نیا باب
18 اکتوبر 2020 (11:32) 2020-10-18

کئی حوالوں سے نئی تاریخ لکھی گئی…… بارش کا پہلا قطرہ طوفان بلاخیز کا پیغام لے کر آیا جو آئندہ چند ہفتوں کے اندر پوری سرزمین وطن کو جمہوریت کی فصل اگانے کی خاطر سیراب کر دے گا اور بہت سا خس و خاشاک بہا کر لے جائے گا…… اس کی کوکھ سے جنم لینے والی پہلی سیاسی تحریک ہو گی جو پنجاب سے اٹھے گی اور تمام صوبوں کو اپنے ساتھ ملا لے گی…… ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا…… ماضی کی تحریکیں ہمیشہ دوسرے صوبوں سے اٹھیں پنجاب کا انتظار رہتاتھا…… کب یہاں کے لوگ بیدار ہو کر سیل رواں کا حصہ بنیں گے اور پانسہ پلٹ دیا جائے گا…… مگر اس مرتبہ پنجاب پیش پیش ہے…… لاہور سب سے آگے ہے…… تمام صوبوں کی جمہوریت دوست قیادت یہاں کی ایک آواز پر جمع ہو گئی ہے…… مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ برس اتنا بڑا اور حیران کن حد تک آزادی مارچ کیا…… اپنی تعداد اور شرکاء کے ڈسپلن کے لحاظ سے مثالی تھا…… لیکن اہل پنجاب نے وہ گرمجوشی نہ دکھائی جس کی مولانا کو توقع تھی…… آزادی مارچ بظاہر کامیاب نظر آتاہوا ناکام ہو گیا…… مگر اب کہ مولانا اہل پنجاب اور ان کی مقبول ترین سیاسی قیادت مسلم لیگ (ن) کے گھوڑے پر شہ سواری کرتے ہوئے گوجرانوالہ میں منعقدہ ’پی ڈی ایم‘ کے پہلے جلسہ میں پہنچے تو وہاں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ان کا منتظر تھا…… یہ سب وسطی پنجاب کے کونے کونے سے اکٹھے ہو کر یہاں جمع ہوئے تھے…… لندن میں بیٹھا پنجاب سے جنم لینے والا فرزند پاکستان نوازشریف کی جسے جتنی مرتبہ اقتدار سے نکالا گیا اتنی مرتبہ زیادہ طاقت سے ابھر کر مطلع سیاست پر چھا گیا اپیل انہیں یہاں کھینچ لائی تھی…… اس کی سیاسی وارث کے طور پر ابھرنے والی بیٹی مریم نواز سٹیج پر عظیم الشان مجمع کے سامنے کھڑی حاضرین کے جوش و خروش میں اضافہ کر رہی تھی…… نئی سیاسی کرشماتی شخصیت کی حیثیت سے ان کے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جذبوں کو حوصلہ دے رہی تھی…… ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بے نظیر کا بیٹا یعنی سندھ کے سب سے بڑے سیاسی خاندان کا چشم و چراغ بلاول اس کے ساتھ کھڑا ہاتھ ہلا ہلا کر اہل پنجاب کے نئے اور جرأت مندانہ رخ کردار اور انقلابی جذبوں کو داد دے رہا تھا…… صوبہ خیبر پختونخوا سے ’اے این پی‘ کے افتخار احمد خان اور بلوچستان کے حساس ترین صوبے جہاں کچھ لوگ پنجابیوں کے خلاف جذبات کو ہوا دینے میں لگے رہتے ہیں محمود خان اچکزئی اور ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی جیسے فائر برانڈ پارٹیوں کے رہنما پانچ دریاؤں کی سرزمین کے بحر میں نیا تلاطم دیکھ کر مسرت اور حیرانی کے ملے جلے جذبات لئے سب کے ساتھ شیروشکر کھڑے تھے…… پنجابی ان کے دلوں کی آواز بنے ہوئے تھے…… ہر ایک نے تاریخ کا نیا اور سیاسی لحاظ سے روح پرور باب رقم ہوتے دیکھا…… گوجرانوالہ کا ایوان ہائے حکومت و اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر دینے والا جلسہ مابعد کراچی، کوئٹہ، ملتان اور پشاور کے مشترکہ جلسوں کا پیش خیمہ بنتا نظر آ رہا تھا…… پاکستانی قوم صرف جسمانی نہیں اپنی روح کے لحاظ سے بھی ایک نظر آ رہی تھی…… اس جمہوری انقلابی عمل کی ابتداء گوجرانوالہ سے ہوئی…… منتظمین کے پروگرام کے مطابق آخری اور فیصلہ کن جلسہ عام بھی ماہ دسمبر تک ملک کے ثقافتی و تہذیبی دارالحکومت اور پنجاب کے مرکز صوبائی اقتدار لاہور میں منعقد ہو گا…… مؤرخین تادیر اس صوبے کی جو ہمارے قابل فخر فوجی جوانوں کا سب سے بڑا مقام مولود ہے، جسے کبھی سامراجی قوتیں اپنا سب سے بڑا مرکز امید سمجھتی تھیں اور آزادی کے بعد آمرانہ طاقتوں کو یہیں سے سب سے زیادہ سہارا ملتا تھا…… اب آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی حقیقی معنوں میں بحالی کی خاطر ملک گیر تحریک کا نقطہ 

آغاز بلکہ DRIVING FORCE بن چکا تھا…… نوازشریف کی اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مار کھا کر پوری قوت کے ساتھ زندہ و تابندہ رہنے والی سیاست کی یہ سب سے بڑی دین ہے جس کا مظاہرہ پرسوں جمعہ کی شام کو جی ٹی روڈ کے وسط میں واقع گوجرانوالہ شہر میں دیکھا گیا ہے…… گکھڑ جس کے نزدیک ہے اور لاہور سے اسلام آباد جائں ی تو پہلا قدم گوجرانوالہ میں پڑتا ہے…… 

ویڈیو لنک پر نوازشریف کا خطاب بلاشبہ حاصل کلام تھا…… ان کی 25 ستمبر کو ’اے پی سی‘ میں کی جانے والی تقریر کا تسلسل، ٹیلی ویژن کے کچھ مبصرین نے بے پرکی اڑا رکھی تھی بیانیے میں فرق آ جائے گا…… اس سلسلے میں لاہور تا گوجرانوالہ سفر کے دوران مریم بی بی کو ہدایات بھی جاری کرا دی گئی ہیں …… نئے نوٹس لکھوا دیئے گئے ہیں …… لیکن سابق اور تین مرتبہ برطرف شدہ وزیراعظم نے زبان کھولی تو یوں کہیے وہی شعلہ بیانی اور وہی للکار تھی…… غیرآئینی طاقتوں کے ان افعال کا ایک مرتبہ پھر پردہ چاک کر دیا گیا جن کی وجہ سے اس ملک میں بار بار آئین توڑا گیا…… جمہوریت کو بوٹوں تلے رگید کر رکھ دیا گیا…… انتخابات چرا لئے جاتے رہے…… اگر کوئی منتخب حکومت برسراقتدار آئی تو اسے چلنے نہ دیا گیا…… اس سارے عمل کے نتیجے میں کوئی معاشی یا دوسری پالیسی برسرعمل نہ آ سکی…… اس کے مثبت پہلو نتائج نہ سامنے آئے…… ثمربار نہ ہوئے…… اسٹیبلشمنٹ میں منتخب اور اہل حکمرانوں کو زبردستی ہٹا کر مرضی کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب اور نااہل حکمرانوں کو زبردستی ہٹا کر مرضی کے انتخابات کے نتیجے میں نااہل ٹولے کو ملک و قوم پر مسلط کر دیا…… آج جو مہنگائی ہے…… بے روزگاری عام ہے…… بے چینی کی کیفیت ہے…… سب اسی کی وجہ سے ہے…… لہٰذا عمران حکومت کی بازپرس کے ساتھ ان قوتوں کا بھی محاسبہ ہونا چاہئے جنہوں نے اسے ہم پر مسلط کیا…… تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کے یہ خیالات اگرچہ نئے نہیں لیکن جلسے کے مقررین اور سامعین کی اگلی جدوجہد متعین کرنے کے لئے مددگار تھے…… لیکن ڈیڑھ لاکھ کے قریب حاضرین جلسہ نے تو انہیں سن لیا مگر بقیہ ملک کے لوگ الفاظ کو براہ راست سن نہ پائے…… مگر بھلا ہو سوشل میڈیا کی ”اعجاز آفرینی“ کا چند لمحوں کے اندر تقریر کا لفظ لفظ یوٹیوب کے ذریعے وائرل ہو کر نہ صرف ملک کے ہر خاص و عام کے اذہان و قلوب تک رسائی حاصل کر گیا بلکہ بیرونی دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کی تشنگی کا بھی اس نے سامان کر دیا…… پھر پابندی لگانے کا فائدہ؟ ماسوائے اس کے اپنی جھوٹی اور حاکمانہ انا کی تسکین کا ساماں فراہم کیا گیا…… 25 ستمبر کی مانند انہی خیالات اور لہجے کی حامل جمعہ 16 اکتوبر کی تقریر نے کتاب تاریخ کا ایک اور صفحہ پلٹ دیا پہلی مرتبہ پاکستان کا ایک سویلین اور آئین و جمہوریت کا دلدادہ لیڈر کھلے عام نہایت درجہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو اس کے عین آئینی اقدامات کے خلاف للکار رہا ہے…… ایوان حکومت میں بوکھلاہٹ کا عالم جلسے کے انعقاد سے پہلے بھی تھا بعد میں ردعمل اور بھی سخت ہو گیا…… جمعہ کے روز جلسے سے قبل شیڈول سے ہٹ کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا لیا گیا…… بقول شخصے پارلیمنٹ کو ایک سیاسی جلسے کے مقابلے میں لاکھڑا کیا…… اپوزیشن والے اس چال کو بھانپ گئے…… ان میں سے چند ارکان فوراً وہاں جا پہنچے…… قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم اپوزیشن کے جلسے سے قبل لتے لینے کے لئے تقریر کیا چاہتے تھے کہ ہال ’گو نیازی گو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا…… جناب عمران کو سب کچھ بھول کر وہاں سے نکلتے ہی بنی…… اگلے روز پارٹی کی ٹائیگر فورس کے اجلاس میں نوازشریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف سارا غصہ نکالا…… جلی کٹی سنائیں …… واپس لا کر جیل میں ڈال دوں گا وی آئی پی سلوک نہ ہو گا…… سبحان اللہ سچ کہا کہنے والے نے عمران خان کے پاس جیل کی دھمکیاں دینے کے علاوہ کچھ بچا نہیں ……  بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے شیخ رشید نے پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے کہا ہے مسلم لیگ (ن) پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور موصوف کے خیال میں یہی بہتر ہو گا…… پہلے آپ نے نوازشریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کے جن میں صدر آزاد کشمیر بھی شامل تھے خلاف غداری مقدمہ دائر کر کے کون سی کمائی کر لی…… الٹا منہ کی کھانا پڑی…… بے معنی وضاحتوں پر اتر آئے…… اس مرتبہ یہ شوق بھی پورا کر کے دیکھ لیجئے…… یہ پرویزی ہتھکنڈے اب کسی کام آنے والے نہیں …… ”کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد“ کے مصداق پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسوں کی تحریک کا پہلا پڑاؤ آج بے نظیر بھٹو کے خلاف سانحہ کارساز کے خلاف کراچی میں ہو گا…… اس کے بعد اتوار کو کوئٹہ میں …… پھر چل سو چل…… پاکستان کا کوئی اہم مقام یا شہر چھوڑا نہیں گیا جہاں عوام سے براہ راست رابطے اور گوجرانوالہ کے شہریوں کی مانند ان کے اضطراب کو طوفان کی لہروں سے آشنا کرنے کا پروگرام نہ ہو…… تاآنکہ لاہور اور پھر لاہور تا اسلام آباد مارچ کی باری آ جائے گی…… کچھ کا خیال ہے یہ لمحہ آنے سے پہلے ہی صفائی ہو جائے گی…… بعض کہتے ہیں ایسا نہ بھی ہوا حکومت کا اعتبار خاک میں مل جائے گا…… جیلوں کی دھمکیاں دینے کی بجائے مذاکرات کی پیشکشوں پر اُتر آئے گی…… تب تک ’اوپر‘ والوں کا موڈ معلوم نہیں کیا ہو گا…… مریم نواز نے پرسوں کے جلسے میں کہا عمران ان پر زیادہ تکیہ نہ کرو صفحہ الٹنے میں دیر نہیں لگتی…… ایسا گر نہ بھی ہوا بحران کا آئینی اور جمہوری حل نکالے بغیر چارہ نہیں ……


ای پیپر