Source : Yahoo

ٹائم ٹریولنگ کا خواب کبھی پورا کر سکے گا؟
18 ستمبر 2018 (23:28) 2018-09-18

اعجاز احمد اعجاز:

خیال اور تصورات وہ خوبی ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے جُدا کرتی ہے۔ یہ خیال ہی ہی طاقت ہے جس کے ذریعے اس نے غاروں سے محلات، پیدل چلنے سے گاڑی اورگاڑی سے ریل اور فضائی سفرطے کیا ہے۔ فضائی سفرکی انتہا اس وقت ہوئی جب حضرت انسان نے چاند کو بھی مسخرکر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے پیغام رسانی سے لے کر فون اور فون سے انٹرنیٹ تک کا حیران کن سفر بھی طے کیا، لیکن اس کی کچھ نیا کرنے کی خواہش ختم نہیں ہوئی، وہ سفر کی نئی راہیں اور طریقے ایجاد کرنے میں مشغول ہے۔ اس حوالے سے بنی نوع انسان کے سب سے زیادہ دلچسپ خواب میں سے ایک، حال سے ماضی اور مستقبل کے وقت میں سفرکرنا ہے۔ ہم اکثرسوچتے ہیں کہ کیا ہم گزرے ہوئے یا آنے والے وقت میں واپس جا سکتے ہیں؟فلموں اور بچوں کی کہانیوں اور کارٹونز غیرہ میں تو ہم ایسا دیکھ رہے ہیں۔ کیا حقیقت میں بھی کبھی ایسا ہو سکے گا یا پھر یہ خواہش فقط خواہش ہی رہے گی۔

کیا ٹائم ٹریولنگ یا ٹائم مشین کی حقیقت ممکن ہے؟

سائنسی امکانات اور وضاحتیں اپنی جگہ، مگر اقوامِ عالم کی دیومالائیں داستانیں انسان کی ایسی خواہشات اورواقعات سے بھری ہوئی ہیں،جن میں اس نے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہونے کے لیے سوچا یا اس کے لیے کوشش کی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان صدیوں سے ماضی میں یا مستقبل میں جانے کے لیے بہت پُرجوش رہا ہے۔ اس لیے ٹائم ٹریولنگ اور ٹائم مشین گزشتہ کئی عشروں سے سائنس فکشن اور سیکڑوں فلموں کے موضوع رہے ہیں۔

جہاں دنیا کے اکثر عام لوگ اس بات کو دیوانے کا خواب اور ناممکن امر سمجھ کر اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، وہاں دنیا کے سیکڑوں ذہین ترین سائنسدان یہ سمجھ کر اس میدان میں سرگرم رہے ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو یہ خواب حقیقت بن جائے گا۔ البرٹ آئن اسٹائن جیسا عالی دماغ سائنس دان بھی اپنی آخری عمر میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ ہم سب ان کے نظریہ اضافت سے بھی واقف ہیں، جس میں انہوں نے نیوٹن کے دعویٰ کو غلط قرار دیتے ہوئے وقت کو مطلق کے بجائے اضافی یا نسبتی قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق انتہائی تیز رفتار خلائی جہاز کے ذریعے کوئی شخص کئی دن وقت سے آگے نکل سکتا ہے۔

اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ ہونابھی ممکن سمجھا جاسکتا ہے کہ کوئی فرد وقت کی قید سے نکل کر اگر ماضی میں چلاجاتا ہے تو وہ گزشتہ تاریخ اور واقعات کوبھی بدلنے پر قادر ہوسکتاہے۔ جہاں یہ بات سرخوشی کا باعث لگتی ہے، وہاں یہ خدشات بھی مدنظر رکھنا چاہییں کہ اگر کوئی مستقبل میں جاکر ”چھیڑخانی“ کرتا ہے تو انسانوں کو اس کا پتہ نہیں کیا نتائج بھگتنا پڑیں؟کیونکہ مستقبل تو نامعلوم ہوتا ہے!۔

قدیم ادوار میں ٹائم ٹریولنگ

اگر ہم قدیم مسّودات اور مخطوطات کا جائزہ لیں تو ہمیں ٹائم ٹریولنگ کے کئی حوالے نظر آتے ہیں۔ ہندو دیومالا میں راجہ ریواتہ کاکودمی کی کہانی ملتی ہے جو تخلیق کے دیوتا برہما سے ملنے جاتا ہے تواس کا سفر زمان و مکان کی پابندیوںسے آزاد ہوجاتا ہے۔ اپنے طورپر جب راجہ کچھ ہی دنوں بعد دھرتی پر واپس آتا ہے تو وہاں 108 یگ بیت چکے ہیں ( ایک یُگ چالیس لاکھ سال پر محیط ہوتا ہے!)۔ برہما اس کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ وقت موجودات کی مختلف سطحوں پر مختلف رفتار سے گزارتا ہے۔

اس طرح ہمارے پاس قرآن میں اصحابِ کہف کے واقعے کی مثال موجود ہے جوایک غار میں پناہ لے کر سوئے تو 309 برس بعد جاگے۔اس کے بعد پھر سوئے توابھی تک خوابیدہ مانے جاتے ہیں۔ یہی حکایت عیسائیت میں بھی سات خوابیدہ بزرگ کے عنوان سے موجود ہے۔

شہرہ آفاق سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جانانظریاتی طور پر ممکن ہے،البتہ انسان کے لیے کسی ایک خاص وقت میں جانا ممکن نہیں ہے۔ یہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ کسی طرح انسان روشنی کی رفتار سے کئی گنا تیزسفرکرنا ممکن بنالے۔

وقت میںسفر کرنے کا تصور، نیا نہیں ہے بلکہ قدیم لوک کتھاﺅں اور بہت سی دیومالاﺅں میں یہ موجود ہے ۔ مثلاً ایک جاپانی دیومالائی کہانی کا کردار ایک مچھیرہ” یوراشیما تارو “، ایک مچھلی کی پیٹھ پر پانی کے اندر موجود ڈریگن دیوتا کے محل میں جاتا ہے۔ محل میں تین دن گزارنے کے بعد وہ جب اپنے گھر واپس آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ان تین دنوں کے دوران تین سو سال گزر چکے ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے، اس کے گھر والے اور عزیزو اقارب اب اس کے آباﺅ اجداد بن چکے تھے، جن کے نام خاندانی شجرے میں موجود تھے۔اس شجرے میں اس کاا پنا نام بھی تھا مگر اس کے آگے لکھا تھا:”تین سو سال پہلے گم ہوگیا!“۔

بدھ مت مےں لکھا ہے کہ تیس دیوتاﺅں کی جنّت میں وقت اس طرح سے گزرتا ہے کہ کرہ ارض کے سو سال وہاں کے ایک دن کے برابر ہوتے ہیں۔

سائنس کی دنیا میں ٹائم ٹریولنگ کے حوالے سے ایک واقعہ ” فلاڈیلفیا ایکسپیریمنٹ“کے نام سے کافی مشہور ہے، جسے حادثاتی ٹائم ٹریولنگ قرار دیا جاتاہے ۔ مبّینہ طور پر یہ واقعہ 1943ءمیںپیش آیا جب ایک امریکی بحری جہازکو دشمنوں کے راڈار سے غیر مرئی بنانے کے لیے ڈھک دیا گیا تھا۔ مگر بتایا جاتا ہے کہ یہ تجربہ بھیانک طور پر ناکام ثابت ہوا اور جہاز نہ صرف فلاڈیلفیا سے غائب ہوگیا بلکہ وہ پراسرارطور پر ہزاروں میل دور نارفوک جا نکلا۔ نہ صرف اتنا بلکہ وہ جہاز10سیکنڈ کے لیے ٹائم ٹریول پر بھی چلاگیا۔ جب وہ بحری جہاز دوبارہ ظاہر ہوا تو اس عملے کے کئی افراد گم ہو چکے تھے، کئی اپنا ذہنی توازن کھو چکے تھا اورکئی لوگوں نے بتایا کہ وہ کچھ لمحوں کے لیے اپنے ماضی میں چلے گئے تھے اور کچھ نے مستقبل دیکھنے کی بات کی اور جو واقعات ان کو ان لمحات میں پیش آئے تھے، وہ آگے چل کر ان کی زندگی میں واقعتاً وقوع پذیر ہوئے۔ اس تجربے کے پیچھے ریڈیوکمپنی آف امریکہ کی اس وقت کی ڈائریکٹر انجینئرنگ اینڈ ریسرچ نکولا تیسلاکا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔

1960 ءمیں ایک معروف سائنسدان پیلی گرینو ارنیٹی نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک مشین ”دی کرون وائزر“ ایجاد کی ہے جو انسان کو ماضی میں لے جاسکتی ہے۔ اس کا نظریہ تھا کہ جوبھی واقعہ ہوتا ہے ، وہ توانائی کی شکل میں اپنا ایسا نشان چھوڑجاتا ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کی مشین اس توانائی کا پتہ کرکے، اسے تصویر میں تبدیل کرکے پیش کرے گی، جیسے ٹی وی کرتا ہے۔

1980 ءمیںایک اور متنازعہ تجربے کی بازگشت سنائی دی، جسے” مونتاک پروجیکٹ“ کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں کچھ چیزوں کو وقت کے اندر سفر کرایا گیا تھا۔اس کی تفصیلات ا مریکی حکومت نے جاری ہونے نہیں دی تھیں۔

2004 ءمیں ایک انجینئراور معروف سائنس دان مارلین پوہل مین نے ایک سائنسی فارمولہ اپنے نام سے پیٹنٹ کرانے کی درخواست دی، جس کے تحت اس کے بقول وقت کو آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے اورکششِ ثقل کو بگاڑا جاسکتا ہے۔

ابھی گزشتہ برس ایک عرب سائنسدان وصفی الشیدفات نے time dilation and space compression مشین کے پیٹنٹ کی درخواست جمع کرائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی مشین ٹائم ٹریول کراسکتی ہے۔

کنیکٹی کٹ یونیورسٹی میں طبیعیات کے پروفیسررونالڈ لارین میلیٹ آجکل ایسے ہی ایک تجربے میں مصروف ہیں، جسے وہ ٹائم ٹریول کا نام دیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کی مدد لے رہے ہیں۔ ان کی پیشنگوئی ہے کہ انسانی ٹائم ٹریولنگ ہماری اسی اکیسویں صدی میں ممکن ہوجائے گا۔ ایک اور سائنسدان برائن کاکس بھی ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت جلد ٹائم ٹریول ممکن ہو جائے گا مگر یہ وقت کی کسی ایک جہت میں ہی ہوگا۔

ایران کے سنٹر فار اسٹریٹیجک انوینشنز کے مینجنگ ڈائریکٹر علی رازقی کی بیان کردہ ایک نہایت عجیب داستان بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ جو کچھ سال قبل منظر عام پر آئی تھی ۔ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی مشین تیار کر لی ہے جو مستقبل کی ہر جہت میں پانچ سال تک دیکھ سکتی ہے۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ علی رازقی نے جیسے ہی اپنی کامیابی کی بات انٹرنیٹ پر جاری کی، اگلے چند ہی گھنٹوں میں اس کی پوری کہانی نیٹ سے اُڑادی گئی!۔۔۔اور یہ معاملہ کئی بار دہرایا گیا۔

وقت میںسفر ایک نظریاتی تصوّر یا تصوّراتی نظریہ ہے، جس کے مطابق کسی جدید ترین مشین کا استعمال کرتے ہوئے زمان و مکان میں مختلف پوائنٹس کے درمیان منتقل ہوا جا سکتا ہے ۔ یہ فلسفے اور فکشن میں کئی طرح سے پیش کیا گیا ہے لیکن اس طرح کوانٹم میکینکس کے طور پر حقیقی دنیااور طبیعیات میںیہ ایک بہت ہی محدودتصوّر کے طور پرماناجاتاہے۔

ایچ جی ویلز کے 1895ءناول” ٹائم مشین سے سفر“سے پہلے اس طرح زمان و مکان میں سفرکی کہانیاں بڑی تعداد میں شائع ہو چکی تھیں۔ تاریخی اعتبار سے یہ تصور قدیم لوک کہانیوں کے ذریعے ہندو مت ، بدھ مت اور عیسائیت کے اساطیر میں بھی شامل دیکھا جاسکتا ہے۔ اسلام بھی اس کی ایک طرح سے توثیق کرتا ہے، جیسا کہ واقعہ معراج اور اصحابِ کحف کا واقعہ ہے۔

حالیہ عشروں میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور کائنات سے متعلق زیادہ سے زیادہ سائنسی تفہیم بڑھنے کے ساتھ ، سائنس فکشن لکھنے والوں ، فلسفیوں ، اور طبیعیات کے ماہروں نے زمان و مکان کے سفرکی زیادہ تفصیل سے توجیہہ کی ہے۔

ٹائم ٹریول کو حقیقتاً سمجھ لینا مشکل ہے مگر نظریاتی طور پریہ ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی سے یہ اب قریب لگنے لگی ہے۔ دُعا صرف یہ کرنی چاہیے کہ یہ غلط ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔

ٹائم ٹریول کے واقعات

دو امریکی تاجر اکتوبر 1969ءمیں ہائی وے 67 Lafayette پرایب وائل لوزیاناکی جانب ڈرائیوکرتے جا رہے تھے ۔ وہ بہت قدیم چیزوں کی تلاش کے شوق میں جارہے تھے کہ ان کو قدامت کے حوالے سے انسانی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔

ایک جگہ ان کو سڑک کنارے ایک قدیم ترین گاڑی کھڑی نظر آئی۔ تعجب کی بات یہ کہ اس گاڑی کا انجن اسٹارٹ تھا۔ وہ گاڑی بہترین حالت میں تھی اور اس کے اندر ایک عورت اپنے بچے سمیت موجود تھی۔ دونوں کا لباس 1940ءکے زمانے کا تھا۔ تاجروں نے گاڑی کی لائسنس پلیٹ کی طرف دیکھا تووہ بھی1940ءکے دنوں کی تھی۔ عجیب بات

یہ تھی کہ وہ عورت بہت الجھی ہوئی اور خوفزدہ نظر آرہی تھی۔ وہ لوگ اس کی مدد کرنا چاہتے تھے،اس لیے تاجروں میں سے ایک نے پوچھا:

” لیڈی! کیا آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے؟“۔

عورت نے اثبات میں جواب دیااور کہا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے ۔ تاجروں نے پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہیں؟۔اس پر عورت نے آگے کی جانب اشارہ کرکے ایسے کسی قصبے کا نام لیا جو ان کو سمجھ میں نہیں آیا۔ انہوں نے اپنی گاڑی کے پیچھے پیچھے آنے کا کہا اور سفر شروع ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد ان تاجروں نے دیکھا کہ اس عورت کی کار ان کے پیچھے آتے ہوئے اچانک غائب ہوگئی ہے۔ وہ اپنی گاڑی روک کر اس سے اتر آئے۔ قدیم کارکا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ راستے میں کوئی ذیلی سڑک یا موڑ بھی نہیں آیا تھا کہ انہیں شک ہوتا کہ وہ پراسرارعورت مڑگئی ہوگی۔ دونوں تاجر مشورہ کر کے واپس روانہ ہوگئے۔ جب وہ اس جگہ پہنچے، جہاں انہیں وہ قدیم گاڑی اور اس کے پُراسرار مسافر ملے تھے تو انہیں اسی قدیم کار کازنگ آلود، سالخوردہ ڈھانچہ سڑک کنارے پڑا نظر آیا۔ وہ اترکے اس کا معائنہ کرنے لگے تو یہ دیکھ کے ان پردہشت طاری ہوگئی کہ کارکی لائسنس پلیٹ وہی تھی جو وہ پہلے دیکھ چکے تھے!

وہ لوگ حیرت سے گنگ وہیں کھڑے تھے کہ ایک ٹرک وہاں سے گزرنے لگا۔ ڈرائیور نے دو اجنبی پریشانی میں دیکھے تو بریک لگا کے اترآیا اور ان سے مسئلہ پوچھا۔ تاجروں نے پوری رام کہانی کہہ سنائی تو ٹرک ڈرائیورکہنے لگا کہ ان کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ وہ اس تباہ شدہ کار کے ڈھانچے کو برسوں سے یہیں پڑا دیکھتا آرہا ہے۔ ڈرائیور نے البتہ اس بات کی تصدیق کی کہ جب اس گاڑی کا حادثہ ہواتھا تو سنا ہے کہ کوئی عورت ڈرائیوکر رہی تھی اور اس کے ساتھ اس کا معصوم بچہ بھی تھا!۔

کیا وقت میں سفر ممکن ہے؟

سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے Special Relativity کے نام سے ایک اصول تیارکیا تھا۔ اس اصول کو ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں تو اپنا نہیں سکتے مگر لیکن سائنس دانوں نے ان کی تصدیق کی ہے کہ یہ ممکن ہے ۔اس اصول میں کہا گیا ہے کہ زمان و مکان ایک ہی چیزکے دو پہلو یا جہتیں ہیں، جنہیں ملا کر space-timeکہا جائے گا۔ اگرکوئی بھی چیز اس” اسپیس - ٹائم “ میں سفرکرے گی تو اس کے لیے رفتار کی ایک حد مقرر ہے جو کہ 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ (یا ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوگی) یہ اصل میںروشنی کی رفتار ہے۔

آئن اسٹائن کا اصول Special Relativityکہتا ہے کہ جب کوئی انسان اسپیس- ٹائم کی معرفت حرکت کرتا ہے تو بہت حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ایک تو اس کی رفتا ر، روشنی کی رفتارکے برابر آجاتی ہے، دوسرے وقت اس کے مقابلے میں اپنی رفتار گھٹا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس انسان یا ” ٹائم ٹریولر“کے علاوہ کرہ ارض کے دوسرے تمام لوگ کی حرکات انتہائی سست ہوجاتی ہیں۔ ویسے ہماری دنیا کے لحاظ سے وہ نارمل ہوتے ہیں مگر اس ” ٹائم ٹریولر“کی رفتار سے وہ لاکھوں گنا آہستگی سے زندگی گزار رہے ہوںگے۔ وہ ” ٹائم ٹریولر“ بھی اس فرق کوتب محسوس کرسکیں گے ، جب واپس دھرتی پر آجائیں گے۔

فرض کیجیے کہ آپ ہی وہ ” ٹائم ٹریولر“ ہیں۔ آپ جب دھرتی کے مدار سے باہر نکلے تھے تو آپ کی عمر 15 سال تھی۔آپ کا خلائی جہازروشنی کی رفتار کے تقریباً متوازی یعنی 99.5کے تناسب سے سفر کررہا ہے۔ آپ خلا میں پانچ برس رہتے ہیں۔ اس طرح جب آپ واپس دھرتی پر آتے ہیں تو آپ کی عمر تو وہی 20 سال رہتی ہے مگر جن ہم عمر لوگوں کو آپ یہاںچھوڑ گئے تھے، ان کی عمر 65 سال ہو چکی ہے۔ کئی ریٹائر ہو چکے ہیں، کئی مر گئے ہیں اورکئی اپنے پوتوں نوسوں کو لیے کھلاتے پھر رہے ہیں!۔

یہ اس لیے ہوا کہ آپ کے لیے تو وقت کی رفتار گھٹ گئی تھی ، آپ نے صرف پانچ سال کا تجربہ حاصل کیا لیکن آپ کے ہم عمر لوگوں نے دھرتی پر نارمل زندگی گزارتے ہوئے نصف صدی گزار دی تھی!۔

اس طرح اگرآپ نے وقت میں اپنا سفر 2018ءمیں شروع کیا تو آپ کو تو پانچ ہی سال لگیں گے مگر اس فانی دنیا کے وقت کی رفتار سے یہ سفر 2068ءمیں پورا ہوگا۔ اس کو” وقت میں سفر“کہا جاتا ہے اور یہ فی گھنٹہ ایک گھنٹے سے زیادہ تیزی کی شرح سے مستقبل میں جانے کااصولی سائنسی طریقہ ہے۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ”مستقبل میں سفر“ممکن ہو جائے گا۔ اس کے لیے ان کو انتہائی جدّت کی حامل ٹیکنالوجی ڈویلپ کرنا پڑے گی۔ اس سے یہ بھی ممکن ہو سکے گا کہ ہم اپنی عمرِ عزیزکا ایک سال ٹائم ٹریول میں صرف کریں گے اور کائنات میں اسی عرصے کے دوران ایک ہزار برس کا تجربہ حاصل کرکے دھرتی پر واپس آجائیں گے!۔ یعنی یہ سفرآپ کو پورا ایک ملینیم آگے لے جائے گا۔

موٹل غائب ہوگیا!

1979ءمیں ، ایک برطانوی جوڑا جو فرانس کے شمال میں چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا، وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے رات بسرکرنے کے لئے کوئی جگہ تلاش کر رہاتھا۔ وہ ایسی جگہ

پہنچے،جہاں سڑک کے کنارے ایک موٹل تھا۔وہاں کچھ لوگ کھڑے تھے، جن سے اس جوڑے نے پوچھا :

”یہاں رات بسرکرنے اورکھانے پینے کے لیے کچھ مل جائے گا؟“۔

” یقینا۔۔۔کھانا، کافی، سب کچھ مل سکتا ہے“۔ ایک شخص نے انہیں جواب دیا تو وہ گاڑی کھڑی کرکے موٹل کے اندر چلے گئے۔ یہ ایک پرانے طرزکی عمارت تھی، جہاں لکڑی کا بھاری فرنیچرپڑا تھا۔ موٹل میں ٹیلی فون یاجدید زندگی کی دیگر سہولیات موجود نہ تھیں۔ خیر، ان کو وہاں جگہ مل گئی۔کمرے کے دروازے پر قفل یا ہضمی لاک کے بجائے لکڑی کے بنے کمانی دارکھٹکے) (latches لگے تھے۔کھڑکیوں پر بھی گلاس شٹرکے بجاے تختے ٹھکے ہوئے تھے۔ اگلی صبح ناشتے کے وقت ، انہوں نے بہت قدیم دور کے لباس میںکئی آدمیوں کو دیکھاجو وہاںگھوم پھر رہے تھے اور سروس بھی دیتے پھر رہے تھے۔ جب انہوں نے ڈٹ کر ناشتہ کرلیا تو حیرت انگیز طور پر ان کے ٹھہرنے اور کھانے پینے کا بِل صرف 19فرانکس کاآیا۔

اگلے برس وہی جوڑا واپس اسی راستے سے گزرنے لگا تو سوچا کہ اسی سستے موٹل میں رک کر یاد تازہ کی جائے۔ جب وہ اس مقام تک پہنچے تو انہیں وہاں پچھلے برس والے موٹل کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ انہوں نے میلوں آگے پیچھے جاکے تلاش کیا مگرموٹل کو ملنا تھا، سونہ مل سکا۔ اس مقام کے قریب جو آبادی تھی، وہ میاں بیوی اس میں چلے گئے اور انہوںنے پچھلے برس اس موٹل کی جو تصاویر لی تھیں، وہ لوگوں کو دکھائیں مگر کوئی بھی وہاں کسی موٹل کی موجودگی سے آگاہ نہ تھا۔ یا حیرت!

اس چھوٹی سی فرانسیسی بستی کے ایک بوڑھے سے رابطہ کیا گیا اور اس کو وہ فوٹوگراف دکھائے گئے تواس نے یہ حیرتناک انکشاف کیا کہ 1905ءتک اس جگہ واقعی ایک موٹل تھا مگر آگ لگنے سے وہ راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا۔ اس کا ملبہ بھی بعد میں وہاں سے ہٹادیاگیا تھا۔ تصویروں میں موٹل کے بیروں نے جو یونیفارم پہنی ہوئی تھی، وہ بھی 1905ءاور اس سے پہلے کے دنوں میں رائج ہوتی تھی۔

وہ میاں بیوی اتنے دہشت زدہ ہوئے کہ واپس برطانیہ چلے گئے اور وہاں جاکر مختلف ماہرین سے اس واقعے سے متعلق گفتگوکی۔ انہیں بتایا گیاکہ انہوں کسی نہ کسی طرح نادانستگی میں ، وقت کے اندر واپسی کا سفرکیا تھا۔

جاپانی مچھیرا تین صدی آگے نکل گیا

وقت میں آگے بڑھنے کا تصور، حالیہ تصور نہیں ہے بلکہ قدیم لوک کتھاﺅں اور بہت سی دیومالاﺅں میں یہ موجود ہے ۔ مثلاً ایک جاپانی داستان میں ایک مچھیرے Urashima کاکردار، ایک مچھلی کی پیٹھ پر بیٹھ کر پانی کے اندر موجودڈریگن دیوتا کے ایک محل میں جاتا ہے۔ محل میں تین دن گزارنے کے بعد وہ جب اپنے گھر واپس آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ان تین دنوں کے دوران تین سو سال گزر چکے ہیں۔ دُنیا بدل چکی ہے،ا س کے گھر والے اور عزیزو اقارب اب اس کے آباﺅ اجداد بن چکے تھے، جن کے نام خاندانی شجرے میں موجود تھے۔اس شجرے میں اس کا پنا نام بھی تھا مگر اس کے آگے لکھا تھا: ”تین سو سال پہلے گم ہوگیا!“۔

واشنگٹن ارونگ کی کہانی

واشنگٹن ارونگ کی 1819ءکی کہانی” رپوانز  وِنک " میں ہیروایک پہاڑ پر نیند کی ایک جھپکی لیتا ہے اور وہ بیس سال بعد جاگتا ہے۔ اس دوران اس کی بیوی مر چکی ہے اور بیٹی، جسے وہ گھٹنیوں گھٹنیوں چلتا چھوڑگیاتھا، وہ جوان ہوچکی ہوتی ہے ۔

مگر ایسا کرنا کون چاہے گا؟۔

یہ توو ہی کرے گا، جس کا اِس دنیا میں کوئی بھی نہ ہو۔۔۔کوئی رشتہ، کوئی ناتا نہ ہو، تبھی وہ ایک ہزار سال کی سفری چھلانگ مارنے پر آمادہ ہو سکے گا۔ ورنہ اس رشتوں بھری دنیا کو کون چھوڑنا چاہے گا؟۔ وہ بھی پورے ہزار سال کے لیے!۔ ایسا ” وقت کا مسافر “جب دس صدیاں گزار کے آئے گا تو دنیا میں ٹیکنالوجی کہیں کی کہیں پہنچ چکی ہوگی۔کیا خبر اس دوران قیامت بھی آچکی ہو! پھر وہ وقت سے آگے نکل جانے والا وقت کا مسافرکہاں جائے گا؟۔


ای پیپر