Source : File Photo

بے داغ سیاسی رہنمابیگم کلثوم نواز
18 ستمبر 2018 (23:19) 2018-09-18

ہمایوں سلیم :

قانون قدرت ہے کہ جو انسان اس جہاں میں آتا ہے، آخر رخصت بھی ہوتا ہے، کوئی ہمیشہ نہیں رہتا، ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے،کسی کو دوام حاصل نہیں سوائے ذات باری تعالیٰ کے۔ اسی قانون قدرت پر لبیک کہتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی شریک حیات اورسابق رکن قومی اسمبلی بیگم کلثوم نواز بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ مرحومہ کینسرکے مرض میں مبتلا اور لندن کے ہارلے ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔

تین بار پاکستان کی خاتونِ اوّل رہنے والی بیگم کلثوم نواز 2 جولائی 1950ءکو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ کلثوم ریحانہ بٹ زمانہ رستم زماں گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہورکے مقامی سکول سے حاصل کی۔ 1970ءمیں اسلامیہ کالج اور 1972ءمیں ایف سی کالج سے ڈگری حاصل کی جبکہ بعد ازاں جامعہ پنجاب سے اردو ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ وہ 1971ءمیں میاں محمد نواز شریف کے ساتھ رشتہ¿ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ 2017ءمیں نواز شریف کی نااہلی کے بعد کلثوم نواز نے این اے 120 سے ضمنی الیکشن لڑا اور قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں لیکن صحت کی خرابی کے باعث کوئی فعال کردار ادا نہ کر سکیں۔ الیکشن کیلئے نامزدگی کے فوراً بعد انہیں لندن منتقل کیاگیا جہاں کینسرکی تشخیص ہوئی۔ رواں برس جون میںان کی حالت تشویشناک ہوگئی جس کے انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا، ان کی حالت سنبھل نہ سکی اور وہ 11ستمبر بروز منگل خالق حقیقی سے جا ملیں۔

سیاسی مبصرین بیگم کلثوم نواز کو ایک نفیس،بہادر اور دبنگ خاتون قرار دیتے ہیں کہ جس طرح اُنہوں نے مسلم لیگ پر آنے والی مصیبت اور مشکل کا جرا¿ت اور حوصلے سے سیاسی محاذ پر حالات کا مقابلہ کیا اُسی طرح وہ کینسر جیسے موذی مرض سے نبردآزما رہیں۔ انہوں نے اس دور میں نواز لیگ کی قیادت کی ،جب 1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور نواز شریف کی وزارت عظمیٰ ختم کرکے انہیں جیل بھجوا دیا۔ اس دور میں بیگم کلثوم کی گاڑی کو کرین سے ہوا میں معلق کرنے والی تصویر جب قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہوئی تو یہ تصویر بیگم کلثوم کی سیاسی جدوجہد و احتجاج کی علامت کے طور پر مشہور ہوئی۔ یہ مارشل لاءکا انتہائی سخت دور تھا لیکن وہ اپنی پارٹی کا جھنڈا اٹھائے آواز بلند کرتی رہیں۔ انہوں نے سخت پابندیوں میں پورے ملک کے دورے کیے ، مذکورہ تصویر اسی جدوجہد کے دوران اُتاری گئی جب وہ گھر سے نکلیں تو انہیں روکنے کیلئے ان کی گاڑی کو اُٹھا دیا گیا لیکن بیگم کلثوم کئی گھنٹے اسی حالت میں گاڑی کے اندر رہیں اور باہر آنے سے انکار کر دیا۔ سیاسی پنڈت مانتے ہیں کہ انہوں نے پرویزمشرف آمریت کا مقابلہ بہادری سے کرکے ثابت کر دیاکہ وہ مشہور زمانہ گاما پہلوان کی اولاد ہیں۔ یقینا بیگم کلثوم نواز شریف خاندان ایک فورس کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اسی لئے سابق وزیراعظم ان کی شوہر نواز شریف بھی ان کی بات توجہ سے سنتے تھے۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد گزشتہ سال ملکی سیاست میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ شاید اب بیگم کلثوم نواز کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سونپ دی جائے گی ، ممکن ہے ایسا ہو بھی جاتا لیکن انہی دنوں جب وہ چیک اپ کیلئے لندن گئیںتو بدقسمتی سے انہیں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹروں نے فوری علاج شروع کر دیا لیکن وہ صحت یاب ہو کر واپس اپنے گھر آنے کے بجائے آخری آرام گاہ پہنچ گئیں۔ نواز شریف کی عدالت سے نااہلی کے بعد لاہور کے حلقہ 120 کی نشست خالی ہوئی تو سیاسی پنڈتوں کا عام خیال یہ تھا کہ یہ نشست کیونکہ گزشتہ تیس سال سے مسلم لیگ (ن) کی ہے چنانچہ یہاں سے اُمیداوار کوئی بھی ہو فتح مسلم لیگ (ن) کی ہی ہوگی۔ لیکن جب الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو یہ کہا جانے لگا کہ مسلم لیگ کی اُمیدوار اگر کلثوم نواز نہ ہوتیں تو شاید مسلم لیگ ن کمے لیے سیٹ بچانا بہت مشکل ہوجاتا۔ یا پھر عین ممکن تھا کہ مسلم لیگ کا اگر کوئی دوسرا امیدوار ہوتا تو وہ ہار جاتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بیگم کلثوم اپنے علاج کیلئے لندن نہ ہوتیں اور مریم نواز کے بجائے اس حلقہ میں اپنی مہم خود چلاتیںتو ممکنہ طور پر مسلم لیگ (ن) اس سے بہتر انتخابی نتائج حاصل کرسکتی تھی۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ کلثوم نواز صاحبہ پی ایچ ڈی ڈاکٹربھی تھیں۔ انہوں نے فلاسفی میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی تھی، یہ اعزاز بھی پاکستان کی سیاست میں انہیں ہی حاصل ہے کہ مسلم لیگ ن کی سیاسی تاریخ میں وہ پہلی خاتون ہیں جو 1999ءسے 2002ءتک پارٹی کی صدارت کے عہدے پر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ تین دفعہ 1990ءسے 1993ء،1997ءسے 1999ءاور پھر 2013ءسے 2017ءتک پاکستان کی خاتون اول بھی رہیں۔

بیگم کلثوم نوازکھل کر مشرف دور میں میدان سیاست میں آئیں ۔ ان کا سیاسی سفر اگرچہ انتہائی مختصر تھا لیکن یہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوا۔ بیگم کلثوم نواز نے مشرف دور میں مختصر تاریخی جدو جہدکرکے یہ تاثر مٹا دیا کہ سیاست گھریلو خاتون کے بس کی بات نہیں۔وہ نواز شریف خاندان کی وہ غیر متنازعہ شخصیت تھیں جنہیں بدترین سیاسی مخالفین بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ تین بار خاتون اوّل رہنے والی کلثوم نواز ایک مکمل گھریلو خاتون تھیں لیکن حالات نے جب انہیں سیاست میں دھکیلا تو وہ ایک باصلاحیت اور مدبر سیاست دان کے طور پر سامنے آئیں۔ مشرف دور میں شریف خاندان پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کو بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف جھیلا بلکہ اُن کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا، بڑے بڑے ساتھ چھوڑگئے تو انہوں نے مجلس تحفظ پاکستان کے نام سے ایک فورم بنایا، بیگم تہمینہ دولتانہ، ظفر اقبال جھگڑا اور سعد رفیق جیسے دیرینہ کارکنوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا۔

لاہور سے پشاور تک کاروان تحفظ پاکستان کا اعلان کیا تو آمرکی حکومت نے ان کو رہائش گاہ کا محاصرہ کرلیا ، رہنما گرفتار ہوگئے لیکن بیگم کلثوم نوازکسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئیں تاہم انہیں چند کلومیٹر دور روک لیاگیا اورانہیں لفٹر کے ذریعے گاڑی سمیت اٹھا لیا گیا۔ کلثوم نواز نے پھر بھی ہمت نہ ہاری، سیاسی حکمت عملی اپنائی اور نوابزادہ نصر اللہ کے ہاں جا پہنچیں، آمریت کے خلاف قائم سیاسی اتحاد جی ڈی اے میں ن لیگ کی شمولیت پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو آمادہ کر لیا لیکن طاہر القادری اور عمران خان ناراض ہو کر اتحاد چھوڑگئے، اس طرح جی ڈی اے ٹوٹا تو اے آر ڈی کے نام پر نیا اتحاد معرض وجود میں آیا۔ اے آرڈی بننے کے تھوڑے دن بعد ہی شریف خاندان کے تمام افراد جیلوں سے رہا کرکے جدہ بھیج دئیے گئے، نواز شریف کی رہائی کے بعدکلثوم نوازنے سیاست سے کنارہ کشی اختیارکر لی۔ 2007ءمیں وطن واپسی کے بعد بھی وہ سیاست سے دور رہیں۔2013ءمیں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم اورکلثوم خاتون اوّل بنیں لیکن پھر بھی سیاست میں متحرک نظر نہ آئیں۔ پانامہ اسکینڈل میں نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد ان کا سیاسی کریئر ایک بار پھر جاگا، اپنے خاوندکی نشست پر انتخاب لڑا لیکن بد قسمتی سے کینسرکے موذی مرض نے گھیر لیا۔ انہوں نے الیکشن تو لڑا لیکن عملی طور پر میدان میں نا آ سکیں، یہاں تک کے حلف بھی نہ اٹھا سکیں، 1950ءمیں جنم لینے والی بیگم کلثوم نوازنے بیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر ہمیشہ کے لئے دنیا کو خیربادکہہ دیا۔

گوکہ لندن میں بیگم کلثوم نوازکے علاج کے دوران بعض سیاسی مخالفین کی جانب سے کچھ ایسے بیانات سامنے آئے جو سیاسی وجوہ کی بنا پر سنجیدگی کے دائرے سے باہر تھے، لیکن ان کی وفات کے بعد تمام سیاسی رہنماو¿ں کی جانب سے گہرے رنج والم کا اظہارکیاگیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ان کی وفات پر اظہار خیال میں کہا کہ ”وہ انتہائی باوقار خاتون تھیں اور انہوں نے بہادری سے بیماری مقابلہ کیا“۔ اس کے علاوہ صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ،کرکٹر شاہد خان آفریدی،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری،مولانا فضل الرحمان، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، فاطمہ بھٹو ،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، سینیٹر رحمان ملک اور دیگر اہم شخصیات نے بھی بیگم کلثوم نوازکی وفات پر دُکھ اور تعزیت کا اظہارکیا ۔

بیگم کلثوم نوازکی موت سے جہاں ان کے اہل خانہ ایک شفیق فرد سے کوکھو بیٹھے ہیں وہاں پوری قوم بھی ایک نفیس، سنجیدہ اور غیر متنازعہ شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔


ای پیپر