اے این ایف کی رانا ثنا اللہ کے ٹرائل کی درخواست مسترد
18 اکتوبر 2019 (13:52) 2019-10-18

لاہور: انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے ممبر قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 نومبر تک توسیع کر دی کرتے ہوئے رہنما (ن) لیگ کا ٹرائل شروع کرنے کی اے این ایف کی درخواست مسترد کر دی ۔

انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں رانا ثنا اللہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کر کے ریکارڈنگ کی جا رہی ہے، جس پر رانا ثنا اللہ کے وکیل نے کہا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسیکیوشن کی طرف سے آئے ہیں۔جج نے موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے شخص سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟۔موبائل فون سے ریکارڈنگ کرنے والے وکیل نے بتایا کہ میرا نام عمر گجر ایڈوکیٹ ہے اور میں رانا ثنا اللہ کے ساتھ ہوں۔

اے این ایف پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ کر کے ڈبنگ کرتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔جج نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ریکارڈنگ نہ کریں ورنہ حکم دیں گے کہ عدالت میں 5 سے زیادہ بندے نہ ہوں، باہر والا کام باہر کریں اور عدالت والا کام عدالت میں کریں۔ اے این ایف پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں بھی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے تاہم عدالت نے رانا ثنا اللہ کا ٹرائل شروع کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔جج خالد بشیر نے کہا کہ بطور ڈیوٹی جج فرد جرم عائد کر کے ٹرائل شروع نہیں کر سکتا۔

جج نے اے این ایف کے تفتیشی افسر عزیز اللہ سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موبائل فون کا اپنا نمبر ہے یا آفیشل؟۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ یہ میرا ذاتی سیل فون نمبر ہے اور اس کے علاوہ میرا کوئی نمبر نہیں۔عدالت نے رانا ثنا اللہ اور تفتیشی افسر کو موبائل فون ڈیٹا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ن لیگی رہنما کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 نومبر تک توسیع کر دی۔


ای پیپر