہ یہ مسئلہ بڑی دیر سے لٹک رہا تھا اور نومبر 2013ءمیں جنیوا میں بھی اس مسئلے پر مذاکرات ہو چکے تھے جس کے نتیجے میں ”جوائنٹ پلان آف ایکشن“ تجویز ہوا تھا اور اُسی کا حوالہ دیتے ہوئے فیڈریکا نے آٹھ پارٹیز (مستقل ارکان یورپی یونین اور ایران ) کی طرف سے معاہدے اور فریم ورک ڈیل کا اعلان کیا لیکن 8 مئی 2018ءکو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر کے دُنیا میں پھر سے تشویش کی ایک لہر پیدا کردی۔ یہ شخص مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے لیے اتنا کڑوا اور ”کھارا“ کیوں ہے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوام اور دُنیا تو ایک طرف سابق امریکی صدر اوبامہ نے الینوائے یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹرمپ دور امریکہ کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ری پبلکن امریکہ کے دوسرے ممالک کے ساتھ اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور روس سے دوستی کر رہے ہیں اور آج کل امریکہ چین مخاصمت بھی عروج پر ہے کیونکہ امریکہ نے چینی مصنوعات پر مزید 200 ارب ڈالرکے ٹیکس لگا دیئے ہیں۔ بہرحال ٹرمپ کے اس معاہدے سے دستبرداری سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور عالمی برادری خصوصاً یورپی یونین نے امریکہ کے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے معاہدے کی شرائط کی رُو سے:

٭ ایران کی افزودگی کی گنجائش (یورینیم / پلوٹونیم) افزودگی کی سطح اور ذخیرہ (یورنیم کا) ایک مخصوص مدت کے لیے محدود سطح پر رہے گا۔

٭ناتانزکے علاوہ کسی دوسری جگہ پر افزودگی کی سہولت نہ ہو گی۔

ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سہولت دو جگہ پر میسر ہے یعنی ناتانز اور فورڈو)

٭سینٹری فیوج اور ریسرچ کا کام متفقہ شیڈول کے مطابق ہو گا۔

٭فورڈو جو کہ انڈرگراﺅنڈ افزودگی کا مرکز ہے، اسے نیوکلیئر، فزکس یا ٹیکنالوجی کے مرکز میں تبدیل کیا جائے گا (یعنی فورڈو کے زیرزمین مرکز میں افزودگی کا کام نہیں ہو گا)

٭ آراک کی بھاری پانی کی سہولت کو عالمی کوششوں سے دوبارہ ڈیزائن کیا جائے گا اور اسے جدید بنایا جائے گا یعنی ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹر کا قیام ہو گا اور اس سے پلوٹونیم گریڈ کا کوئی ہتھیار نہیں بنایا جائے گا۔

٭خرچ شدہ ایندھن ( ایٹمی فُضلہ) ایکسپورٹ کیا جائے گا۔ اس کی ری پراسیسنگ نہیں ہو گی۔

ان تمام شرائط پر جب عمل درآمد ہو گا اور عالمی ادارہ (IAEA) اس کی تصدیق کرے گا تو یورپی یونین ( ایٹمی معاملات سے متعلقہ) معاشی پابندیاں ختم کر دے گا۔ اس کے بعد امریکہ بھی تمام معاشی پابندیاں اور ثانوی نوعیت کی پابندیاں ختم کر دے گا اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل ان تمام معاملات کی ضامن ہوگی۔ اس سارے معاملے کے بارے میں امریکہ اور ایران نے اپنے اپنے طور پر حقائق نامے بھی شائع کیے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود امریکہ نے 8 مئی 2018ءکو معاہدے سے دستبردار ہو کر ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا اور جب دُنیا نے ٹرمپ کی اس حرکت کو ماننے سے انکار کر دیا تو ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا یوٹرن لیا اور ایران کو غیرمشروط مذاکرات کی دعوت دے دی لیکن ان غیرمشروط مذاکرات میں بھی امریکہ ایران سے اپنی تمام باتیں منوانا چاہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں امیر کویت سے ملاقات سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا اورکہا کہ ایران بے چینی کا شکار ہے۔ ہم ایران کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں اس کا انحصار ایرانی لیڈروں پر ہے۔ مذاکرات کا فیصلہ ہم نہیں ایرانی کریں گے۔ میں آج بھی ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہوں لیکن ایرانی رہنماﺅں کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ ہر بات پر یوٹرن لینا اور دوسرے کو جھوٹا قرار دینا ٹرمپ کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ ابھی حال ہی میں ”باب وڈ ورڈز نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے بشارالاسد کے قتل کا حکم دیا تھا جبکہ ٹرمپ صاف طور پر اس سے بھی مُکر گیا ہے کہ میں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا جبکہ دوسری طرف ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ روزانہ کی بنیاد پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے پیغامات بھیج رہا ہے۔ یہ بات روحانی نے اپنے حکومتی ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے پیغامات مختلف ذرائع سے ارسال کر رہا ہے کہ دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ روحانی کا کہنا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا وہ معاشی جنگ میں امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے۔ عالمی ایٹمی ایجنسی (IAEA) اپنی رپورٹوں میں اپنا مثبت اظہارکرچکی ہے کہ ایران اپنے حقے کی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے یعنی IAEA کے اہلکار ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو پُرامن نوعیت کا اور پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا اقرار کرچکے ہیں اور جہاں بھی IAEA نے رسائی مانگی ایران نے مہیا کر دی۔ یورینیم کی افزودگی 3.67فیصد کا لیول بھی عالمی ایٹمی ایجنسی چیک کرچکی ہے۔ یورینیم کے ذخائر 300 کلوگرام یا 660 پاﺅنڈ تک محدود رکھنے کو بھی IAEA چیک کرچکی ہے اور یہ پابندی 15سال کے عرصہ تک کے لیے ہے۔ فورڈو کے زیرزمین مرکز میں 15سال کے لیے یورینیم کی افزودگی بند کی جاچکی ہے اور یہ بھی ایجنسی چیک کرچکی ہے اور یہ سب باتیں (JCPOA) Joint Comprehensive Plan of Action کے 14جولائی کے معاہدہ میں درج ہیں اور ایران ان شرائط پرکار بند ہے لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ یواین او کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس معاہدہ کو امن اور استحکام کا ضامن قرار دیا تھا۔ روسی فارن منسٹر سرگئی نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔ امریکی صدر اوبامہ نے Historic Understanding قرار دیا تھا۔ جرمن چانسلر اینجلامرکل نے اسے ایک اچھا معاہدہ قرار دیا تھا۔ اٹلی کے فارن منسٹر پاﺅلو نے اسے مثبت نتائج کا حامل معاہدہ قرار دیا تھا۔ اسرائیل کے بینجمن نیتن یاہو نے اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کی اور یہی اہم وجہ ہے کہ امریکہ اپنے بغل بچے اسرائیل کی خاطر اس معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے کیونکہ ایران کا ایٹمی طاقت بننا اسرائیل کی موت کے مترادف ہے کیونکہ تل ابیب یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق (جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں) ایران کے ایٹمی طاقت بنتے ہی 26 سے 28 فیصد یہودی اسرائیل چھوڑ جائیں گے اور 85 فیصد اسرائیلی یہودیوں کو یہ یقین ہے کہ ایران ایٹم بم بنا کر ہی دم لے گا۔ امریکہ چاہے اس پرکتنی ہی پابندیاں عائدکر دے۔ دراصل مذاکرات اور معاہدے کے بعد امریکہ نے معاہدے کے ڈرافٹ کے بارے توڑمروڑکر جو حقائق نامہ شائع کیا وہ متنازعہ شکل اختیار کر گیا اور ایران کے سپریم لیڈر سمیت تمام عہدے داران نے اس کی تصحیح پر زور دیا۔ ایران نے جو حقائق نامہ پیش کیا اُس میں کہا گیا کہ ورلڈ پاورز ایران کے ہتھیاروں اور میزائل پروگرام پرکوئی قدغن نہیں لگاتی اور تہران اپنے علاقائی اتحادیوں کو ہتھیار سپلائی بھی کرے گا اور خرےدے گا بھی۔ اس بات میں میزائل پروگرام کی بات سب سے چبھنے والی تھی کیونکہ اسرائیل براہ راست ایرانی میزائلوں کی زد میں ہے اور امریکہ اسرائیل کو تحفظ دینے کے لیے ہی تو یہ ساری گیم کر رہا تھا لہٰذا ٹرمپ معاہدے سے باہر ہوگیا۔

دوسری بات یمن کو ہتھیاروں کی سپلائی اور میزائلوں کی سپلائی ہے کیونکہ امریکہ ایران پر یہ الزام عائد کرتا ہےکہ حوثیوں کو میزائل اور اسلحہ گولہ بارود ایران فراہم کررہا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ سعودی اتحاد بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ امریکہ سعودیہ کو اربوں ڈالرز کا اسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

درحقیقت شاہ ایران کے بعد کا خمینی انقلاب کا حامل ایران امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کو کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے لیے تو یہ کسی سانحہ سے کم نہیں حالانکہ امریکہ وقتاً فوقتاً اپنی بہت سی باتیں منواتا رہا ہے مثلاً بھارت کے ضمن میں (چابہار بندرگاہ) پہ یہ بات صادق آتی ہے اور پاکستان ایران کے گیس منصوبے ”تاپی“ پر تحفظات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکہ خصوصاً ٹرمپ کی مسلم اور اسلام دُشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ اس وقت مسلم ممالک کو دبانے اور مسلسل اپنے دباﺅ میں رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اپنی اس پالیسی کی وجہ سے دُنیا بھر کے اتحادیوں سے اپنے معاملات بگاڑ رہے ہیں جو آنے والے سالوں میں جلدی درست نہیں ہوں گے۔ سابق صدر باراک اوبامہ کا الینوائے یونیورسٹی میں خطاب بہت سے حقائق آشکار کرتا ہے۔


ای پیپر