حق حکمرانی کا فیصلہ ہونے کو ہے
18 اکتوبر 2020 (11:14) 2020-10-18

وطن عزیز آج کل سیاسی بھونچال کی زد میں ہے۔ ان بچوں کے لیے جو پرچی لے کر میڈیا میں اینکرز بنے ہیں یا قدم بڑھاؤ کی مہم میں شامل ہوئے ہیں۔ عرض ہے کہ دہائیوں سے یہ تماشا عوام کے آگے۔ اب ایک چیز ماضی کے برعکس ہے جو طاقتوں کو روندتی نظر آئی وہ سوشل میڈیاہے جس نے آزادیئ اظہار کو اوج ثریا پر پہنچا دیا۔ اب حکومت کو لفافہ دینے کا بھی کچھ فائدہ نہیں رہا لوگ سمجھدار ہیں سب جانتے ہیں جھوٹ کا کاروبار زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ ملک اگر ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں، درآمد شدہ مشیروں، ٹائیگر فورس اور آرڈیننس کے ذریعے ہی چلانا ہے تو بیورو کریسی پارلیمنٹ، آزاد منش فیصلہ کاروں کو امانت کر کے دفنا دینا چاہیے۔جب جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہو گی تو یہ بھی کام کرسکیں گے۔ خواجہ برادران کی ضمانت کے فیصلہ پر سپریم کورٹ کے ریمارکس نیب کے خاتمے کے لیے کافی  ہیں۔ وفاقی و پنجاب حکومت تو وطن عزیز پر قرب قیامت کی علامتیں لگنے لگیں۔ وزراء، مشیر اپنے قلم دان اور کارکردگی چھوڑ کر اپوزیشن نامہ اور جگتیں سنانے لگے جبکہ مہنگائی، بے روز گاری، لاقانونیت، بدعنوانی، نا اہلیت، جھوٹ اور سب کچھ حکومتی سطح پر اس سے پہلے اس سر زمین کے باسیوں نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ موت بھی مہنگی ہو گئی یا پھر موت آسان اور زندگی ناممکن ہو گئی۔ ماضی سے سیکھ کر آئندہ فیصلے کرنا ہی قومی اور انسانی ارتکاء کا متقاضی رہا ہے۔ 1999ء کے مشرف کے آئین شکنی کے بعد نواز شریف اور فیملی کو دیس نکالا دینا نوا زشریف سے زیادہ حکومت کی ضرورت تھی کیونکہ ایشیا کے سب سے بڑے رہنما سندھ کے جناب بھٹو کو سولی چڑھا کر آج تک سیاسی طور پر دفنایا نہ جا سکا لہٰذا مشرف پنجاب میں نئے بھٹو کے متحمل نہیں تھے اور نواز شریف اینڈ فیملی بیرون ملک بھیجنا ان کی مجبوری تھی۔ اسی بہانے انہوں نے بین الاقوامی دوستوں کو خوش کر لیا۔ نوازشریف خود کہتے ہیں کہ ہمیں تو کوئی پوچھتا نہیں تھا محترمہ لندن آئیں اور ہمارے ساتھ میثاق جمہوریت کیا جس کو عمران خان مک مکا کہتے رہے۔ جو حمید گل کے کندھے، ایمپائر کی انگلی اور عسکری قیادت کی گود سے گودکی چین اورحمایت کو جدوجہد کا سفر کہتے ہیں، مک مکا نہیں کہتے۔ 2013ء کے انتخابات میں تیسرے اور 2018ء کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر تھے اور 

یہ سب کچھ خفیہ اور علانیہ مدد کے باوجود تھا۔ 

2018ء میں حکومت میں آئے۔ اب تک سوائے انتقام، یوٹرن، خود ستائشی کے کچھ نہیں کیا۔ 72سالوں میں اگر کچھ اچھا ہوا اس کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔ کیا پی ٹی آئی کے ورکر کے ذہن میں تھا کہ شیخ رشید، شہباز گل، فیاض الحسن چوہان ان کا دفاع کریں گے۔ کدھر گئے وہ گھر، روزگار، نوکریاں اور 10ڈاؤننگ سٹریٹ کی باتیں۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے لیکن مجھے افسوس ہے کہ اب اداروں کا بھرم بھی جاتا رہا۔ 

آقا کریم ﷺ کے پا س ایک آدمی آیا جس میں دنیا داری کی چند خرافات تھیں اس نے کہا آقاؐ …… کوئی ایک عادت چھوڑ سکتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو (مفہوم) دراصل جھوٹ سب برائیوں کی جڑھ ہے مگر صد افسوس اور تف موجودہ حکمرانوں پر جھوٹ کو اپنا طرہئ امتیاز بنا لینا، یوٹرن کو اپنا کارنامہ اور ڈھٹائی کو پہچان بنا لیا پھر کیا ہوا کہ آج وطن عزیز کے عظیم اداروں کی عزت داؤ پر ہے۔ میرے دوست ابرار بھٹی نواز شریف کے سیاسی مخالف ہیں مگر اب وہ عمران خان کے سخت خلاف ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ پیپلزپارٹی کو نظر انداز کر کے ہم نے اس کا چناؤ کیا مگر اس نے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو وزیراعظم اور رہنما بنا دیا۔ دراصل آج زمینی حقائق یہی ہیں کہ موجودہ حکومت کی نا اہلیت، کرپشن، بے حسی، ڈھٹائی، غلط فہمی، خود ستائشی نے بلاول بھٹو، مریم نواز، نواز شریف، زرداری کی مقبولیت میں ہوشربا اضافہ کر دیا۔ آج حکومت ہر موضوع پر جھوٹی اور اپوزیشن سچی دکھائی دینے لگی۔ حکمران سابقہ حکمرانوں کو چور کہتے ہیں مگر خود یہ کفن چور ثابت ہوئے۔ یہ اپوزیشن کو ڈاکو کہتے ہیں مگر لوگ ان کو ان سے بدتر سمجھتے ہیں۔ 

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے 1986ء میں جب لاہور فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں جلسے تھے تو پاکستان کی آبادی 9 کروڑ تھی آج صرف پنجاب کی آبادی 12 کروڑ ہے جس میں 16 اکتوبر کا جلسہ ہو گیا۔ بلاول بھٹو،مریم نواز، مولانا فضل الرحمن و دیگران کا یہ تاریخی جلسہ ہے مگر یاد رہے کہ یہ جلسہ احتجاج جدوجہد محض حکومت کے حصول کے لیے نہیں حق حکمرانی کے فیصلے کے لیے ہے۔ اگر نواز شریف کو صرف حکومت چاہیے ہوتی تو ان کی حکومت جاتی ہی نہ اور 2018ء میں بھی وزیراعظم ہوتے یہ بات چوہدری نثار، شیخ رشید اور اعجاز شاہ کہہ چکے ہیں۔ 

عمران خان اگر زندگی میں اخلاقی ٹرننگ پوائنٹ لے سکتے ہیں تو نواز شریف سیاسی ٹرننگ پوائنٹ پر ڈیمو کریٹک اور اصولی سیاست دان کیوں نہیں ہو سکتے۔ عمران کرے تو ذاتی مسئلہ کوئی کرے تو مجرم۔ وزیراعظم کنونشن سنٹر میں اجلاس بلائے تو کورونا کی کوئی پروا نہیں اور اگر اپوزیشن جلسہ کرے تو کورونا آ گیا ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر آج انتخابات ہوں تو پنجاب میں مریم نواز پی ٹی آئی کی ضمانتیں ضبط کروا دے گی بلکہ پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ بلاول بھٹو سندھ اور جنوبی پنجاب میں تہہ و بالا کر دیں گے۔ بلوچستان ملے جلے موسم کا رجحان جبکہ کے پی کے میں جماعت اسلامی مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی اور آزاد پی ٹی آئی کو ماضی بنا دیں گے جو دانشور ہر بات میں ڈیل کی کوڑی لاتے ہیں۔ بھول جائیں کہ نواز شریف، مریم، بلاول، آصف زرداری اور مولانا کوئی ڈیل کریں گے اب فیصلہ حق حکمرانی کا ہو گا ورنہ یہ جدوجہد بھی سیاست کے بازار حسن سے مختلف نہیں ہو گی۔ 

انسانی، سماجی و سیاسی بین الاقوامی ارتکاء اپنے راستے پر تیزی سے چل رہا ہے۔ وطن عزیز میں حق حکمرانی کا فیصلہ ہونے کو ہے۔ 1947ء میں ملک بنا تھا تب سے اظہار رائے کی آزادی کی جدوجہد جاری ہے۔ بھلا ہو زرکر برگ اور سوشل میڈیا متعارف کروانے والوں کا۔انٹرنیٹ، ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب والوں کے ایجاد کرنے والوں کا جنہوں نے  لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دی، دنیاکے علوم ایک مٹھی میں دے دیئے۔ اب فیصلہ آخری فتح اور آخری مکا عوام کا ہو گا۔ جلسہ کامیاب ترین، منظم ترین تھا، رکاوٹوں کے باوجود لاکھوں لوگ تھے۔ چلئے! 5 ہزار تو تھے ہی جو عمران خان کے وعدے کے مطابق استعفیٰ دینے کے لیے کافی تھے۔ عمران خان کہتے ہیں سب ڈاکو اکٹھے ہو گئے خود کیا قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں یا ان کے گردبلکہ یہ خود بھی کیا کوئی بات کرنے کے قابل ہیں۔ اب وطن عزیز کے 90 فیصد لوگ ان کا اور وطن کا اکٹھے چلنا ناممکن سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی اور محترمہ بینظیر کے جلسے اور جدوجہد کا کوئی مقابلہ نہیں مگر حق حکمرانی کا فیصلہ نہ ہو سکا لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ 

یہ شیدے، گل، چوہان، مراد سب شامل واجے ہیں۔ اب ان کا دور ماضی بن گیا اب حق حکمرانی کا فیصلہ ہونے کو ہے۔


ای پیپر