مارچ کا آغاز سندھ سے ہی کیوں؟
18 اکتوبر 2019 2019-10-18

یاد نہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان پر کون سا احسان کیا تھا جس کے عوض کپتان خان نے انہیں مین سیاسی اسٹیج فراہم کردیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ سیاسی طور پر زند اور اہم ہو گئے ہیں۔مشرف مین اسٹریم پارٹیوں کونے لگانا چاہتا تھا، اس لئے نے مولانا فضل الرحمان کو مرکزی سیاسی اسٹیج دیا۔ مشرف اپنے اس تحرک سے آگاہ تھے۔عمران خان مین اسٹریم پارٹیوں کو غیر اہم بنانا چاہتاہے لیکن انہیں شاید نہیں معلوم کہ اس ے صرف مذہبی جماعتوں کے ہی دروازے نہیں کھلیں گے، بلکہ مذہبی بیانیہ بہت ساری چیزوں کو بدل ڈالے گا۔ یہ معاشرے کا وہ حصہ ہیں جنہیں اگر جگہ ملے تو پھردوسری سیاسی جماعتوں کی طرح آسانی کے ساتھ سیاسی طریقوں سے جھکایا نہیں جاسکتا۔ یہ وہ نقطہ ہے جس کی وجہ سے ملک کی دو بڑی پارٹیاں گھبرائی ہوئی بھی ہیں اور کنفوز بھی۔

ان سیاسی جماعتوں میں اس وجہ سے بھی پریشانی ہے کہ ملک بھر سے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے، وہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے تک وہیں قیام کریں گے ۔ سوال یہ کہ حکومت کے جانے کا کیا طریقہ ہوگا؟ ان ہائوس تبدیلی؟ اس بتدیلی کا ایک طریقہ وہ ہے جو وزیراعظم گیلانی اور نواز شریف کے موقعہ پر آزمایا گیا کہ عدالت بیچ میں آئی۔ پھر حکمران جماعت کو ایوان میں اپنا قائد ایوان (وزیراعظم) تبدیل کرنا پڑا۔ اگر یہ نہیں، تو کیا وزیراعظم خود نئے انتخابات کا اعلان کریں گے؟ یا عبوری یا قومی حکومت بنائی جائے گی؟ وہ بھی کیسے؟ کوئی تو بیچ میں پڑے گا۔

اس بات کی کیا یقین دہانی یا ضمانت ہے کہ مولانا کے کامیاب دھرنے کے بعد یہ سب کچھ ہو جائے گا؟ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس پلان سے کچھ مختلف ہو۔

خیال ہے کہ اگر مولانا عمران خان کو گرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ وزیراعظم کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے۔یہ ان کی پرانی خواہش بھی ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کراچی پریس کلب میں اس کا اظہار بھی کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مولانا نے امریکی سفیر کے ساتھ اس مقصد کے لئے لابنگ بھی کی تھی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی کوئی مذہبی جماعت حکومت میں نہیں آئی، یہ درست ہے کہ مذہبی کارڈ کو مختلف حکومتیں گرانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔گزشتہ چند برسوں میں مذہبی جماعتیں مزید غیر متعلقہ اور غیر اہم ہوئی ہیں۔

جب ریاست پاکستان کی مختلف حکومتیں اپنے قانونی جوا ز کے لئے مذہب کو استعمال کرنے لگیں تو مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے بھی وہی زبان بولنا شروع کیا۔ لہٰذا مذہبی جماعتوں کے پاس مذہبی رنگ اور ذائقہ کا چورن بیچنے کے لئے کم چیزیں رہ گئیں۔یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں قرارداد مقاصد اور اسلام کے تحفظ یا اسلامی قوانین عزم کرتی ہیں اور بعد میں کوشش بھی کرتی ہیں، یوں مذہبی جماعتوں سے مذہبی نعرہ چھن جاتا ہے۔ عمران خان نے تو براہ راست ریاست مدینہ کا نعرہ دے رکھاہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں ریاست کے ساتھ تعاون اور جوڑ توڑ کرتی رہی ہیں۔ جس کے بعد ان جماعتوں کے اکثر مطالبات ریاست پورے کر دیتی ہے۔

ایسے موسم میںکیامولانا فضل الرحمان دھرنے کے دورانیہ کے علاوہ کوئی مرکزی اسٹیج لے پائیں گے؟۔ اگر وہ اسلام آباد کا لاک ڈاؤن بھی کرلیتے ہیں، عمران خان کی حکومت کو گرا بھی لیتے ہیں، وہ مقبول حمایت یا ووٹ حاصل نہیں کر سکتے کہ وہ اقتدار میں آنے کا دعوا کریں۔

بعض مولانا کے مائنس پوائنٹ ہیں۔ ایک یہ کہ مولانا کی سیاسی تحریک ایک عہد میں ہورہی ہے جب سیاست میں مذہبی جماعتیں انحطاط اور مندی کا شکار ہیں۔ جماعت اسلامی کبھی بااثر مذہبی سیاسی جماعت تھی۔ ضیا ء الحق کی حمایت کر کے دیوالیہ ہوگئی۔ اپنے سیاسی قلعہ کراچی سے بیدخل ہو گئی۔ آج جماعت اسلامی اپنے طلباء ونگ کے سنیئرز کی برانچ بن کر رہ گئی ہے۔ دوسری مذہبی سیاسی جمعیت علمائے پاکستان جو کہ بریلوی سیاست کی نمائندگی کرتی ہے وہ بھی رفتہ رفتہ مر چکی ہے۔ دوسرے یہ کہ جمہوریت کے ایک عشرے نے مولانا کو غیر متعلق بنا دیا۔

لیکن مولانا کے پاس بعض پلس پوائنٹ بھی ہیں۔ گو کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ گومگو کا شکار ہیں۔اپوزیشن جماعتیں اگر تحریک میں مکمل طور پر شامل نہیں بھی ہوتی، وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے ساتھ ہے۔ مولانا واحد رہنما ہیں جو کپتان کو دھرنے کی کڑوی گولی کھلا سکتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کو کھلائی تھی۔ دونوں کا سیاسی بیس خیبر پختونخوا ہے۔ لہٰذا ان کے خلاف بعض اقدامات چاہنے کے باوجود حکومت نہیں کرپائے گی۔تیسرا پلس پوائنت یہ ہے کہ کہ تاجر برادری اس کی طرف ہے کیونکہ معیشت کوڈاکیومنٹ کرنے اور ٹیکس کی وصولی کے معاملے اس برادری کی حکومت سے ٹھنی ہوئی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ مدرسوں اور مارکیٹ کا ملاپ کسی بھی حکومت کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ایسا آخری بار بھٹو کے خلاف ہوا تھا۔

ایک بہت بڑا سوال ہے کہ اقتدار کا راستہ پنجاب سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ جہاں ان کی موجودگی بہت کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان پنجاب سے گزرنا چاہتے ہیں۔ وہ مارچ کا آغاز سندھ سے کر رہے ہیں۔ سندھ میں صوبائی حکمران جماعت ان کی سہولت کار بنے گی۔ یعنی آغاز پروقار طریقے سے ہو جائے گا۔ یہ صورتحال کے پی کے سے آغاز کرنے کی صورت میں نہیں بن سکتی تھی۔ دوسرا یہ کہ بیک وقت سندھ پنجاب اور کے پی کے میں سرگرمی ہوگی، جس سے مولانا کی اپیل اور مقبولیت کا ملک گیر تاثر بنے گا۔ ایک اور اہم بات جو اس حکمت عملی کی وجہ سے سامنے آئے گی، وہ یہ کہ مولانا کو اپنی تحریک کو طول دینے میں مدد ملے گی۔ یعنی قافلے سندھ سے روانہ ہو کر پنجاب سے گزریں گے، اس کے بعد اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ وقت کی طوالت سیاسی حکمت عملی میں اہم ہوگی۔


ای پیپر