ستم کی سیاہ رات چلے
18 اکتوبر 2020 (11:25) 2020-10-18

 ناموسِ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے لیے جان نچھاور کرنے والوں میں ایک اور گہر پارے کا اضافہ، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خانؒ۔ دہشت گردی کی آڑ میں بیس سالہ جنگ اسلام کو زک پہنچانے، کمزور کرنے کا ہدف لیے ہوئے تھی۔ اسے چھیڑنے والوں (بش ودیگر) نے اس کا کھل کر اقرار بھی کیا۔ روس اور کمیونزم سے نبردآزما ہونے کے بعد علیٰ الاعلان اسے انہی خطوط پر اسلام کے خلاف استوار کیا۔ اسلام پر نقب لگانے کو قرآن پاک، شان رسالتؐ اور صحابہ کرامؓ بھی دشمنان دین کے نشانے پر رہے۔ اسلام کی روح تک پہنچنے، قرآن فہمی، شریعت پر عمل پیرا ہونے کا اہم ذریعہ حیات صحابہؓ ہی ہے۔ دفاع صحابہ رضوان اللہ علیہم کے لیے دیوانہ وار، پروانہ وار اٹھنے اور سب کو اٹھا کھڑے کرنے کے ’جرم‘ میں مولانا عادل کو رتبہئ شہادت پر فائز کردیا گیا!

 اتنے ناداں تو نہ تھے جاں سے گزرنے والے

 ناصحو! پند گرو!ہ راہ گزر تو دیکھو! 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، افضل البشر بعد از انبیاء! ثانی اثنین! جن کے ڈھائی سال خلافت کے، ارتداد کے فتنے، جھوٹی نبوت کے دعوے داروں کا قلع قمع کرنے میں بے مثل استقامت سے گزرے۔ اسی پامردی کا نتیجہ آنے والے دور میں تین براعظموں پر اسلام کا جھنڈا لہرایا جانا تھا۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لشکر سے لے کر دور فاروقیؓ تک اور بعدازاں روم و ایران کی سلطنتوں کو الٹنے والے انہی صحابہئ کرامؓ کے لشکر تھے۔ کل اور آج روم وفارس کے سینے پر مونگ دلنے والے! خلافت راشدہ، جو آنے والے تاقیامت ادوار میں امت کی رہنمائی کے لیے، حکمرانی کی سبھی جہتیں دکھانے کو (ہر نوع کے اتار چڑھاؤ اور آنے والی آزمائشوں، گروہوں کے اعتبار سے) منارہئ نور ثابت ہوئی۔ نبیئ کریمؐ، سراجاً، منیراً، پوری انسانیت کے لئے یکساں طور پر منبع نور ہدایت ہوئے۔ (سبا۔26) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہ کامل کی طرح پوری روشنی وصول کرکے، تاریک راتوں میں سامان ہدایت کیا۔ جماعت صحابہ رضوان اللہ علیہم نے نور نبوت قبول کرکے سولر پینل کی طرح ایمان کی قوت وحرارت کو زندگی میں رواں دواں کردیا۔ سیرت وکردار کے وہ بے مثل نمونے جنہوں نے مسجود ملائک ہونے کا حق ادا کردیا۔ دنیا آج تک ویسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آج اخلاق کی بدترین گراوٹوں، پاتال کو چھوتی دنیا، ایسے ذی شان کرداروں کا تذکرہ بھی تاریخ سے مٹا دینا چاہتی ہے جو انہیں آئینہ دکھائیں۔ سو یہ اسی آئینے پر سنگ باری ہے جو 20 سالوں میں یہاں تک آن پہنچی ہے۔ 

شان صحابہ رضوان اللہ علیہم پر دیوانہ وار اٹھنے والے پے درپے مظاہرین کے غیرمعمولی جلوسوں نے دشمنان دین کو کف آلود کردیا۔ قوم کا واضح پیغام تھا کہ دریدہ دہنی کی ادنیٰ ترین گنجائش اس سرزمین پر نہیں دی جائے گی۔ یہ اسی پر ردعمل کا اظہار ہے۔ اگرچہ یہ تسلسل ہے چن چن کر ملک کو علم کے کوہ گراں، غیرمتنازع علماء سے محروم کرنے کا۔ بڑے بڑوں کے بیانات، ’یہ کردیں گے، وہ کردیں گے‘۔ زخموں پر نمک ہی چھڑکنے کے مترادف ہے، کیونکہ آج تک کوئی قاتل کبھی پکڑا نہیں گیا۔ ہمہ نوع گستاخان وقاتلین، امریکا یورپ فوری طور پر برآمد کردیے جاتے ہیں۔ وہاں کی شہریتیں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ اگلی واردات تک ایک سناٹا چھایا رہتا ہے۔ 

یہ مدارس پر حملے ہی کی ایک جہت ہے۔ جرأت مند، بے خوف قیادتیں ابھرنے نہ پائیں۔ دو چار دن بیانات کی بھرمار ہوگی۔ ’یہ دشمنوں کی سازش ہے۔ فوری گرفتار کریں۔ کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ ملک کو غیرمستحکم کرنے…… فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ہے …… ملزمان کے عزائم ناکام بنا دیں گے۔ بھارت کروا رہا ہے۔‘ یہ سب اشک شوئی، بہانہ سازی، دھیان ہٹانے بہلانے کے طریقے ہیں۔ جانے والا تو باذن اللہ مراد کو پہنچ گیا۔ دس ہزار میں ایک اور عاشق کا اضافہ ہوگیا جو اسی راہ سے پہلے گئے تھے۔ پاکستان اللہ کے ہاں کیا ثبت کروا رہا ہے؟ بے حد وحساب سیکورٹی پر مامور ادارے، مخبری پر چوکس ایجنسیاں، ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی کمائی پر پلنے والے اہلکار جو قیمتی اثاثوں کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، سب کہاں ہیں۔ ایک ہزار صفحات پر محیط، تحریک پاکستان کی تاریخ پر مبنی کتاب (نوجوانوں کو نظریہئ پاکستان پر استوار مملکت کی جڑ بنیاد سے آگاہی دینے کو) سپرد قلم کرنے والے کو ہم نے سپرد خاک کردیا؟ (یہ تو صرف ایک علمی جہت کی جھلک ہے!) یہ ملک اب ناچنے گانے والوں ہی کو قوم کا اثاثہ گردانتا اور باور کرواتا رہتا ہے۔ قد آور عالم شخصیات کو (گالی کے انداز میں) مولوی کہنا، گورا سکھا گیا تھا۔

یہ سانحہ، یکے از ’تحائف‘ ہے دہشت گردی کی امریکی جنگ کا جو ہمارے گنج ہائے گراں مایہ کچھ چاٹ گیا اور کچھ لاپتگی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ بنگلادیش کی پے درپے دور پورٹیں (دیگر مسلم ممالک میں بھی) ہر جگہ اس عالمی جنگ کی ڈھائی قیامتوں کا پتہ دیتی ہیں۔ ایک تو عالمی حقوق انسانی کی کمیٹیوں کے ہوتے ہوئے یہی اہل دین کی جبری گمشدگی یا پولیس مقابلوں کا خاندانوں کو ویران کردینے والا المیہ۔ دوسرا، اب یکایک اٹھنے والی خواتین پر سفاک حملوں کی لہر۔ پاکستان ہی کے مناظر بنگلادیش میں دہرائے جارہے ہیں۔ وہاں بھی جنوری تا ستمبر رپورٹ ہونے والے ایک ہزار خواتین کو نشانہ بنانے والے حملے، جن میں سے 208 اجتماعی حملوں کے کیس تھے۔ درندوں کے ریوڑ کھلے پھر رہے ہیں۔ شقاوت، بے ضمیری، درندگی کھلے بندوں یوں ٹوٹ پڑی مسلم معاشروں میں؟ اسلام جو عورت کے باب میں تحفظ، حیا، غیرت سے عبارت ہے۔ اب پلان یہ ہے کہ پہلے عورت کو زن سے نازن کردو۔ سستا، عریاں کردو۔ کھلا چھوڑ دو۔ اختلاط کے سارے دروازے کھول دو۔ سوشل میڈیا پر حرص وہوس کی آگ بھڑکا دو۔ خوداعتمادی، آزادی، خودمختاری کے نام پر اسے قدرتی، فطری، غیور محرم محافظوں سے محروم کردو۔ تحفظ کو دقیانوسیت کا لبادہ اوڑھا دو۔ ایسے میں لڑکیاں لڑکے (جو گھروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹی ہوسٹلوں میں والدین نے پلاٹ اور زیور بیچ کر، پیٹ کاٹ کر بھیجے) آدھی رات کو سالگرہ پارٹیوں سے ہلاگلا کرکے تاریک راہوں میں موٹرسائیکلوں پر سوار 15,10 سال تا 25 سال کے دس نوخیز غنڈوں کے نرغے میں آگئے۔ جو کراچی یونیورسٹی ملازمین ہی کے سپوت تھے! کھلے عام مطالبہ ہوا گاڑی کے شیشے کھٹکھٹاکر کہ ’لڑکی نکالو، لڑکی نکالو!‘ بمشکل تمام بچ بچاکر ہانپتے کانپتے، ٹویٹروں پر اپنی ہولناک کہانی سنانے کے لائق ہوئے ٹھکانے پر پہنچ کر۔ یہ سارے ملکی مناظر کس ’تبدیلی‘ کے عکاس ہیں؟ لڑکیاں والدین نے کس برتے پر یوں بے یار ومددگار،

غیروں کے ہاتھ بلاسوال، بلاپرشس چھوڑ رکھی ہیں؟ ان کا کوئی سردھرا نہیں جو کم عمری اور نادانی میں نتائج وعواقب سے آگاہ کرنے والا ہو؟ آخرت کی تو بات ہی کیا ہو، یہاں تو دنیا بھی تباہ ہورہی ہے! 

سیاست، اودبلاؤ کی ڈھیری کا منظر پیش کررہی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اودبلاؤ (Otter) دوپہر تک دریا سے مچھلیاں پکڑتے رہتے ہیں۔ پھر ان کی ڈھیریاں لگاکر ایک ایک ڈھیری کے آگے بیٹھ جاتا ہے۔ پھر یہ خیال کرکے کہ حصے برابر نہیں لگے اٹھ کر لڑنے لگتے ہیں۔ مچھلیاں ملاکر پھر دوبارہ ڈھیریاں لگاتے ہیں۔ یہی ہوتا رہتا ہے کہ اتنے میں شکاری ان کا شورشرابا سن کر آجاتا ہے اور انہیں بھگاکر مچھلیوں پر قبضہ کرلیتا ہے! پاکستان تو ازل سے اسی منظر کا شکار ہے! ایک مرتبہ پھر اودھم مچا ہوا ہے! ادھر عالمی بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ پاکستان معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انہی ڈراؤں دھمکاؤں بیچ ہم عالمی ساہوکاروں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہتے ہیں۔ حکومت عوام نچوڑنے، ان کی جیبیں پھاڑنے پر لگی ہے۔ پھل سبزیوں کی برآمدی سر ٹیفکیٹ فیس یکایک 300 سے 2500 روپے کردی، ملکی برآمدات کی کمر پر لات رسید کردی! رہے عوام تو وہ اب سبزی پھل کے بھاؤ اور پھل تصاویر یا اشتہاروں میں دیکھ کر پیٹ بھر لیتے ہیں عالم تصور میں۔ آٹا تک پہنچ سے باہر اور حد درجے ناقص چل رہا ہے۔ امریکا نے افغانستان سے تو انخلاء کی تیاری کرلی، کرسمس گھر جاکر منائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکا نیٹو اکٹھے ہی نکلیں گے۔ یہ باجا بجاتے کہ: بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے؟ ہمارے ہاں سے ان بلاؤں کا انخلا، کب اور کیسے ہوگا جو سلیمانی ٹوپی اوڑھے ہمیں اپنے نرغے میں لیے ہوئے ہیں؟ FATF کا حالیہ فیصلہ، معاشی گرفت سخت تر! ’ڈومور‘ کے لامنتہیٰ مطالبات۔ ریموٹ کنٹرول غلامی!

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے


ای پیپر