مولانا فضل الرحمن کی کراچی پہنچتے ہی اہم شخصیت سے رابطہ ،پیغام مل گیا 
18 اکتوبر 2020 (16:53) 2020-10-18

کراچی :پی ڈی ایم کے کراچی سیاسی پاور شو میں شمولیت کیلئے جہاں مریم نواز مزار قائد  پر حاضری دی  وہیں پی ڈی ایم کےصدر مولانا فضل الرحمن نے کراچی پہنچتے ہی اہم سیاسی شخصیت سابق صدر آصف علی زرداری سے ملنے کلفٹن کے  نجی ہسپتال پہنچ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمن کراچی پہنچتے ہی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے ہسپتال پہنچ گئے ،جہاں دونوں رہنمائوں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی ،دونوں رہنمائوں نے اس موقع پر ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا ،ذرائع کا کہنا ہے کراچی کے جلسے میں آج کوئی بڑا اعلان بھی متوقع ہے ۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں کی آج کے جلسے پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ساتھ ہیں‌ اور ساتھ مل کر جدوجہد کو آگے بڑھائیں‌ گے،ملاقات میں‌ حکومت مخالف تحریک آگے بڑھانے، مزید جلسوں‌ سمیت دیگر آپشنز زیر غور آئے.

اس سے قبل مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کراچی کو ماضی میں بھی خون سے نہلایا گیا، مولانا عادل کے قاتلوں کی اب تک گرفتاری نہیں ہوئی،کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے جس کی اچھی ابتدا ہوئی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی جس کے نتیجے میں یہ حکومت وجود میں آئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے پاور شو کے دوران گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام اپنے خون پسینے سے جمہوریت کی خوبصورتی کو تابناک کرنے نکلے ہیں، آنے والے دنوں میں جمہوریت تابناک ہوگی،ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا، جعلی حکمران اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں، انشاﷲ یہ آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمہوریت پسند قوتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں، ان کے اوسان خطا ہوچکے، ہمت جواب دے چکی ہے، پہلوان اکھاڑے میں اتر چکے ہیں، آپ کو پچھاڑنا آتا ہے،پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب عوام کا سمندر کراچی، کوئٹہ، لاہور، ملتان اور پشاور میں آئے گا ، جعلی حکمران کو تخت پر بٹھایا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جمہوریت کے قتل کا مجرم کون ہے؟ تحریک اب چل پڑی ہے، یہ سفر منزل پر جا کر ہی دم لے گا۔


ای پیپر