لاہور: حفیظ سینٹر میں لگی آگ بے قابو، 100 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر
18 اکتوبر 2020 (10:27) 2020-10-18

لاہور: عینی شاہدین کے مطابق حفیظ سینٹر میں آگ لگنے کا واقعہ صبح 6 بجے پیش آیا۔ تاجروں نے الزام عائد کیا ہے کہ امدادی کارروائیاں بروقت شروع نہ ہونے کی وجہ سے 100 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

اس وقت فائر بریگیڈ کی 33 گاڑیاں آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسنارکل کے ذریعے چھت پر پھنسے افراد کو اتارا گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں تاخیر کی وجہ سے آگ نے شدت اختیار کی جس سے ان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے حفیظ سینٹر میں آتشزدگی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ انتظامیہ اور ریسکیو 1122 آگ پر قابو پانے کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھائیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنا پہلی ترجیح ہے، انتظامی افسران فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور چھت پر موجود افراد کو سب سے پہلے ریسکیو کیا جائے۔

سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ حفیظ سینٹر میں لگی آگ کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کر رہا ہوں۔ آگ پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل مہیا کئے ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے بعد نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا۔ ہماری اولین ترجیح آگ سے گردونواح کی عمارتوں کو بچانا ہے، ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کرتے ہوئے آتشزدگی سے زخمی افراد کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔

ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ عمارت کی دوسری منزل پر کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ آگ بجھانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ سول ڈیفنس کا عملہ حفیظ سینٹر کے قریب سیکیورٹی کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔ حفیظ سینٹر کی سیکیورٹی رینجرز اہلکاروں نے سنبھال لی ہے اور عام شہریوں کو اس علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

ادھر سی سی پی او عمر شیخ بھی ریسکیو انتظامات کا جائزہ لینے حفیظ سنٹر پہنچے اور کہا کہ پہلے فرنٹ پورشن پر آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حفیظ سینٹر سے 25 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس پانی کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شہریوں کو آتشزدگی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ بلڈنگ میں موجود سامان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا ہے۔

ادھر خبریں ہیں کہ صوبائی وزیر اطلاعات ڈاکٹر یاسمین راشد صورتحال کا جائزہ لینے موقع پر پہنچیں اور جیسے ہی میڈیا نمائندوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہاں موجود تاجر بھپر گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آگ لگی تو صبح سے کوئی وزیر یا حکومتی نمائندہ ہماری داد رسی کرنے نہیں آیا لیکن اب کسی کو فوٹ سیشن کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاجروں کے اس رویے سے صوبائی وزیر غصے میں وہاں سے چلی گئیں۔


ای پیپر