میٹھی جیل(8)
18 ستمبر 2018 2018-09-18

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج آٹھویں قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                                                                  پیاسی ہوئی ہے پیاس بھی دجلہ کی پیاس میں

                                                                                                                           رویا میرے حسین کی خاطر فرات بھی

                                                                                                                                                                                                                                               (طاہر حنفی)

اور

فنا کے آخری لمحے تلک حسین مرے !

رہے گی غم میں ترے کائنات شرمندہ

(ناصرہ زبیری)

محرم الحرام کے پہلے عشرے میں بالخصوص قربانی امام حسین کے ذکر کے بغیر تو کوئی بھی بات مکمل نہیں ہوتی مگر افسوس کہ بات تو سبھی کرتے ہیں لیکن ان کے کردار کی پیروی کے وقت سامنے کوئی نہیں آتا،بات کرنے سے آسان کام کوئی نہیں، اصل اہمیت تو عمل کی ہے اپنے آپ کو ڈھالنے کی ہے۔ بدقسمتی سے ہم مسلمان من حیث القوم یا امت کے طور پر تقریریں تو بہت کرتے ہیں لیکن ہمارے اندر سے منافقت، بے ایمانی ،لالچ ، جھوٹ اور حصول زر کی حرص ختم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے ،مغرب نے اسلام اور خلفا¾ راشدین کے طریق اپنا کرویلفیئر سٹیٹس بنائیں جبکہ ہم نے ظلم پر مبنی نظام کھڑے کیے ۔یورپ اور امریکا کی ریاستوں تک پہنچنا اور وہاں زندگی بسرکرنے کی خواہش دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوانوں کےلئے بھی ایک طرح سے مقصد حیات بنتی جارہی ہے۔ ان ممالک میں پہنچنے کے لئے ہمارے نوجوان ہرطرح کے حربے استعمال کرتے ہیں ،کاغذات میں ہیر پھیر،کشتی کا غیر قانونی سفر ، مسلح سرحدی محافظوں کی موجودگی میں جان کا جوا¾ کھیلتے ہوئے ایک سے دوسرے پھر وہاں سے تیسرے اور چوتھے ملک کی سرحدیںعبورکرنا مذاق نہیں ،جان جوکھم میں ڈالنی پڑتی ہے،چند خوش نصیب ہی اپنا گوہر مقصود حاصل کرنے یا امریکا پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں،امریکا پہنچنے کے بعد بھی امتحان ختم نہیں ہوتا کہ غیر قانونی طور پر وہاں چلے تو آپ جاتے ہیں لیکن پھر یہ ایک میٹھی جیل کی قید ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے قید ہی رہتے ہیں ماں ،باپ ،بہن ،بھائی اور دیگر پیاروں کے ساتھ رشتہ صرف فون کا ہی رہ جاتا ہے کہ امریکا میں صرف عام مزدوری کرکے آپ کو ماہانہ جتنے پیسے کمانے کاموقع ملتا ہے وہ پاکستان میں تو ممکن ہی نہیں ہوتا لیکن شدید ضرورت کے تحت بھی آپ امریکا چھوڑ کر پاکستان نہیں آتے کہ اس کے بعد آپ کو یقین نہیں کہ آپ دوبارہ اس زمین پر واپس آبھی پائیں گے یا نہیں۔اس میٹھی جیل میں آپ کو اپنے پیاروں کی ضرورتیں قید رہنے پر مجبور کرتی ہیں کچھ وہاں کی آزادی بھی دل کو اچھی لگتی ہے ،سمجھ لیجئے کہ اکثر لوگ وہاں سے واپس نہیں آتے۔آج اس میٹھی جیل امریکا میں رہنے والے لاکھوںپاکستانیوں میں سے وحید اقبال کی داستان آپ کو سناتے ہیں۔

وحید اقبال کا تعلق یکہ توت پشاور سے ہے،اسے آٹھویں کلاس سے ہی امریکا سے یک طرفہ محبت ہوگئی تھی،سوتے جاگتے امریکا اس کے حواس پر سوار تھا لیکن کوئی خاص وسائل نہیں تھے،بہت ہی عام سا گھرانہ تھا اور وحید کے پاس سوائے شوق کے اور کوئی زاد راہ نہ تھا ۔1995میں وحید نے اکیس سال کی عمر میں فیصلہ کیا کہ اسے امریکا جانا چاہیے ،سو اس نے پہلا ویزا تھائی لینڈ کا حاصل کیا اور بنکاک پہنچ گیا ،اس زمانے میں ملائیشیا کو بھی روزگار کمانے کے لئے اچھے ممالک میں شمار کیا جاتا تھا تو اس نے طے کیا کہ وہ یہاں سے ملائیشیا جائے گا، اس نے خالصتا پاکستانی انداز میں وہاں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کی اور پکڑا گیا ،اس کی خوش قسمتی کہ وہاں بھی پیسے کے ساتھ معاملات حل کیے جاسکتے ہیں سرحدی محافظوں نے پیسے لے کر اسے واپس تھائی لینڈ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی لیکن وحید نے پھر حوصلہ کیا اور کچھ پیسے دے کر دونمبر ملائی ویزا پاسپورٹ پر لگوایا اوراس کی بنیاد پر ایک نمبر ملائی انٹری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تاہم ملائیشیا پہنچ کر پتہ چلا کہ یہاں پر حالات اس طرح سازگار نہیں جیسے اس نے پاکستان میں سنے تھے ویسے بھی ان دنوں ورک پرمٹ حکام نے بند کررکھے تھے ،ادھر ادھر دھکے کھاکر اسے واپس پاکستان آنا پڑا لیکن اس دوران اس نے ہمت نہیں ہاری تھی ،پاکستان واپسی کے بعد اگلی مرتبہ اس نے سیدھا ملائیشیا کا ویزا اپلائی کیا جو اسے مل بھی گیا تاہم اس کا خیال یہی تھا کہ وہ وہاں سے امریکا جانے کے لئے کچھ پیسے کمائے گا اور پھر وہاں سے امریکا جائے گا۔ کوالالمپور کے ہوئی اڈے پر اترتے وقت اس مرتبہ اس کے پاس پشاور کے ایک دوست کا نمبر تھا جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ کوئی مدد کرے گا۔ وحید نے مجھے بتایا کہ جب وہ لینڈ کرنے کے بعد ائیر پورٹ کے پاس موجود فون بوتھ سے نمبر ملا رہا تھا تو اس کے دماغ کے کسی گوشے میں ا ن حالات کا تصور نہ تھا جن سے بعد میں اسے نبردآزما ہونا پڑا ۔ جو نمبر اس کے پاس موجود تھا وہ کسی نے اٹینڈ نہیں کیا جس کے بعد وہ ائر پورٹ کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور سوچا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد نمبر ٹرائی کرتا رہے گا ۔ اتنے میں اس کے پاس سے ایک سکھنی کا گذر ہوا جو اس کی فلائٹ میں اس کو ملی تھی، اس نے پوچھا کہ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو، جس پر اس نے بتایا کہ جس دوست کا نمبر اس کے پاس ہے اور جہاں اسے ٹھہرنا ہے وہ نمبر اٹینڈ نہیں ہورہا، سکھنی نے بطور ہمدردی اسے مدد کی پیشکش کی جو وحیدنے ٹھکرا دی کہ اسے ماں نے کسی انجان آدمی کے ساتھ جانے سے منع کیا تھا ۔ وہ خاتون وہاں سے چلی گئی اور وحید ایک مرتبہ پھر فون اور انتظار کے کھیل میں مصروف ہوگیا ۔ تین گھنٹے گذرنے کے بعد بھی رابطہ نہ ہوسکا تھا اور وحید کو یہ رات فٹ پاتھ پر گذرتی نظر آنے لگی۔ ایسے میں وہ سکھنی اپنے شوہر کے ساتھ ایک مرتبہ پھر وہاں پر آئی اور اس نے وحید کو ساتھ چلنے کو کہا، کوئی چارہ نہ دیکھ کر وحید بھی اس مرتبہ جانے پر آمادہ ہوگیا ،گاڑی میں سامان رکھا اور وحید ان انجان لوگوں کی گاڑی میں بیٹھ گیا کہ جو جانا پہچانا آدمی تھا وہ تو فون اٹھانے کا بھی رودار نہ تھا گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ وحید کے دل کی دھڑکن بھی بے ترتیب ہوتی جارہی تھی کہ نئے شہر میں اسے انجان لوگوں کے ساتھ جانا پڑ گیا کہ اس کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ (جاری ہے)


ای پیپر